3/30/2006

خواب

خواب بھی اک مسافر کی طرح ہوتے ہیں رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ان کی عادت ہی نہیں ایک جگہ پر رکنا ان کی قسمت ہی نہیں ایک نگر میں رہنا ہم بھی ایک خواب ہیں اے جان! تیری آنکھوں میں سایہ ابر نوحہ کے گمان میں میں رہنا ان کے طاق سے ہم کو نہ ہٹانا جب تک رات کے بام پر تاروں کے دیئے جلتے رہیں دیکھنا ہم کو ہمیں دیکھتے جانا جب تک ہم تیری آنکھ کی وادی میں سفر کرتے رہیں خواب کا شوق یہ ہی خواب کی قسمت بھی یہ ہی حلقہ رنگ رواں گرد سفر میں رہنا رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ہم مگر خواب ہیں کچھ اور طرح کے ہم کو نہ کوئی شوق سفر ہے نہ تلاش خوشبو تیری آنکھ میں جلیں اور اور ان ہی میں بجھ جائیں چشم در چشم نہیں ہم کو سفر میں رہنا ہم کو ہے تیری نظر میں رہنا

3 تبصرے:

  1. بہت خوب جناب

    لیکن کیا وہ مصرع "خواب کا شوق یہی، خواب کی قسمت بھی یہی" ھونا چاھئے تھا
    ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. جناب یہ تو شاعر ہی بتا سکتا ہے کہ اس نے کیا کیوں لکھا!!!! میں تو نہیں ناں!!

    جواب دیںحذف کریں
  3. شاعر کا نام تو لکہ دیں!

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔