4/01/2009

ایک حقیقت!

آپ دنیا کی اچھی سے اچھی،  درست و سچی بات کر لیں مگر آپ کو اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ایسے کئی افراد ہوں گے جو آپ کو غلط کہے گے! دوسری طرف اگر آپ دنیا کی نہایت بیہودہ و غلط و جھوٹی بات سُنے تو اُس لمحے ہر گز حیراں نہ ہو جب اُس کے حق میں کوئی بات کرے! کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں اچھی بات کے مخالف و غلیظ خیال کے ہامی بھی ہیں!

5 تبصرے:

  1. نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔۔۔ جو بات ہم اچھی سمجھتے ہیں، کسی اور کے نزدیک اس سے خراب چیز کوئی نہیں ہوتی۔۔۔ اور اسی طرح اس کے بر عکس۔۔
    ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. جب ابلیس نافرمان ہوا اور راندہ گیا تو اس نے انسان کو قیامت تک کیلئے بھٹکانے کی مُہلت مانگی جو اللہ نے عطا فرما دی ۔ ضرور اس میں کوئی حکمت تھی ۔ سو انسان کی پیدائش سے قیامت تک شیطان کے بہکائے ہوئے اچھی بات کی مخالفت کرتے رہیں گے ۔ اس میں گبھرانے کی بات نہیں ۔ قرآن شریف ترجمہ کے ساتھ پڑھا کیجئے

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہم نے تو یہ سیکھا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنی فیملی کو وقت دیں۔ اگر آپ کے بچے سنور گئے تو آپ کامیاب ٹھرے۔ برے کو سدھارنے کی کوشش کریں اگر نہ مانے تو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. اسی لیے کچھ لوگ میری تحاریر پڑھنے والے بھی نکل هی آتے هیں اور
    اپ کی بھی
    بس جی چھڈو درانتی کو دانت ایک طرف هوتے هیں اور زمانے کو دونوں طرف ـ

    جواب دیںحذف کریں
  5. سر آپ نے بہت صحیح اور گہری تحریر لکھی ہئ ۔۔

    ترقی یافقہ اقوام کو دیکھیں تو وہاں بحص و مباحصہ میں بھی تعلیم جھلکتی ہے جبکہ یہاں بس شاعری ۔۔ لوگوں کو تو ان کے پاس جتنا بھی علم ہے بس اتنے پر ہی فخر ہو رہتا ہے جبکہ انسان تو ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔