Pages

9/18/2005

مکالمے

تم “جیو“ ٹی وی دیکھتے ہو؟ ہاں! کیوں؟ دیکھو! وہ اپنی ہر نیوز سیگمنٹ کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کے نام یوں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ “جیو نیوز“، “جیو دنیا“، “جیو ٹریول“، “جیو انٹرٹینمنٹ“، “جیو کھیل“، “جیو کرکٹ“، “جیو ہاکی“ وغیرہ تو! ذرا سوچو! اگر وہ جرائم سے متعلق خبروں کے لئے ایک سیگمنٹ بنائے تو اس کا کیا نام رکھے گے؟ بھلا !کیا؟ “جیو جرائم“
××××××××××××
تم نے وہ اپنے صدر کا بیان سنا! ارے کس بیان کی بات کر رہے ہو! وہ تو ہر وقت ہی بیان دیتے رہتے ہیں؟ یار! وہ ویزہ اور دولت سے متعلق مظلوم خواتین پر جوالزام دھرا ہے ہاں یار نہایت بچگانہ بیان ہے شرم نہ آئی اسے۔۔۔۔۔ ہاں!ہاں!مگر کچھ معلوم ہے کیوں دیا ہے؟ کیوں دیا ہے؟ بھائی “پروفیشنل جیلسی“ہے کیا بکواس ہے یہ بیان اور پروفیشنل جیلسی؟ دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا! بھائی! یہ ان جی اوز اور صدر دونوں مغرب کے کہنے پر ملک میں “روشن خیالی“ عام کر رہے ہیں نا! ہاں تو پھر! اب! سمجھ جاؤ ایک فریق دوسرے کی کامیابی پر جیلس نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا!

8 تبصرے:

قدیر احمد رانا نے لکھا ہے کہ

اس چینل کا نام ہونا چاہیے بکواس ٹی وی ، ساری نورا کشتی دکھاتے ہیں یہ جیو والے

جہازیب نے لکھا ہے کہ

واہ واہ کیا تقابل کیا ہے روشن خیالی کا پڑھ کر مزا دوبالا ہو گیا۔۔

shaper نے لکھا ہے کہ

Shaib bhai! .... its so nice post... and proffessional jealesy wali baat i m still laughing

بدتمیز نے لکھا ہے کہ

زبردست مجھے ہمارے صدر محترم کے بیان کو پڑھ کر جتنا غصہ آیا تھا سب یہ مزےدار وجہ پڑھ کر دور ہو گیا۔

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

شکریہ آپ احباب کا! بہت بہت

_c=y نے لکھا ہے کہ

مزا آ گیا

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

شکریہ! درستگی کا

عتیق الرحمان نے لکھا ہے کہ

بہت خوب ! عمدہ تحریر ہے ویسے میں ایک اور وجہ سے بھی آپ کا شکر گزار ہوں جب کبھی اردو لائف کا اردو پیڈ صحیح کام نہیں کرتا تو میں آپ کے پیڈ پر لکھ کر کاپی کر لیتا ہوں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔