3/26/2010

گھر داماد



نکاح ناموں میں ایسی بھی شرائط ہوتی ہیں!


9 تبصرے:

  1. ايسا لکھنا زيادتی ہے البتہ ساس سسر کی خدمت کرنا يا اُن کے پاس رہنا بُری بات نہيں ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. تو وکیل بابو ذرایہ بتائیں کہ عدالت مین اس ناجائز شرط کو چیلنج کیا جائے تو انصاف کی امید ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. ویسے جس شوہر نامدار نے اس شرط پر بھی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کا ورد کر لیا اس کی ہمت، محبت، چاہت، خلوص اور قربانی و ایثار کو داد نہ دینا بھی سراسر نا انصافی ہو گی :)

    جواب دیںحذف کریں
  4. وطن عزیز میں شادی کے نام پر جو سوداگری ہوتی ہے اس کو جانتے ہوئے اس سے کڑی شرائط کا موجود و منظور ہونا بھی ناممکن نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. اپنے سے اوپر مالی لحاظ سے لوگوں ميں شادی کا شوق ہو گا تو ايسے ہی ہو گا

    جواب دیںحذف کریں
  6. جی چیلنچ کیا جا سکتا ہے کوئی بھی اس قسم کی شرط نہیں لگ سکتی! بلکہ کردیا ہے چیلنج!!!۔
    اچھآ سودے باری تو تب ہوتی ناں جب کوئی امیر فیملی ہوتی دونوں غریب ہیں!۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. جب دونوں‌برابر کے ہیں پھر بھی لڑکے نے قبول کر لیا اور اب چیلنج کر رہے ہیں۔ قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہتے ہوئے اندھے تھے یا لڑکی کے خیالوں میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ کچھ نظر ہی نہ آیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. کوئی حرج نہیں ہے اگر لڑکا اپنے ساس سسر کی خدمت کرے تو،کیونکہ لڑکی بھی تو اس کے ماں پاب کی خدمت کرتی ہی ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔