6/23/2006

DITA HOCKEY دتہ ہاکی

اللہ دتہ ، پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق، ہاکی بنانے کے فن کا ماہر جانا اور مانا جاتا۔ ابتداء اس نے اپنے محلے سے کی دوکان سے کی۔ اس کی ہاکی کافی پائیدار، نفیس اور اعٰلی ہوتی۔ اللہ دتہ کی ہاکی کی مانگ کافی ذیادہ ہو گئی۔ دتہ کی ہاکی نہ صرف پنجاب کی یا پاکستان کی علاقائی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی استعمال کرتے بلکہ اب تو بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس کی بنائی ہوئی ہاکی پر بھروسہ کرتے۔ دتہ کا کام کافی بڑھ گیا۔ اب اس نے ہاکی بنانے کا پورا کارخانہ بنا لیا۔ اس نے اپنے پروڈکٹ کا نام “دتہ ہاکی“ رکھا ۔ یہ لفظ "DITA HOCKEY" جب یورپین پڑھتے تو وہ اسے “ڈی ٹا ہاکی“ کہتے۔
دتہ ایک اَن پڑھ شخص تھا لہذا کہیں نا کہیں مار کھانا تھی۔ جب “دتہ ہاکی“ کی شہرت حد سے بڑھی تو جرمنی کی ایک کمپنی نے اس نام کو اپنے “ٹریڈ مارک“ کے طور پر رجسٹر کروا لیا۔ اب “دتہ ہاکی“ کا ٹریڈ مارک اس کی ملکیت ہو گئی جو اس کا خالق نہ تھا۔ دتی کی اولاد تعلیم یافتہ ہے لہذا انہوں نے اس ٹریڈ مارکہ کے لئے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ اب بھی دتہ ہاکی بنانے کے کام سے وابستہ ہے اس کی ہاکی اب بھی باہر جاتی ہے اسے اب بھی “دتہ ہاکی“ کے نام سے جانا جاتا ہے مگر یہ مارکہ اس کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ قصہ یا کہانی (جو سچی ہے) میرے سینئر نے ٹریڈ مارک کی اہمیت بتانے کے لئے بتایا ہے۔

4 تبصرے:

  1. ہم نے بھی بہت ہاکی کھیلی ہے مگر ہمیں آج تک یہ پتہ نہیں تھا کہ دتہ ہاکی کسی اللہ دتہ کی ہے۔ ہم آج تک یہی سمجھتے رہے کہ یہ کوئی انگلش نام ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. صرف دتا ہاکی ہی نہيں پاکستان کے کھيلوں اور جراحی کے بہت سے سامان پر مغرب والو نے اسی طرح اجارہ داری حاصل کی ہوئی ہے اور يہ ہمارے سول سروس کے آفيسران اور ڈکٹيٹروں کی مہربانی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ کی مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ میں نے اپنے بلاگ کی سائيڈ بار ميں اللہ کے نام کا سلائيڈ شو بنايا ہوا تھا ۔ غلطی سے ميں نے کوئی لِنک حذف کر ديا ۔ اب ميں نے بہت کوشش کی ہے ليکن اسے صحيح کرنے ميں کامياب نہيں ہو سکا ۔ ميرا بلاگ يہ لکھ کر کھولئے تو آپ ديکھيں گے کہ اميج نہيں کھُل رہا ۔
    http://www.pkblogs.com/iftikharajmal

    يہی سلائيڈ شو ميرے مندرجہ ذيل بلاگ پر کام کر رہا ہے مگر اس ميں تنصيب کا طريقہ فرق ہے
    http://iftikharajmal.wordpress.com

    جواب دیںحذف کریں
  4. جناب آپ نے داؤدى كے بلاگ پر كمنٹس ميں پوجها هے كه اس خبر كىتصديق كهاں سے هو سكتى هے تو جناب وه پوسٹ كوئى خبر نهيں هے بلكه يه بتايا جا رها هے كه مسلمان لوگ احمديوں كے ساتهـ ايسا هى كر رهے هيں ـ يه لوگ يەوديوں كے هولوكاسٹ كى طرز پر كچهـ مظلوميت كا ٹائٹل چاهتےظ هيں ـ
    ميں ان لوگوں كے متعلق ذياده نهيں لكهنا چاهتا كه غير اهم لوگوں كو اهميت دينے والي بات هو جائے گى ـ

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔