7/16/2006

طلب

طلب پیاس کی طرح ہوتی ہے لگتی ہے تو بے تحاشا لگتی ہے، شروع شروع میں بہت بے چین کرتی ہے۔ پوری ہو جائے تو تشنگی اور بڑھ جاتی ہے اگر حد سے بڑھ جائے تو خود ہی سیرابی ہو جاتی ہے جیسے پانی کا قطرہ سیپ کے اندر موتی بن جاتا ہے ۔اسی طرح طلب انسان کے اندر سیرابی بن جاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔