جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟

ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات …

میڈیا، بلاگرز اور اردو

پاکستان میں خواہ پریس میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا اس پر اردو کی اجارہ داری ہے، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو الیکٹرونک میڈیا پر انگریزی کے شوقین ایسے اینکر ضرور ہونگے جو ولایتی اردو اور دیسی انگریزی بولتے ہیں۔ حد تو یہ کہ جسے ہم نمبر ایک انگریزی چینل مانتے تھے معلوم ہوا ہے اب اُس پر بھی چھ گھنٹے اردو کی حکومت ہوگی ، چی…

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟" "کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے" "ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے" "یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں" "بلکل" " میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں ا…

کمال ہو گیا

"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا" یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو ، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطو…

کمال ہو گیا

ایک منٹ کے عالم

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی ایک ہی اولاد تھی، بادشاہ اُسے زندگی کے دیگر میدانوں میں کامیاب دیکھنا تو چاہتا تو تھا ہی مگر ساتھ ہی اُس کی دلی خواہش تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ ایک بڑا عالم بن جائے لہذا اپس نے اپنے وزیر خاص کو سلطنت کے بڑے بڑے عالم بلانے کے لئے کہا۔ ایک مخصوص دن جب تمام عالم ایک جگہ جمع تھے تو اپنے لاڈلے…

بوٹیاں نوچنے والے!

بعض معاملات پر جان بوجھ کر چُپ رہا جاتا ہے مگر ایک کنکر بولنے پر مجبور کر دیتا ہے، جن معاملات میں بولنا چاہئے ہم اکثر اس خوف سے کہ سامنے والے کا اختلاف مجھ سے نفرت میں نہ بدل جائے خاموشی اختیار کر لیتا ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی بعض صورتوں میں خاموشی منافقت کے ذمرے میں آتی ہے، لیکن یہ عمل کئی اعتبار سے بہتر ہے۔ اگر ک…

ایک بار پھر کراچی اردو بلاگر میٹ اپ

کراچی کےاردو بلاگرز کی خواہش اور پُرزور مانگ کی بناء پر کراچی میں ایک بار پھر اردو بلاگرز کی ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لہذا کراچی کی کے اردو بلاگر سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شرکت کر کے ثواب کمائے۔ ممکنہ تاریخ 17 جنوری آنے والی اتوار اور جگہ ملیر میرا آفس ہے (جہاں پہلے ہوئی تھی)، دور رہنے والے افراد ٹیکسی والو…

گوگل تلاش۔۔۔۔۔

اردو محفل پر فخر نوید کی یہ پوسٹ اور نیٹ پر islam is پر گوگل کے ممکنہ تلاش کے الفاظ پر خاموشی پر چند مغربی بلاگرز کا رونا پڑھ کر خیال آیا کہ دیکھا جائے چند دیگر الفاظ پر گوگل کا ردعمل کیا آتا ہے۔ رزلٹ ذیل میں ہے! چند دیگر مثالیں جو آپ کو اچھی یا بری لگتی ہوں!۔

گوگل تلاش۔۔۔۔۔

یادش بخیر

یوں تو موڈ تھا آج پھر کچھ سانحہ کراچی پر لکھا جائے، اُن باتوں ، خیالات و تبصروں کو آپ سے شیئر کیا جائے جو اہل سانحہ کے ہیں! (وہ احباب کان کھڑے کر لیں جنھوں نے پہلی والی پوسٹ کے بعد ای میل کی تھیں) مگر گھر واپسی پر اپنے میٹرک کے دوستوں سے ملاقات نے موڈ تبدیل کر دیا! ماضی کی یاد نے آ پکڑا ہے، ماضی اتنا خوبصورت کی لگت…

چور تے کُتے

چور تے کتے رلدے پئے جے تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے کر لو بندوبست ہن اپنا نئیں تے سدا لئی جے کھپنا ٹٹجاوء گا ہر اک سپنا وکھرا لُچ کوئی تلدے پئے جے چور تے کتے رلدے پئے جے تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے خورے کاہدا شوق نے ایڈھا ملے ایہناں نوں ملک جو میڈھا ایہہ قصائی میں اک بھیڈا چھریاں سل تے ملدے پئے جے چور تے کتے رلدے پئے جے تیل ڈنڈاں نوں م…

قانونی امداد کیمپ برائے متاثرین سانحہ کراچی

سنی رہبر کونسل نے سانحہ کراچی کے متاثرین کے لئے ایک بولٹن مارکیٹ میں دیگر امدادی کیمپوں کے درمیان اپنا کیمپ لگایا ہے جس میں متاثرین سانحہ کے لئے مفت قانونی مشاورت کا انتظام موجود ہے! وکلاء کے پینل میں ندیم قریشی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) ، صفی الدین (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) اور شعیب صفدر گھمن (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) کے نام شامل ہے۔…

قانونی امداد کیمپ برائے متاثرین سانحہ کراچی

کراچی والے بمقابلہ اُلو کے پھٹے!

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں تازہ تازہ وکیل بنا تھا ہمارے سینئر ہم سے وکالت کا کام کم لیتے اور متفرق کام ذیادہ! یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا …

کراچی والے  بمقابلہ اُلو کے پھٹے!