11/22/2006

رپورٹیں

ہم پاکستانیوں کا جن چند نئے الفاظ سے واسطہ پڑا ہے ان میں ایک لفظ ہے تھینک ٹینک!!!! یہ بھی وہاں ہی پائے جاتے ہیں!!!! جہاں کی فوج نہ صرف اپنے ٹینک بلکہ دیگر جنگی ساز و سامان لے کر مسلم دنیا پر چڑھ دو ڑے ہیں!!!!! ان تھینک ٹینکوں کے مالی معاونت خود امریکہ کرتا ہے اس میں کوئی شک شبہ نہیں!!! کہ ہے؟؟؟ یہ مالی مدد ذیادہ تر تعاون کی شکل میں کسی تیسرے کے ذریعے یا راستے سے کی جاتی ہے!!! کبھی براہ راست نہیں ہوتی!!!! رینڈ کارپوریشن بھی ایک ایسا ہی تھیک ٹینک ہے!! پچھلے دونوں اس کی دو ریسرچ رپورٹیں پڑھی!!! ایک “عوامی جمہوری اسلام - شراکت دار، ذرایعے اور تدابیر“ اور دوسری “نظریات کی جنگ“!!!!!

پہلی رپورٹ جسے شیرل بینرڈ نے نے مرتب کیا، اسے مرتب کرنے میں نیشنل سیکورٹی ریسرچ ڈویژن نے تعاون کیا!!! “دی سمتھ رچرڈ فانڈیشن“ نے اسے اسپانسر کیا!!! اور اس کی تیاری کے سلسلے میں مرتب کنندہ نے دیگر آٹھ افراد کا شکریہ ادا کیا ہے!!! تین ابواب میں مشتمل ہے یہ!!!! ریسرچ رپورٹ ابتدائیہ ، رپورٹ کا ایک مختصر خلاصہ، استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو ان کے مطابق نئے ہیں کے معنٰی!!! اور پھر رپورٹ ہے!!!!

رپورٹ کے پہلے باب میں ان معاملات کو دیکھا گیا یا اکٹھا کیا گیا ہے جن کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ان معاملات میں ہمارا ان سے اختلاف ہے!!! یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ ساتھ ہی ساتھ مسلم دنیا کو نظریات کی بنیاد پر چار گروہوں میں تقسیم کر کے ان کا مطالعہ کیا گیا ہے!! ایک بنیاد پرست (جس سے وہ خوف کھاتے ہیں!!! پیٹ بھر کر)، دوسرے “روایت پرست“، تیسرے “جدت پسند“ اور چوتھے “سیکولرز“!!! پھر ان گروہوں کو مزید دو دو حصوں میں رکھا ہے!!! اختلافی معاملات کی فہرست میں “جمہوریت اور انسانی حقوق“، “کثرت ازواج“، “جرائم کی سزا اور اسلامی نظام انصاف“، “اقلیتی آبادی“، “جہاد““۔ “خواتین سے متعلق عمومی قوانین( جیسے لباس، شوہر کا ان پر ہاتھ اٹھانا اور ان کی آزادی“ جیسے معاملات سے متعلق ان مسلمان گروہوں (ان کی تقسیم کے مطابق) کے خیالات ان خاص وجوہات یا دلائل (اسلامی نقطہ نظر سے) کی روشنی میں جو یہ گروہوں رکھتے ہیں درج کئے ہیں۔

دوسرے باب میں انہوں نے مسلمانوں کے ان گروہوں (اپنے طور پر جنہیں انہوں نے نظریاتی اور فکری طور پرتقسیم کیا ہے) کا مطالعہ کیا!!! اس میں “سیکولرز“ کو انہوں نے اپنا فطری ساتھی قرار دیا ہے، ان کی رائے ہے کہ ان کی ایک ہی کمزوری ہے کہ یہ لوگ مالی طور پر کمزور ہیں لہذا ان کی مدد کی جائے!!! اس کے علاوہ یہ ہی لوگ بنیاد پرستی (شائد اس سے مراد راسخ العقیدہ لوگ ہے) کے خاتمہ میں مدد ملے گی لہذا ان کے افکار کو فروغ کرنے میں ان کی مدد و تعاون کی جائے ہر سطح پر!!! جہاں تک بنیاد پرستوں کا تعلق ہے تو وہ ان کے نزدیک جدید جمہوریت کے دشمن ہیں!!! یہ لوگ مغربی اقدار اور مقاصد اور خاص کر امریکہ کے لئے خطرناک ہیں (یقین جانیں یہ ہی لکھا ہے)، لہذا یہ ہمارے اور ہم ان کے دشمن ( یہ بھی کہا ہے)!!! ساتھ ہی انہیں افسوس ہے کہ یہ لوگ تمام تر (جدید) وسائل کو استعمال کرتے ہیں!!! جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ ، کتب ، بلکہ ان کے اپنے اشاعتی ادارے ہیں!!! (جدید ذرائعہ کا استعمال اور پھر بھی بنیاد پرست؟؟) اپنے پیغام کو آسانی سے پھیلالیتے ہیں!!!! روایت پسندوں کو وہ بنیاد پرستوں کے قریبی سمجھتے ہیں اور جدت پسندوں کو ان کے جنہیں وہ اپنا فطری ساتھی سمجھتے ہیں اس رپورٹ یا ریسرچ کے مطابق!!!! لیکن پھر بھی ان کو الگ الگ ہی سمجھتے ہیں!!! بہرحال ان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا ہے!!! کہ کون کس طرح ان کے قریب اور کتنا؟؟ اور کون دور!!!

تیسرے باب میں وہ حکمت عملی واضح کی جس کی مدد سے وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں!!! کہ ان گروہوں میں کس کی مدد کرنی ہے کب اور کس طرح!!! اور کتنی!!! احادیث کی جنگ، حجاب پر نقطہ نظر!!! دیگر اگر قوت ہو تو یہ رپورٹ پڑھے کچھ سمجھ ناں تو سمجھ آتی ہے کیا یہ بھی بتانا!!! “نظریات کی جنگ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے !!! اس میں ان باتوں پر غور کیا گیا ہے کہ القاعدہ سے نظریات کی جنگ کیسے جیتی جائے!!! نوجوان کو اس سے کیسے متنفر کیا جائے!! وہ کیا باتیں ہے جن کی وجہ سے ایک کم عمر ان سے دور ہوسکتا ہے!!! مجھے کچھ یوں لگا اسے پڑھ کر کہ مسلم نوجوان میں سے جہاد (کچھ لوگ اسے دہشت گردی کہہ لیں) کا جذبہ ختم کرنے کے لئے ان کے خیال میں صوفی ازم، جنسی بھوک، بےراروی اور زندگی سے محبت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں!!!

پہلی رپورٹ قرین 90 صحفات اور دوسری بیس صحفات پر مشتعمل ہے!!! اگر وقت و قوت ہو تو ضرور پڑھے!!! اور رائے بھی دیں کہ آپ کیا کہتے ہیں

8 تبصرے:

  1. جنابعالی ۔ اس رپوٹ پر پريشان ہونے والی کوئی بات نہيں ۔ اللہ نے مسلمانوں کو قرآن شريف کے ذريعہ اسلام کے دشمنوں کی تدابير اور طريقۂِ واردات سے پوری طرح مُطلع کيا ہے ۔ پريشانی تو اس بات کی ہے کہ ہمارے بھائيوں کے پاس فضوليات کے لئے تو وقت ہوتا ہے ليکن قرآن شريف کو پڑھنے کيلئے وقت نکالنا ان کيلئے بہت مُشکل ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ یه دیکهیں که عقلمند لوگ اس نتیجے پر پہنچے هیں که اسلام کی روح کو مارنے کے لئيے زندگی سے محبت سیکس کی خواہش اور صوفی ازم ـ هم قرآن پڑهنے والے لوگ تصوّف اور صوفی ازم کے خلاف لوگ هیں ـ همارے نزدیک تصوّف هے هی غیر قرآنی چیز ـ اس کے اسلامی اور غیر اسلامی هونے کی بحث کی گنجائیش هی نہیں هے ـ
    ہماری بنیاد بہت مضبوط هے کسی بهی مولوی یا علامه کا گمراه کیا هوا آدمی ہم صرف اس بات پر لے آیا کرتے هیں که
    سب باتوں کو چهوڑو نه میری نه تیری اور نه کسی اور عالم کی آؤ قران بڑهیں ـ
    اور پهر سب بادل چھٹ جایا کرتے هیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. جناب میں نہ تو پریشان ہو نہ ہی مایوس!!!! بس یہ رپورٹیں اس لئے پڑھنے کو کہا کہ دیکھیں کہ یہ لوگ کیسے کیسے منصوبے بناتے ہیں اور ان پر کیسے ریسرچ کرتے ہیں!!! ہر پہلوں اور زاویے سے معاملے کا احاطہ کرتے ہیں!!! اور اپنی تئی اسے کامیاب بنانے کی جستجو بھی!!! ہم آپس میں لڑتے رہتے ہیں!!! ان رپورٹوں میں یہ لوگ ہماری اس ہی خامی کو استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کررہے ہیں!!!
    یہ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دیں کی مکمل سمجھ بوجھ حاصل کریں، قرآن، حدیث و سنت اور دیگر۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. یہاں حامد میر کا کالم بھی پڑھ لیں امریکن کیسے سیمنار کروا رہے ہیں!!!!

    جواب دیںحذف کریں
  5. مہرافشاںترمزی11/23/2006 04:02:00 PM

    جہاد فی سبیل اللہ میں جہاد فل قتال برحق ہے لیکن اس سے پہلے جہاد بلنفس کا حکم ھے پہلا جہاد ہمارا اپنے نفس کے ساتھ ہے کے جو اللہ نے حکم دیا اس پر عمل پیرا ہوں اور جس سے روکا رک جائیں پھر باری آتی ہے دوسروں کو تلقین کرنے کی اس کا بہترین طریقہ ہے ہمارا کردار،ہم جہاد کی صرف باتیں کرتے ہیں ورنہ ہمارے نفس کسی جہاد کے لیئے راضی نہیں ہیں،
    اب بات کرتے ہیں غیر مسلموں کی اسلام دشمنی کی تو اللہ فرماتا ہے تم اپنی چالیں چلو اور میں اپنی چالیں چلتا ہوں اور میں سب سے بڑا چال چلنے والا ہوں،
    نور حق ہے کفر کی کوشش پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
    ایک اور یہم بات اسلام اپنی بقا کے لیئے ہمارا محتاج نہیں، ہم اپنی بقا کے لیئے اسلام کے محتاج ہیں،
    اللہ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کے تم اگر اس دین پر عمل نہ کروگے تو ہم تمہیں مٹا کر اور لوگ لے آیئں گے جو اس پر عمل کریں گے اور اسے دنیا مین پھیلائیں گے،

    جواب دیںحذف کریں
  6. روابط کا شکریہ۔ جلد ہی ان رپورٹوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی کوشش کروں گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. یہ پچھلا تبصرہ میرا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔