3/16/2009

ایم کیو ایم کی قلابازی! وفاق دشمنی یا ۔۔۔۔۔۔۔

بھائی اس میں کوئی شک نہیں یہ پارٹی بہت اورگنائز ہے! اتنی کہ اگر یہ چوبیس گھنٹے پہلے فیصلہ کرے کہ کل کراچی میں پاور شو کرنی ہے تو مقررہ وقت پر آرام سے پانچ سے سات ہزار کا مجمع  لگا لیتی ہے! اگر یہ فیصلہ کرے کہ کراچی میں کسی دوسرے کا شو نہیں ہونے دینا تو وہ نہیں ہوتا خواہ اس کے لئے چالیس پچاس بندوں کی کیوں نہ قربان کرنے پڑے! اور اگر قائد “تحریک“ کسی کے گھر جانے کی خواہش کریں تو تھندر اسکوارڈ اُس بندے کی “تعزیت“ کا بندوبست کر دیتے ہیں!
آج اس جماعت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے! اول تو انہوں نے حکومت سے علیحدگی کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہتے ہیں اگلے 48 گھنٹے میں الگ ہو جائے گے! دوئم انہوں نے کہا ہے سندھ کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں! آیا ایسا کہیں ہوا ہے؟ اگر ہاں تو میڈیا میں کس کس چینل نے اس کی فوٹیج دیکھائی ہے؟ میری اپنے اُن کراچی بار کےدوستوں سے جو لانگ مارچ کے قافلے میں شریک ہیں سے بات ہوئی ہے وہ ایسی کسی بھی بات سے انکاری ہے! اُن کا کہنا ہے کہ جو چند نعرے لاگئے جارہے ہے وہ پاکستان کے ہیں جیسے “پاکستان بنایا تھا! پاکستان بچائے گے!“ “ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو“ اور سب سے ذیادہ “جینا ہوگا مرنا ہو گا، دھرناہوگا دھرنا ہوگا“۔ اگر آپ کو کوئی درست اطلاع ہو تو بتائیں!!
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اے این پی کے چند سیاستدان اور مولانا ڈیزل کیوں اسے پنجاب کی تحریک کہہ رہے ہیں؟ ایم کیو ایم سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟

4 تبصرے:

  1. ڈیزل کے متعلق میرے بلاگ پر ایک بڑا عمدہ تبصرہ آیا تھا جسے مجھے سنسر کرنا پڑا اور جسے میں یہاں شییر نہیں کر سکتا
    آپ چاہیں تو اسے دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کہنے والے نے کیا کہنا چاہا تھا
    :D

    جواب دیںحذف کریں
  2. ایک دو دن پہلے ایکسپریس میں خبر تھی کہ زرداری نے ایم کیو ایم کو سندھ کارڈ کھیلنے کی درخواست کی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. الطاف حسین کی خدمت میں ایک نعرہ پیش ہے
    قائد ہم شرمندہ ہیں
    آپ ابھی تک زندہ ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. یہ شرمناک فعل ایم کیو ایم کے علاوہ پی پی پی کے پیر مظہرالحق کا بھی ہے جس نے ٹی وی پر اس مؤقف کا دفاع بھی کیا لیکن وہ کوئی دلیل نہ دے سکا ۔ مجھے ایک پرانی کہانی یاد آئی ہے جو شائد ایم کیو ایم کا کردار واضح کرتی ہے ۔ بادشاہ اور وزیر میں بحث ہوئی کہ جو کوئی بھی بادشاہ کے گھر میں پرورش پائے گا عمدہ ذہنیت کا مالک بن جائے گا ۔ وزیر کہتا تھا کہ عمدہ ذہن بننے میں دو تین پشتوں کی تربیت کرنا پڑتی ہے ۔ امتحان کے طور پر بادشاہ نے ایک میراثی کا نوزائدہ گود لے لیا ۔ جب وہ بچہ آٹھ سال کا ہو گیا تو وزیر نے نوکر سے کہا کہ کھانے کے وقت روٹیاں دینے سے پہلے اُس کے سامنے ایک جوتی رومال میں لپیٹ کر رکھ دے ۔ جب بچے نے رومال کو کھولا تو بولا "خود دو دو کھائی ہیں اور مجھے صرف ایک"۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ تم ٹھیک کہتے تھے

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔