ویسے جس شوہر نامدار نے اس شرط پر بھی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کا ورد کر لیا اس کی ہمت، محبت، چاہت، خلوص اور قربانی و ایثار کو داد نہ دینا بھی سراسر نا انصافی ہو گی :)
جی چیلنچ کیا جا سکتا ہے کوئی بھی اس قسم کی شرط نہیں لگ سکتی! بلکہ کردیا ہے چیلنج!!!۔ اچھآ سودے باری تو تب ہوتی ناں جب کوئی امیر فیملی ہوتی دونوں غریب ہیں!۔
جب دونوںبرابر کے ہیں پھر بھی لڑکے نے قبول کر لیا اور اب چیلنج کر رہے ہیں۔ قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہتے ہوئے اندھے تھے یا لڑکی کے خیالوں میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ کچھ نظر ہی نہ آیا۔
Amazing
جواب دیںحذف کریںايسا لکھنا زيادتی ہے البتہ ساس سسر کی خدمت کرنا يا اُن کے پاس رہنا بُری بات نہيں ہے ۔
جواب دیںحذف کریںتو وکیل بابو ذرایہ بتائیں کہ عدالت مین اس ناجائز شرط کو چیلنج کیا جائے تو انصاف کی امید ہے؟
جواب دیںحذف کریںویسے جس شوہر نامدار نے اس شرط پر بھی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کا ورد کر لیا اس کی ہمت، محبت، چاہت، خلوص اور قربانی و ایثار کو داد نہ دینا بھی سراسر نا انصافی ہو گی :)
جواب دیںحذف کریںوطن عزیز میں شادی کے نام پر جو سوداگری ہوتی ہے اس کو جانتے ہوئے اس سے کڑی شرائط کا موجود و منظور ہونا بھی ناممکن نہیں۔
جواب دیںحذف کریںاپنے سے اوپر مالی لحاظ سے لوگوں ميں شادی کا شوق ہو گا تو ايسے ہی ہو گا
جواب دیںحذف کریںجی چیلنچ کیا جا سکتا ہے کوئی بھی اس قسم کی شرط نہیں لگ سکتی! بلکہ کردیا ہے چیلنج!!!۔
جواب دیںحذف کریںاچھآ سودے باری تو تب ہوتی ناں جب کوئی امیر فیملی ہوتی دونوں غریب ہیں!۔
جب دونوںبرابر کے ہیں پھر بھی لڑکے نے قبول کر لیا اور اب چیلنج کر رہے ہیں۔ قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہتے ہوئے اندھے تھے یا لڑکی کے خیالوں میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ کچھ نظر ہی نہ آیا۔
جواب دیںحذف کریںکوئی حرج نہیں ہے اگر لڑکا اپنے ساس سسر کی خدمت کرے تو،کیونکہ لڑکی بھی تو اس کے ماں پاب کی خدمت کرتی ہی ہے ۔
جواب دیںحذف کریں