Pages

3/26/2010

گھر داماد



نکاح ناموں میں ایسی بھی شرائط ہوتی ہیں!


9 تبصرے:

Rehan نے لکھا ہے کہ

Amazing

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

ايسا لکھنا زيادتی ہے البتہ ساس سسر کی خدمت کرنا يا اُن کے پاس رہنا بُری بات نہيں ہے ۔

DuFFeR - ڈفر نے لکھا ہے کہ

تو وکیل بابو ذرایہ بتائیں کہ عدالت مین اس ناجائز شرط کو چیلنج کیا جائے تو انصاف کی امید ہے؟

Raja Ikram نے لکھا ہے کہ

ویسے جس شوہر نامدار نے اس شرط پر بھی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کا ورد کر لیا اس کی ہمت، محبت، چاہت، خلوص اور قربانی و ایثار کو داد نہ دینا بھی سراسر نا انصافی ہو گی :)

خرم نے لکھا ہے کہ

وطن عزیز میں شادی کے نام پر جو سوداگری ہوتی ہے اس کو جانتے ہوئے اس سے کڑی شرائط کا موجود و منظور ہونا بھی ناممکن نہیں۔

پھپھے کٹنی نے لکھا ہے کہ

اپنے سے اوپر مالی لحاظ سے لوگوں ميں شادی کا شوق ہو گا تو ايسے ہی ہو گا

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

جی چیلنچ کیا جا سکتا ہے کوئی بھی اس قسم کی شرط نہیں لگ سکتی! بلکہ کردیا ہے چیلنج!!!۔
اچھآ سودے باری تو تب ہوتی ناں جب کوئی امیر فیملی ہوتی دونوں غریب ہیں!۔

Shekari نے لکھا ہے کہ

جب دونوں‌برابر کے ہیں پھر بھی لڑکے نے قبول کر لیا اور اب چیلنج کر رہے ہیں۔ قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہتے ہوئے اندھے تھے یا لڑکی کے خیالوں میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ کچھ نظر ہی نہ آیا۔

دعا نے لکھا ہے کہ

کوئی حرج نہیں ہے اگر لڑکا اپنے ساس سسر کی خدمت کرے تو،کیونکہ لڑکی بھی تو اس کے ماں پاب کی خدمت کرتی ہی ہے ۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔