ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 08/20/10

کاغذوں پرسلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار

جرمن آرٹسٹ سائمن کے کاغذ کر سلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار!!۔
















سیلابی پروپیگنڈہ

کچھ باتیں ہماری قوم کے مزاج میں بہت عجیب ہیں، یہ ناواقف ہیں یا نا سمجھ اس سے خدا ہی آشنا ہے۔ کچھ برائیاں ہم میں ہیں مگرحرکات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کچھ ہم خود میں دیکھانا چاہتے ہیں!
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سر سے پیر تک خود کو اور اپنوں کو بُرا ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں!اس بات کو میں نے پہلی بار تب محسوس کیا جب میں سعودی عرب گیا! پھر تب تب جب کوئی یار دوست یا رشتہ دار باہر سے آیا!!
سعودی عرب میں میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ معاشرتی برائیوں میں ہم سے ذیادہ مبتلا ہے مگر ایک خاص چیز جو اُن میں خوبی کی شکل میں ہے وہ برائی کی تشہیر نہ کرنا! وہاں ہمارے وہ عزیز جو بھٹو دور میں جا کر آباد ہوئے اور اُن کی ایک نسل وہاں ہی پروان چڑھی کی زبانی جو باتیں معلوم ہوئی اُنہیں سُن کر شکر ادا کیا کہ ہماری قوم عملا اتنی خراب نہیں! ہمارے ہاں یہ عام تاثر لیا جاتا ہے کہ سعودیہ میں ہیروہین کے اسمگلر کو موت کی سزا دے دی جاتی ہے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی! مگر ایسا وہ اپنے سعودی شہریوں کے ساتھ نہیں کرتے! اور نہ ہی اپنے اُن دوستوں کو جن کو وہ اپنا "جگری" مانتے ہوں! مگر باقی افراد کے لئے اُن کا قانون نہایت سخت ہے!! یہ بات ہم قریبی مشاہدے کی بناء پر کر رہے ہیں کہ ایسے ایک دو قصے ہمارے علم میں ہیں! باقی اگر آپ اُس معاشرے میں اجنبی ہیں تو لازم ہے کہ جرم سرزد ہونے پر آپ قانون کے شکنجے میں جکڑے جائے بغیر کسی رعایت کے۔
اس سے ملتی جلتی صورت حال مجھے تو کم از کم یورپ و امریکہ میں بھی نظر آتی ہے ایسے معاملات کا علم ہوا کہ مقامی پولیس اپنے ہم نسل کو دوران تفتیش کئی معاملات میں آسانیاں فراہم کرتی ہے جس میں معمولی جرم کی صورت میں گرفتار نہ کرنا یا تفتیش میں سست روی دیکھانا وغیرہ۔ مگر ہمیں اُن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ایسا نئی نسل ہی میں نہیں بلکہ بزرگوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسے کہ ایک بار کا قصہ یوں کہ اہم ایک بزرگ وکیل کے پاس بیٹھے تھے (کہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کو مل جاتی ہیں)، اُن کے ایک ہم عمر دوست و کلائینٹ آ گئے پہلے پہل تو اپنے بیٹوں کہ پاکستان سے پردیس ہجرت کر جانے کے عمل کو سراہنے لگے پھر ملک کے حالات کا رونا رویا یہاں تک ٹھیک تھا! اچانک کہنے لگے یہ ملک ان حکمرانوں سے نہیں چل سکتا انگریز ہی ٹھیک تھا!میں تو کہتا ہوں اب بھی اُن کو بلا کر حوالے کرو دیکھو کیسے ٹھیک ہو جائے گا! اس بات پر اُس سے جو بحث ہوئی وہ ایک خاص نقطہ پر جا کر بلا شبہ بدتمیزی کے ذمرے تک پہنچ گئی مگر نہ معلوم مجھے اُس پر افسوس نہیں ہے، اور  مجھے لگتا ایسے افراد مجھ سے خواہ وہ چھوٹے ہو یا بڑے! عالم ہوں یا جاہل!  میں بدتمیزی، خاص کر جو میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کو بُرا سمجھیں با حیثیت قوم، ہونا  اُن کا حق ہے!

بات کہاں سے کہاں نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ خود میں برائی کا احساس ہونا بُرا نہیں مگر اس کی یوں تشہیر اچھی نہیں! 2005 کے زلزلے میں یقین حکمران جماعتوں اور مختلف این جی اوز نے امداد کے سامان میں خُردبرد کیا مگر اس قدر نہیں کتنی آپسی دشمنی کی بناء پر تشہیر کی گئی اور یہاں سے خبریں بنا بنا کر عالمی میڈیا کے ذریعے بدنامی کمائی گئی تھی اب یہ حال ہے وہ بدنامی عالمی سطح پر بے اعتباری کی شکل میں مدد میں رکاوٹ کا روپ لیئے ہوئے ہے غیروں میں ہی نہیں اپنوں میں بھی اور وہی سیاست اب بھی جاری ہے!! سیلابی پروپیگنڈہ کے روپ میں کیا ایسے معاملات میں اپنوں کو گالی دے کر اپنا نام کمایا جا سکتا ہے؟جبکہ محسوس ہو کہ یہ گالی حقیقت کے بیان کے بجائے اندرونی نفرت کے زیراثر جھوٹ کا فروغ ہے! اور اس جھوٹ کے فروغ میں شعوری و لاشعوری طور پر شریک احباب بھی برابر کے شریک ہیں! پچھلے دنوں کراچی کے حالات خراب ہوئے تب بھی اور اب جب ملک میں سیلابی آفت نازل ہےتو بھی آپسی نفرت کے زیر اثر موبائل پر ایس ایم ایس کی شکل میں اور انٹرنیٹ پر ای میل و دیگر انداز میں خود اپنوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جا رہی ہے، نہایت افسوس تب ہوتا ہے جب اہل عقل بھی اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں! اب یہاں دینی حوالہ دوں گا تو کئی احباب کو خود کو مومن کی فہرست سے باہر کرنے پرتکلیف ہو گی!۔
(یہ تحریر عنیقہ ناز کی تحریر پر ایک "بے نام" تبصرے میں بلا ثبوت ہوائی اُڑانے پر لکھی گئی ہے، اُس تبصرہ میں فوج مخالف پروپیگنڈہ تھا! جس کی حمایت خود عنیقہ ناز نے ثبوت فراہم کئے بغیر کی!میرے علم کے مطابق اُس پورے تبصرہ میں صرف ایک بات سچی تھی کہ امدادی سرگرمی میں شامل فوجیوں کو ہنگامی حالات کے اختتام پر چند دن کی چھٹی دیی جائے گی! میں سمجھتا ہوں بے نام اور بے ہودہ تبصرے بلاگرز کو اپنے بلاگ سے ہٹا دینے چاہئے! یہ خود صاحب بلاگ کے لئے اچھا ہے)