3/08/2005

آزادی نسواں

وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دُروں
ضرب کلیم میں جہاں اقبال کا یہ شعر ہے اس سے اگلی نظم "">آذادی نسواں"کے نام سے یہ تحریر کی
اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں یہ زہر ہے وہ قند
کیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں، مردانِ خرد مند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی ¿ نسواں کہ زمرد کا گلوبند

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔