آپ دنیا کی اچھی سے اچھی، درست و سچی بات کر لیں مگر آپ کو اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ایسے کئی افراد ہوں گے جو آپ کو غلط کہے گے! دوسری طرف اگر آپ دنیا کی نہایت بیہودہ و غلط و جھوٹی بات سُنے تو اُس لمحے ہر گز حیراں نہ ہو جب اُس کے حق میں کوئی بات کرے! کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں اچھی بات کے مخالف و غلیظ خیال کے ہامی بھی ہیں!
نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔۔۔ جو بات ہم اچھی سمجھتے ہیں، کسی اور کے نزدیک اس سے خراب چیز کوئی نہیں ہوتی۔۔۔ اور اسی طرح اس کے بر عکس۔۔
جواب دیںحذف کریںہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔۔۔۔
جب ابلیس نافرمان ہوا اور راندہ گیا تو اس نے انسان کو قیامت تک کیلئے بھٹکانے کی مُہلت مانگی جو اللہ نے عطا فرما دی ۔ ضرور اس میں کوئی حکمت تھی ۔ سو انسان کی پیدائش سے قیامت تک شیطان کے بہکائے ہوئے اچھی بات کی مخالفت کرتے رہیں گے ۔ اس میں گبھرانے کی بات نہیں ۔ قرآن شریف ترجمہ کے ساتھ پڑھا کیجئے
جواب دیںحذف کریںہم نے تو یہ سیکھا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنی فیملی کو وقت دیں۔ اگر آپ کے بچے سنور گئے تو آپ کامیاب ٹھرے۔ برے کو سدھارنے کی کوشش کریں اگر نہ مانے تو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔
جواب دیںحذف کریںاسی لیے کچھ لوگ میری تحاریر پڑھنے والے بھی نکل هی آتے هیں اور
جواب دیںحذف کریںاپ کی بھی
بس جی چھڈو درانتی کو دانت ایک طرف هوتے هیں اور زمانے کو دونوں طرف ـ
سر آپ نے بہت صحیح اور گہری تحریر لکھی ہئ ۔۔
جواب دیںحذف کریںترقی یافقہ اقوام کو دیکھیں تو وہاں بحص و مباحصہ میں بھی تعلیم جھلکتی ہے جبکہ یہاں بس شاعری ۔۔ لوگوں کو تو ان کے پاس جتنا بھی علم ہے بس اتنے پر ہی فخر ہو رہتا ہے جبکہ انسان تو ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے ۔