ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 11/05/06

سو افراد اور دو حملے

باجوڑ پر اب تک امریکہ دو بار حملہ کر چکا ہے!!! سو افراد اس میں شہید (جس کا دل کرے وہ ہلاک پڑھ لے) ہوئے!!! سارے پاکستانی تھے!! سارے کلمہ گو!!! دونوں مرتبہ پریڈیٹر جہاز میزائل مار گیا!!! ہم دیکھتے رہ گئے!!! یوں بھی نہیں بلکہ لوگ ہمیں دیکھتے رہ گئے!! یہ کیا کر رہے ہیں کہ کچھ بھی نہیں کر رہے!!! پہلا حملہ اسی سال جنوری میں!!! جس نے 17 افراد کی جان لی!!! اس حملہ پر شوکت سلطان پہلے تو یہ ہی معلوم کرتے رہے کہ یہ کیا ہوا!!!!  کہتے تھے کچھ تو ہوا ہے کیا یہ معلوم نہیں؟؟؟ پھر جو ہوا تھا اس پر احتجاج کرنا پڑ گیا!!! کہ جن پر دباؤ ہے ان کا دباؤ تھا بھائی عوام!!! ادھر سے جواب آیا (سینیٹر جان مکین  اور کنڈولیزا رائس کی زبانی) کہ بھائی!!! بلکہ بھائی نہیں کہا تھا اتحادی کہا ہو گا!!! معافی کے طالب ہیں مگر ایسا پھر ہوسکتا ہے!!!! اور پھر ہو گیا!!!
30 اکتوبر کو دوسرا حملہ ہوا!! علاقے کے لوگ بتاتے ہیں کہ پہلے دھماکے ہوئے پھر ہیلی کاپٹر پہنچے !!!بتانے والے بتاتے ہیں امریکی جہاز کافی دنوں سے علاقے کی پرواز کر رہے تھے!!! کیوں؟؟ کس کی اجازت سے؟؟؟ کیا حکومت نے اجازت دی تھی؟؟ اگر دی تھی تو کیوں؟؟؟ بین الاقوامی فضائی حدود کے قوانین کے مطابق تو سول جہاز بھی کسی ریاست کی اجازت کے بغیر اس کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا!!! پھر یہ جاسوس طیارے کیسے آتے جاتے رہے؟؟؟؟
سلطان صاحب کہتے ہیں کہ حملہ ہوا نہیں ہے ہم نے بندے (دہشت گرد) مارے ہیں!!! چلو مان لو وہ جو  کم عمر تھے!!! وہ جو جن کی اکثریت پاکستانی قانون کے لحاظ سے ابھی نا بالغ تھی!! کہ 17 سال سے کم عمر تھے!!! جن کے سینوں میں قرآنی آیات اور زبان پر قال قال رسول اللہ تھا!!! وہ جن کی راتیں اللہ کی یاد میں گزرتی تھی!! وہ جو تہجد گزار تھے!! وہ جن کی موت کے بعد بھی ان کے اسکول (مدرسے) سے اس کے جسم کے ٹکڑوں اور درسی کتابوں (وہ بھی جو قرآن پاک ، حدیث و فقہ پر مشتمل تھی) کے علاوہ کچھ نہیں ملا!!! وہ جن پر پچھلے  چار ماہ (جولائی) سے نظر رکھے جانے کا دعویٰ کیا پھر بھی ایک دھندلی سی بچوں کی پی ٹی کی ویڈیو کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا!!! وہ دہشت گرد ہی ہوں گے!!! کہ اگر آپ انکاری ہوئے تو بقول اپنے صدر اعلٰی مقام کے آپ جاہل و جھوٹے ہو!!! اور ایسا تو آپ نہیں چاہو گے کہ انہیں معصوم اور بچہ کہہ کر خواہ مخواہ جھوٹے بن جاؤ!!!! چوں کہ وہ دہشت گرد تھے لہذا ان کے تین ساتھی جو بچ گئے تھے ان کا سرکاری علاج بھی نہیں کیا گیا کہ کون دہشت گردوں کا ساتھی بنے!!!
ہمارے ایک دوست کہنے لگے یار جنوری کے حملے پر احتجاج کا جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو بہتر یہ معلوم ہوا کہ اس سے پہلے کہ ریاستی اقتداراعلٰی کا سوال اٹھے یار لوگ اسے ملکی خودمختاری اور آزادی کے بارے میں استفسار کریں!!! حکومت نے اسے اپنا کارنامہ بتادے!!!! جو مر گئے اب وہ تو نہیں بتانے والے کہ وہ گناہ گار تھے کہ نہیں!!!
چند نقاد کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ یہ کام امریکہ کا یوں بھی ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستانی فوج و حکومت  کا قبائلی علاقوں میں دینی گروہوں سے کوئی وزیرستان کی طرز کا معاہدہ ہو!!! جب سرحد کے گورنر جنرل اورک زئی کی کوشش سے ایسا معاہدہ ہونے جا رہا تھا!!! جب سرکاری اور قبائلی سطح پر اس کی قریب تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھی 29 اکتوبر کے اخبار اس بات کے گواہ ہیں کہ اگلے دن اس پر دونوں کی جانب سے  دستخط ہونے تھے!!! تو اتحادی دشمن نے وہاں پر میزائل داغ دیا!!! سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں کہ اگر حکومت کو کیا ضرورت تھی کہ وہ ایسے ہونے والے معاہدہ کو خراب کرتی جس طرز کے ایک معاہدہ کی وکالت وہ نیویارک تک کر آئی!!! یہ ان ہی کا کام ہے جن کی نظروں میں پہلا والا معاہدہ قابل اعتراض ہے!!!`````---```
قصوری صاحب کا اب یہ بیان کہ اگر ہم خود اگر ملک میں کاروائی نہیں کریں گے تو امریکہ خود کرلے گا حکمران ٹولے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے!!! افسوس صد افسوس!!!!
tag

پھتو!!! جاويد چوہدري کي نظر سے


,,,,,,,,,