6/03/2006

تجرباتی پوسٹ

ایک قصبے میں دو بھائ کافی شرارتی تھے۔ اس قدر کہ تمام قصبے کے افراد اُن سے پناہ مانگتے تھے۔ ان کی ماں نے قریب ہر طریقہ استعمال کر کے دیکھ لیا مگر مجال ہے جو باز آئیں۔ قصبے میں ایک پادری آیا جس کے بارے میں مشہور ہوا کہ اس کے ہاتھوں کئی افراد راہ راست کی طرف لوٹ آئے ہیں، لہذا ان بچوں کی ماں پادری کے پاس جا پہنچی اور اسے اپنے بیٹوں کے بارے میں بتایا، پادری نے اتوار کو چرچ کے وقت کے بعد اس بچے کو جو ذیادہ شرارتی ہو بھیجنے کو کہا: ماں نے اتوار کو چھوٹے والے بیٹے کو چرچ بھیجا۔ پادری نے لڑکے کی طرف دیکھا اور نہایت حلیمی سے سوال کیا ’بیٹا! خدا کہاں ہے؟‘ لڑکے نے نہایت حیرانگی سے پادری کی طرف دیکھا اور خاموش رہا۔ بچے کو خاموش دیکھ کر دوبارہ سوال کیا ’میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں! بتاؤ خدا کہاں ہے؟‘ لڑکا سہم گیا مگر منہ سے اب بھی کچھ نہیں بولا۔ پادری نے ذرا غضیلے لہجے میں دوبارہ پوچھا!’کیا تم جانتے ہو خدا کہاں ہے؟‘ لڑکے نے آؤدیکھا نہ تاؤ اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہو اور راستے میں کسی کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور گھر میں اپنے کمرے میں داخل ہو کر اُس کا دروازہ بند کرکے تالا لگا دیا۔ بھائی جو کمرے میں ہی تھا اس کی حالت اور حرکت پر حیران ہوا لہذا ’پوچھا کیا ہوا ہے؟‘ چھوٹا والا کہنے لگا ’بھائی خیر نہیں ہے! خدا غائب ہو گیا ہے اور الزام ہم پر آ رہا ہے‘ ایک انگریری لطیفہ کا اردو ترجمہ۔ یہ ایک تجرباتی پوسٹ ہے، کہ آیا ویب بلاگر سے اردو پوسٹ کیسے ہو سکتی ہے؟

5 تبصرے:

  1. مہرافشاں6/06/2006 06:24:00 AM

    آپکوتبصرہلکھسکتےہیںیانہیںبیچمیںالفاظکےگیپکیسےلایاجاے

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ کوتبصرہ لکھ سکتےہیں یانہیں بیچ میں الفاظ کےگیپ کیسےلایاجاے!!!!!
    جناب اسپیس کا بٹن دبا کر کیبوڈ پر ہوتا ہے کہیں!!!!

    جواب دیںحذف کریں
  3. مہرافشاں6/07/2006 10:46:00 AM

    :)معاف کیجیے گا بی بی سی والوں نے عادت بگاڑ دی ہے اسپیس کا بٹن اپنے کی پیڈ پر دے کر یہ بات ہماری عقل مین بھی آئ مگر تبصرہ بھیجنے کے بعدہم ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہیں اور وہ بھی بغیر کسی مدد کے تبصرے کی اجازت اس لئے مانگی کے پیج پر لکھا ہےyou are not authorized

    جواب دیںحذف کریں
  4. ٹھیک ہے! اب آپ کی عادت ٹھیک ہو گئی؟
    ویسے ہماری طرف سے تو سب تنصرہ کر سکتے ہیں نا معلوم آپ کیوں نہیں authorized

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔