اے این پی کا ایک کارکن اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا! اُس کے دوست نے کہا "اوئے سوتا کیوں نہیں؟"
“یار بس آج رات نہیں سونا!”
دوست "کیوں؟"
کارکن "یار کل رات خواب میں ایم کیو ایم کے بندے سے پھڈا ہو گیا تھا! تو میں نے اُس کی دُرگت بنادی تھی"
دوست " تو پھر اس میں نہ سونے والی کیا بات ہے؟"
کارکن "بھائی ڈر لگتا ہے کہیں آج رات خواب میں وہ بندے لے کر نہ آ جائے! یہ بھی خدشہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہ بن جاؤ!! اور امکان ہے کہ آپریشن کے نام پر رینجر و پولیس کا چھپاپہ نہ پڑ جائے"

“یار بس آج رات نہیں سونا!”
دوست "کیوں؟"
کارکن "یار کل رات خواب میں ایم کیو ایم کے بندے سے پھڈا ہو گیا تھا! تو میں نے اُس کی دُرگت بنادی تھی"
دوست " تو پھر اس میں نہ سونے والی کیا بات ہے؟"
کارکن "بھائی ڈر لگتا ہے کہیں آج رات خواب میں وہ بندے لے کر نہ آ جائے! یہ بھی خدشہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہ بن جاؤ!! اور امکان ہے کہ آپریشن کے نام پر رینجر و پولیس کا چھپاپہ نہ پڑ جائے"
(کراچی شہر میں گردش کرتا تازہ جوک، چوہے کے یونٹ انچارج والے لطیفہ کے بعد تازہ انٹری)
لوگوں کو تو اگ لگ گئی جناب
جواب دیںحذف کریں:-D
بلاگرز پی کے پر منفی اٹھارہ کی رینکنگ
:-D
hahaha,
جواب دیںحذف کریںbuchee'
اے این پی والے بھی کسی سے ڈرتے ہیں۔ حیرانی ہوئ یہ سن کر۔ یہ لطیفہ نہیں، کراچی میں پھیلے تعصب کی اعلی مثال ہے۔ اور جو اسے گردش میں رکھے ہوئے ہیں انکی اپنی عصبیت کی۔
جواب دیںحذف کریںچلو اس سے ثابت ہوا کہ ایک دہشت گرد دوسرے دہشت گرد اور کمینے سے بھی ڈرتا ہے‘ شاید ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننے کی وجہ سے۔
جواب دیںحذف کریںیہ سیا سی لطیفہ کونسے کراچی مین گردش رہا ہے ؟؟؟؟ ہم نے پڑھا نہ سنا۔۔۔
جواب دیںحذف کریںاچھا ہے کسی سے تو ڈرتے ہیں منشیات فروش