3/09/2005

یوم نسواں

کل کا دن ،۸ مارچ،خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا،ماجد کی طرف سےمجھے یہ ای میل وصول ہوئ ملاحظہ ہو "کارخانہ دنیا میںخوبصورتی کا امتزاج اور ضرورت آدم کو پورا کرنے کے لئے حوا معرض وجاد میں آئ۔انسانیت چلی زندگی عجیب نشیب و فراز سے گزرتی آگے بڑھنے لگی۔ جب عورت کی تلخی دیکھی تو نوح کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے سے انکار کر دیا جب صبر دیکھا تو فرعون کے ساتھ پوری زندگی بسر کر دی۔عجب نہ سمجھ میں آنے والا یہ کارواں چلتا ریا۔یہی عورت خدیجتہ اکبریؓ بنی ،فاطمہ الزھرؓ بنی ،ام المصائب زینب سلام بنی جس نے آج کی عورت کو درس دیا کہ قید میں ہو تو زندگی کیسے گزرتی ہے اگر سفر مصائب سے بھر پور ہو تو کیسے کڑے گا۔دربار یزید میں خطبہ کیسے دیتے ہیں۔ آج مختلف جگہوں پر سیمینارمنعقد ہو رہے ہو نگے جس میں مردوں سے گھروں میں پٹنے والی عورتوں٘ کا ذکر،بس اسٹاپ ،اسپتال میں ہونے والے ناروا سلوک،زچگی کے دوران مرنے والی خواتین کی تعداد پر مباحثے ہو نگے اور وہ سب درست ہو گا،،،،،،،،،،،، مگرصرف ایک سوال کیا یہ سب کچھ اسی عورت کا کیا دھرا نہیں ہے؟؟ اگر بیٹے کی صحیح تربیت ماں کرے تو اپنی بیوی کو وہ بیٹا کیوں مارے،اگر بہنیں اپنے بھائی کو بہن کی عزت سمجھا دے تو وہ گلی میں دوسروں کی بہن کو کیوں چھڑے،بیٹی اگر باپ کو بیٹی بن کر دکھا دے تو وہ کیوں مارے۔۔ بحرحال عورت اگر اچھی تربیت کرے تو اچھا نتیجہ ملے گا۔اس لئے کسی سیا نے نے کہا ہے کہ اگر ایک مرد خراب ہو تو ایک مرد خراب ہر گا مگر ایک عورت خراب ہو دگئی تو پوری نسل تباہ ہو جائے گی۔آج بیٹھ کر جلسے جلوس کرنے والی اگر یہ بات سمجھ لیں کہ سب کچھ ان ہی کی مرہوں منت ہے تو یہ سب کارنامے اور جلسے جلوس نکالنے کے بجائے گھر کو ٹائم نیں تو اس سب کی کبھی نوبت نہ پڑے۔۔ آج ان عورتوں کے اپنے بیٹے کسی کی بہن کو،بیٹی کو،بہو کو گلی میں چھیڑتے ہونگے،مگریہ اخبار کی زینت بننے کے شوق میں سڑکوں پر نکل پوری عورت برادری کو شرم سے سر جھکانے پر مجبور کررہی ہیں۔ہم یہی پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ جن مردوں پر یہ آج کیچڑ اچھال رہی ہیں کیا وہ کسی عورت کا شوہر نہیںہے؟کسی ماں کا بیٹا نہیں ہے؟کسی بہن کا بھائی نہیں ہے؟اگر ہےتو پھر اسی عورت کی تر بیت کی کمی،اسکے عذاب کا سبب نیتی ہے۔یا آج کا مرد ٹیسٹ ٹیوب بےبی ہے"۔ ہمارے ٹیچر بیرسٹر جمیل(پاکستان کے مشہور بیرسٹر) نے ایک با ر کلاس میں ایک واقعہ سنایا تھا کہ امنے زمانہ طالب علمی میں جب وہ برتانیہ میں مقیم تھے تودوران سفر(زمین دوز ٹرین میں) ایک اسٹیشن پر ایک خاتون شلوار قمیض میں ملبوس ٹرین میں سوار ہوئی تو ایک انگریز نے اسے اپنی جگہ بیٹھنے کے واسطے دے دی جبکہ اس وقت اور بھی بہت سی اس کی ہم وطن خواتین ٹرین میں موجود تھیں پوچھنے پر اس نے کہا کہ یہ لوگ اپنی خواتین کااحترام کرتے ہیں اس وجہ سے میں نے اسے اپنی سیٹ دی ہے اور دوسرا ہمارے عورت برابری مانگتی ہے لہذا اب جو پہلے آئے اسے سیٹ ملے اور بعد میں آنے والا کھڑا ہو۔۔۔ ؕ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔