4/05/2009

پارٹی سرکار نہیں ہوتی غیر جابندار!

حکومت و ریاست! سیاست کا طالب علم ان دونوں کے فرق کو بہت بہتر طور پر بیان کر سکتا ہے! بڑے بڑے مفکر کی باتوں کی روشنی سے ان کے بارے میں آگاہ کر سکتا ہے! جس کے بارے میں ہم یہ ہی جانتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے مختلف ہیں اور ریاست کو حکومت پر فوقیت حاصل ہے، یہ ہم جانتے ہیں مگر حکومت میں شامل ہمارے حاکم نہ معلوم کیا سمجھتے ہیں؟ ویسے وہ جو سمجھتے ہیں عوام کو معلوم ہے مگر عوام سمجھ سمجھ کے نہ سمجھنے کی عادی ہے۔
ہم جمہوریت کے دلدادہ ہیں زبانی کلامی ہی سہی، حکومت بنانے والے عوام کے  ووٹوں سے آتے ہیں اس بات سے قطع نظر نہ تو ووٹ ڈالنے والوں کو اس بات کا یقین ہوتا ہے ہمارا ووٹ کوئی تبدیلی لائے گا اور نہ خود آنے والے اپنی کامیابی کو عوامی ووٹ کے مرہون منت جانتے ہیں۔ بہرحال حکومت میں آنے والے خود کو ریاست کا خادم نہیں مالک سمجھتے ہیں اور انتخاب کے نتیجہ میں حکومت جیتی ہوئی پارٹی بناتی ہے، جیتے ہوئے افراد نہیں! پارٹی جیتی ہے، حکومت بناتی ہے حکومت کرتی ہے! پارٹیوں کو شخضیات چلاتی ہیں، جودعوٰی نظریات کا کرتی ہیں!
پارٹی کی حکومت میں نوازہ پارٹی والوں کو جاتا ہے، عوامی حکومت ہو تو عوام کو نوازے! روشنیوں کے شہر کراچی میں ہم نے دیکھا کہ آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو اپنی درخواست جو آپ جسے بھی لکھے! جس میں بیان کردہ مسئلہ چاہئے میاں بیوی کی letter لڑائی ہو! علاقے میں پانی کی قلت ہو یا کوئی اور معاملہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی درخواست کے اوپری دونوں کونوں میں ایک طرف “جئے متحدہ“ اور دوسری طرف “جئے الطاف“ لکھا ہو۔ ورنہ درخواست سیکروٹنی کے وقت ہی درخواست کھڈے لائن لگ جاتی ہے۔ ہمیں خود درخواست وصول کنندہ نے یہ الفاظ “جلی“ حروف میں لکھنے کو کہا تھا!
پچھلے دنوں ایک نوکری کی درخواست ہماری نظروں سے گزری! درخواست گزار نے پوسٹ کے لئے ایک صوبائی وزیر کو مخاطب کیا تھا! کہ اُس نے فلاح فلاح نوکری کے لئے اپلائی کیا ہے اُسے وہ نوکری دلا دی جائے وجہ یہ کہ وہ پارٹی کی بہت مخلص کارکن ہے فلاں فلاں موقعے پر بہت قربانیاں دیں ہیں! لہذا اُس سے ذیادہ کوئی اُس نوکری کا حق دار ہی نہیں ہے! اسی طرح ایک منتخب ایم این اے کی جانب سے ایک سفارش نامہ اُن کی پارٹی عہدے والے لیٹرپیڈ پر دیکھا جس ایم این اے صاحب نے فریادی کو نوکری کا اچھا انتخاب اُس کی پارٹی سے وفاداری گردانا تھا! جناب کی سب سے اہم قابلیت یہ بتلائی کہ بی بی شہادت نے ان میں ایک ایسا جذبہ بھر دیا تھا کہ جناب نے میری نہایت عمدہ انتخابی مہم چلائی جس سے میرے حلقے کی سیٹ پارٹی کو حاصل ہوئی!! وزیراعظم صاحب کی ہمشیرہ کا ایک سفارشی لیٹر پیڈ تو ویسے بھی منظر عام پر آیا تھا پچھلے دونوں!
zardari چند ایک دفاتر میں بھی بہت عجیب صورت حال ہے افسران کے کمرے میں قائداعظم کی تصویر ہو یا نہ ہو بھٹو و بی بی کی تصویر ضرور ہو گی! سرکاری دفاتر میں ایسا نہیں ہونا چاہئے مگر ہو رہا ہے! سرکاری ملازمین کا کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو مگر دوران نوکری اُن کے موبائل پر کال آنے پر یا تو بی بی کی آواز میں “بھٹوزندہ ہے“ کے نعروں والی بیل بجتی ہے یا کسی پارٹی سونگ کی! ریاست پر حکومت پارٹی کرے تو ایسا ہی ہوتا ہے شاید!
تبدلی کی امید کیسے کی جائے جب گورنر جیسا غیر جانبدار عہدے پر فائز صوبے میں اپنی پارٹی کے جھنڈے گاڑنے کی بات گے اور جب خاص طور ہر صدر کی سیٹ پر فائز شخص جو ریاست کا سربراہ ہو آئینی طور پر (جس کے لئے لازم ہو کہ وہ غیر جانبدار ہو) وہ حکمران پارٹی کا شریک چیئرمین ہو! اور پارلیمنٹ سے خطاب میں ایسی تقریر کریں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو وہ خود کو پارٹی کا سربراہ پہلے اور ملک کا صدر بعد میں مانتا ہے تو کیسے ممکن ہے تبدیلی آئے گی!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔