آج خاور کے بلاگ پر “شیخ لوگ“ کے عنوان سے پوسٹ لکھی تھی!!! جس میں اُس نے اردو کے وکی پیڈیا کا لنک دیا !!! شیخوں پر کوئی مضمون نہ ملا!!! یہ معاملہ میں نے اُس کے سامنے رکھا تو بھائی نے وہ لنک دے دیا!!! مگر اس دوران( یعنی مضمون کی تلاش اور لنک کی فراہمی ) میں خیال آیا کہ کیوں ناں جاٹ کے متعلق دیکھا جائے!!! تو بجلی کا ایک جٹکا لگا!!! تعارف کچھ یوں تھا!!! ۔
“جاٹ کے لغوى معنى ہیں گنوار یا غیر تہذیب یافتہ !جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریبا 50 گوتوں کا ذکر کیا ہے!! گجر اور آرایں لوگوں کو جاٹ خود میں شامل نہیں کرتے! یہ لوگ انتھائی تعصب کرنے والے مغرور ہوتے ہیں!! تعلیم ان کا کچھ بھى نہیں بگاڑ سکتى! ہنر مند لوگوں سے حقارت کا سلوک کرتے ہیں اور ان کو کمى اور کمینہ کہہ کر پکارتے ہیں خود سے طاقتور کے سامنے انتہائی فرمانبردار اور کمزور پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں کى طرح سالہا سال دشمنیاں پالتے رہتے ہیں! قاتل اور اشتہ دارى رشتہ دار باعث فخر ہوتا ہے پاکستان میں ان کى اکثریت ہونے کى وجہ سےبہت سے ہنر مند لوگ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گیے ہیں بے ہنر جاٹوں کے زیر انتظام ملک پاکستان کے کاروبارى حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اب جاٹوں کے لڑکے یورپ میں موچى نائی اور راج مزدور لوگوں کى کام کے لیے منتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“۔
کافی تعصب سے بھرپور تحریر ہے!!! کمال ہے بھائی!!! لازمً کسی ایسے اللہ کے بندے نے لکھی جو جاٹوں کو اچھا نہیں سمجھتا!!! بلکہ شائد نفرت کرتا ہے!!! چلو ٹھیک ہے کرتا رہے !!! جاٹ یا جٹ (چونکہ میری گوت گھمن ہے) ہونے اور کراچی میں “انجمن بہبود جٹاں“ کا ایک ایکٹو ممبر کی وجہ سے یہ تحریر اور بھی بُری لگی!!! باقی ذاتوں کے بارے میں ان ہی اصولوں کی روشنی میں لکھا گیا تو خوب کام ہوا!!!! تیار ہو گیا انسائکلوپیڈیا!!! غیر جانبداری ضروری ہے!!! ذاتی آراء کو الگ رکھنا مشکل ہے مگر بڑے کام کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے!!!
یوں تو جاٹ قوم کے متعلق کتابوں کی صورت میں اور خود نیٹ پر( سرچ انجن یا کسی بھی انسائکلوپیڈیا میں jatt یا jat لکھ کر تلاش کر نے پر ) کافی سارا مواد موجود ہے!!! مگر یہاں میرا مقصد یہ نہیں کہ میں وضاحتیں پیش کرو!!! بس اتنا کہ مطالعہ بھی تعصب سے پاک ہی ہو تو اچھا ہے!!!! ۔
“جاٹ کے لغوى معنى ہیں گنوار یا غیر تہذیب یافتہ !جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریبا 50 گوتوں کا ذکر کیا ہے!! گجر اور آرایں لوگوں کو جاٹ خود میں شامل نہیں کرتے! یہ لوگ انتھائی تعصب کرنے والے مغرور ہوتے ہیں!! تعلیم ان کا کچھ بھى نہیں بگاڑ سکتى! ہنر مند لوگوں سے حقارت کا سلوک کرتے ہیں اور ان کو کمى اور کمینہ کہہ کر پکارتے ہیں خود سے طاقتور کے سامنے انتہائی فرمانبردار اور کمزور پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں کى طرح سالہا سال دشمنیاں پالتے رہتے ہیں! قاتل اور اشتہ دارى رشتہ دار باعث فخر ہوتا ہے پاکستان میں ان کى اکثریت ہونے کى وجہ سےبہت سے ہنر مند لوگ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گیے ہیں بے ہنر جاٹوں کے زیر انتظام ملک پاکستان کے کاروبارى حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اب جاٹوں کے لڑکے یورپ میں موچى نائی اور راج مزدور لوگوں کى کام کے لیے منتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“۔
کافی تعصب سے بھرپور تحریر ہے!!! کمال ہے بھائی!!! لازمً کسی ایسے اللہ کے بندے نے لکھی جو جاٹوں کو اچھا نہیں سمجھتا!!! بلکہ شائد نفرت کرتا ہے!!! چلو ٹھیک ہے کرتا رہے !!! جاٹ یا جٹ (چونکہ میری گوت گھمن ہے) ہونے اور کراچی میں “انجمن بہبود جٹاں“ کا ایک ایکٹو ممبر کی وجہ سے یہ تحریر اور بھی بُری لگی!!! باقی ذاتوں کے بارے میں ان ہی اصولوں کی روشنی میں لکھا گیا تو خوب کام ہوا!!!! تیار ہو گیا انسائکلوپیڈیا!!! غیر جانبداری ضروری ہے!!! ذاتی آراء کو الگ رکھنا مشکل ہے مگر بڑے کام کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے!!!
یوں تو جاٹ قوم کے متعلق کتابوں کی صورت میں اور خود نیٹ پر( سرچ انجن یا کسی بھی انسائکلوپیڈیا میں jatt یا jat لکھ کر تلاش کر نے پر ) کافی سارا مواد موجود ہے!!! مگر یہاں میرا مقصد یہ نہیں کہ میں وضاحتیں پیش کرو!!! بس اتنا کہ مطالعہ بھی تعصب سے پاک ہی ہو تو اچھا ہے!!!! ۔
تبصرے ()
یہ مضمون کس کا لکھا ہوا ہے یہ تو یقینن آّپ جانتے ہیں۔۔
اس پر پہلے جہانزیب نے لکھا تھا لنک درج ذیل ہے
http://urdujahan.blogspot.com/2005/02/blog-post_18.html
میں نے پڑھ کر نظرانداز کر دیا کہ کیا پتہ ان کے گاؤں میں کس جاٹ نے کیا کر دیا۔
خیر مجھے نہیں پتا تھا اتنے ساری جاٹ بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی اس مضموں کی صھٹ رد کرنے کے لئے کافی ہے۔
آپ نے آپنی گوت کھمن لکهی هے اس گوت میں بهی آپ کو کچھ باتیں فخر کرنے والي ملتی هیں تو کچھ دوسری بهی هیں ـ
کوئی فرد اپنی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوتا ہے مگر اس تحریر میں خامیوں کا ذکر نہیں بلکہ نفرت کا اظہار نظر آتا ہے!!!
ایسے کام تاریخ کے خوالوں سے لکھے جاتے ہیں!! کہاں لکھا ہے؟ کیوں لکھا ہے؟؟ لکھنے والے کا خود کیا مقام تھا؟؟؟ آیا اس کی شخصیت متنازعہ تو نہ تھی؟؟؟ آیا اس کی تحریر کو کس رنگ میں فروغ ملا!! خود جن کے بارے میں لکھا ان کی طرف سی کوئی جوابی تحریر لکھی گئی تھی؟؟؟ اگر ہاں تو اس کی اہمیت کیا تھی؟؟؟ اور کئی طرح کے اور کئی معاملات سامنے رکھے جاتے ہیں!!!
میری گوت کھمن نہیں گھمن ہے!! گ سے
مگر میرے بلاگ کی حد تک
میری تحریر میں جن لوگوں کا لکها هے یه جاٹوں کی آبادی کا تقریباً پانچ فیصد هیں ـ آپ بهی تو لکھ سکتے هیں ؟ آپ اس طرح کرین که باقی کے پچانوظ فیصد کے متعلق آپ لکهیں ـ
آئڈیا میں دیتا هوں ـکه جو غریبوں کو اناج ادهار دے دیتے هیں جن کے کهیتوں سے لوگ مکان لیپنے کے لئے مٹی اُٹها لاتے هیں ـ جن کے کهیتوں سے لوگ چارا اور سبزیاں کاٹ لاتے هیں ـ جو سفید پوش اور محفلوں کی جان هوتے هیں ـ
جو لوگوں کی صلح کروانے میں پیش پیش هوتے هیں ـ
بیوائیں اور یتیم بچیاں جن پر انحصار کرتی هیں ـ
آپ لکهیں ناں تصویر کا دوسرا اور روشن رخ ـ
ارے واہ واہ مجھے اپنی ذات کے بارے میں کیسی کیسی انفارمیشن مل رہی ہے۔
وزن دار اعتراض، جہاں تک میرا خیال ہے پیرس میں قیام کے دوران کسی جٹ نے بدتمیزی کی ہو گی جس کی وجہ سے آپ اتنے تپ گئے اور پہچھے گاوّں میں بھی کوی نا کوی جٹ ہوگا جس پر غصہ تو جو ایسے اترا ہے کہ جٹوں کو سواے جانور بیان کرنے کے کچھ نہیں لکھا اور کیا کتابوں میں ایسا لکھا ہے تو کتابوں میں اچھا نہیں لکھا تھا؟ خیر ذاٹی رائے بھی تعصب اور نفرت سے پاک ہو تو وقار کی علامت ہے۔
یقینن وکی کی افادیت بہت ہے مگر یہاں امریکہ میں وکی سے حاصل کیا گیا مواد سکول کالج کے کسی بھی نصابی کام میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور اس کی وجہ تو اب تک سب کو پتہ چل جانی چاہیے۔
وکی پڑھ کر اس کی معلومات کو حرف آخر سمجھنا انتہائی بے وقوفی ہوگی۔
معذرت اسلئے کہ ميں نے تبصرہ کرنے کيلئے مضمون پڑھنا ضروری نہ سمجھا ۔ بات بڑی سادہ سی ہے ۔ ايک انجنيئر جو مجھ سے پندرہ سال بڑے تھے اور فوج ميں کرنل رہ چکے تھے ان کو ميں نے پوچھا کہ جب آپ فوج ميں تھے تو آپ کی گاڑی پر يہ سٹِکر نہيں ہوتا تھا
Men at their best, Pakistan Army
مسکرا کر بولے
Those who are, they don’t need it
تو بھائی صاحبان آپ کيوں اپنا قيمتی وقت ضائع کر رہے ہيں ؟ انجيئرنگ کالج ہوسٹل لاہور کا ايک واقعہ سناتا ہوں ۔ ميرا ايک ہم جماعت جو جاٹ تھا مجھے کہتا رہتا تھا کہ تم کيا ہو ؟ ميں جاٹ ہوں تم گھٹيا نسل کے آدمی ہو ۔ جاٹ يہ ہوتے ہيں جاٹ وہ ہوتے ہيں وغيرہ ۔ ميں اسے کہتا کہ فضول بات مت کرو اور يہ بتاؤ کہ ميں تم سے اچھا ہو يا بُرا پڑھائی ميں بھی اور کردار ميں بھی ۔ ايک دن ہم دونو شام چائے کے وقت اکھٹے بيٹھے تھے تو کچھ لوگوں کے لڑنے کی آوازيں آئيں ۔ اس نے باہر جا کر ديکھا اور آکر کہا کہ ميرا نوکر کسی سے لڑ رہا ہے ۔ جب اس کا نوکر چائے لے کر آيا تو اس نے لڑائی کی وجہ پوچھی ۔ نوکر کہنے لگا ۔ سر ۔ ہم ہيں راجپوت ۔ جاٹوں ميں بہن کيا بياہ دی ہے کہ مصيبت مول لے لی ہے وہ کمينگی دکھانے سے باز نہيں آتے ۔ جب نوکر چلا گيا تو ميرا ہم جماعت کہنے لگا ۔ يار اجمل تم سچے ہو ۔ مجھے کئے کی معافی دے دو آئندہ ميں تمہيں تنگ نہيں کروں گا ۔
رہی بات وکی پيڈيا کی تو پہلے ميں اسے معلوما ت حاصل کرنے کيلئے ديکھا کرتا تھا مگر اب اس کی پڑتال کيلئے ديکھتا ہوں کيونکہ ميرے علم کے مطابق انگريزی وکی پيڈيا ميں بھی کئی جگہ حقائق کو مسخ کيا گيا ہے ۔ اگر اعتراضات بہت زيادہ ہو جائيں تو ايک اختلاف کا جملہ لکھ ديا جاتا ہے ۔ نہ غلط مضمون کو حذف کيا جاتا ہے اور نہ اس کی تصحيح کی جاتی ہے ۔
اپنا تبصرہ دیں