Pages

7/10/2006

احمد ندیم قاسمی

کون کہتا ہے کہ موت آئی گی تو مر جاؤ گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤ گا
------------------------------------------
مرو تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤ
“ندیم“ کاش یہ ہی ایک کام کر جاؤ
---------------------------------------
موت و حیات کا مقصد کیا ہے،آخر کچھ تو معلوم ہو
لفظ تو ہیں صدیوں کے پرانے، ان کا مفہوم تو ہو
------------------------------------
اتنا دشوار نہیں موت کو ٹالے رکھنا
سر جو کٹ جائے تو دستار کو سنبھالے رکھنا
(احمد ندیم قاسمی)
ایک اچھا شخص جو اب ہم میں نہیں رہا!!!

Tags: , , , ,

2 تبصرے:

شارق نے لکھا ہے کہ

شعیب غالباً درست شعر یوں ہے:

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
“ندیم“ کاش یہی ایک کام کر جاؤں

گمنام نے لکھا ہے کہ

You have an outstanding good and well structured site. I enjoyed browsing through it moroccan toys Free stationery that i can print weight phentermine Cheap roller backpacks Accounting training course Eteamzactivecom link tamiflu Coffe maker with grinder http://www.buy-nexium.info/401k-graph.html Good website design versus bad web site design Game king keno online Debt collection statute hrsb planning com retirement Injury compensation solicitors com au Oxycontin adipex casino online Independent fiduciary 401k

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔