شاعر بھی ہیں پیدا، علما بھی، حکما بھی
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ
مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک
ہر ایک ہے گو شرِح معافی میں یگانہ
بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ ،
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضا مند
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
علامہ اقبال
تبصرے ()
ارے بھائی يا بھتيجے ۔ يہ وکيلوں نے کيا نوک جونک شروع کر دی ہے ۔ يہ کہيں وکيلوں ميں پھوٹ ڈال کر ان کی قوت کم کرنے کی سازش تو نہيں ؟
اپنا تبصرہ دیں