5/26/2005

اسلامی قانون،روشن خیالی اور ہم

کوئی قا نون کتنا ہی اچھا اور جامع کیوں نہ ہو اس نے کسی بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر چا ہے جتنا ہی بہتر حل واضع کیا ہو مگراگرقانون کے نفار میں بد نیتی کا مظاہرہ کیا جائے تو ساری کاوش و محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔بنایا گیا اصول بس ایک دکھاوے کی چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی سلوک ہمارے ملک میں اسلامی قوانین کے ساتھ ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل۲۰۳وفاقی شریعت کورٹ سے متعلق ہے اس کورٹ کا مقصدیہ ہے کہ یہ خود یا پاکستانی شہری کی تحریک پر یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی تحریک پر اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کسی قانون کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ صادر کرے کہ آیا یہ قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا متصارم نیز اسے کس طرح اسلامی خطوط کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔بعض احباب کی رائے میں دراصل اس کورٹ کا مقصدصرف دکھاوے کے طورپر نومولد قانون کے کان میں اذان دے کر اسے مسلمان بنانا ہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسلمان ہوا یا نہیں۔ مگرمیرا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں دراصل ہم ہی عملا ٹھیک نہیں۔ذرا شریعت کورٹ کے ان فیصلوں پر نظر ڑالیں اول :شریعت کورٹ نے سود سے متعلق ۲۲قانونی دفعات کو قرآن وسنت کے خلاف اور کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنایا
( ۱۴نومبر ۱۹۹۱)
دوئم-تمام قسم کی لاٹریاں اسلامی احکام کے منافی ہیں (۹جنوری ۱۹۹۲) ۔ سوئم-ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم خلاف اسلام ہے (فیصلہ ۲۳ اپریل ۱۹۹۲) ۔ اس طرح کے دیگر کئ فیصلے ہیں۔ ہم نے کتنے مانے؟۔ سود والے معاملے پر اپیل کی آٹھ نو سال معاملہ لٹکا پھر بھی سپریم کورٹ نے شریعت کورٹ کے معاملے کو درست قرار دیا تو وفاق نے نظر ثانی کی اپیل کی اور فیصلہ اپنے حق میں لے لیا جی لےلیا ۔لاٹری !پنجاب حکومت کی جانب تازہ مثال ڈھائی کروڑ کا انعام والی معلوم ہے نا!۔۔۔۔ملازمت میں کوٹہ! سسٹم ختم ہوا کیا؟ اب ذرا حدودکی بات ہو جائے۔ عرض ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور زنا کی سزا کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا دونوں سزائے پاکستان کے قانون کےمطابق ہیں ،حدود آرڈینس ۱۹۷۹ء،یہ قانون ضیاء الحق نے دینی جماعتوں کے کہنے پر بنوایا تھا،مگر تسلیم کرنے کی بات یہ ہے ۵ جولائی ۱۹۷۹ جب سے یہ قانون لاگو ہوا اس قانون کے تحت سزا تو دی گئی مگر اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا،وجوہات بہت سی ہیں ،اول گواہان کے لئے رکھی گئی کڑی شرائط (ان کے لئے لازم ہے کہ انہوں نےگناہ کبیرہ نہ کیا ہو)کہ وہ تذکیہ الشعود پر پورا اترے،دوئم چوری کی صورت میں دو اور زنا کی صورت میں چار چشم دیدگواہ درکار ہیں،سوئم نام نہاد وہ این جی اوز جو مغربی فنڈ پر چلتی ہیں اور انسانی حقوق کا ڈھول بجاتی ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ زانی ہے!ہے تو انسان نا!۔۔۔۔۔ جہاں تک جدید سہولیات کے ذریعے زانی یا چور ثابت ہونے پر حدود لاء کے نفاذ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں علماء اکرام کا مشترک فتویٰ یا اجتہاد درکار ہے کہ آیا ڈی این اے ٹیسٹ ،یا کوئی آڈیو یا ویڈیو ٹیپ جو کسی جرم کو ثابت کرے اُسے کس حد تک شہادت کے طور پر قبول کیا جائےاور کس حد تک نہ کیا جائے،علماء اکرام و مفتی حضرات میں اس سلسلے دو مختلف اراء ہیں کچھ کی رائے میں حدود کا نفاذ ممکن ہے اور چند اس با ت سے انکاری ہیں،بحرحال کچھ بھی ہو لیکن امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں ایسی شہادت حدود کے نفاذ کا ذریعہ بن جائے گی،مگر اگر ابھی کسی فرد پر حدود کا نفاذ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہ ہے کہ مجرم کو کچھ نہ کہا جائے گا بلکہ اس پر تعزیر کا نفاذ ہو گا یعنی مجرم کو کیا سزا دی جائے یہ قاضی پر ہے (معافی کی گنجائش نہیں) اور یہ عین اسلام ہے،پاکستان میں اس سلسلے میں مختلف قوانین موجود ہیں(تعزیرات پاکستان،ضابطہ فوجداری،ضابطہ دیوانی)۔ ان مشکلات کے علاوہ مجرم کو حدود کے مطابق سزایاب نہ کرنے کی ایک وجہ سیاسی ہے کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی دباؤ کہ یہ سزائے انسانی حقوق کے خلاف ہیں اور ہم روشن خیالی کے بخار میں مبتلا ان کے دباؤ میں آ کر یہ سزا نہیں دیتے،اللہ ہمیں توفیق عطا کریں کہ ہم دوسروں پر یہ ظاہر کرنے کہ بجائے کہ ہم روشن خیال ہیں یہ بتا سکے کہ انہیں ہمارے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ روشن خیالی کی بھی کیا بات ہے اس بیماری نے کیا کیا گل کھلائے ہیں ابھی لاہور میں اس مرض میں مبتلا افراد نے مخلوط میراتھن ریس کروائی آج خواتین سڑکوں پر مردوں کے ساتھ دوڑی ہیں کل گھروں سے دوڑی گی،بات یہ ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے لازم ہے عورت و مردشانے سے شانہ ملا کر چلے مگر شانے سے شانہ مارنہ ضروری نہیں ہے،عورت کو زندگی کے ہر شعبہ میں ہونا چاہئے مگر! مرد و عورت کو ہر لمحہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کرنا چاہئے،ہم روشن خیالی کی وباء میں مبتلا ہو رہے ہیں اور دنیا انتہاپسندی کی طرف مائل ہے،گوانتےموبے میں قرآن پاک کی شہادت،بھارت میں بابری مسجد کہ بعد ایک مسجد اور شہید کی جارہی ہے اور فرانس نے اسکاف پر پابندی لگادی۔ قرآن میں ہے "اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ" مگر پڑھے کون؟پڑھے تو مانے کون! اہل نظرذوق نظر خوب ہے لیکن جو حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
**********************
رات اسٹڈی کے دوران یہ جملے ذہن ہیں آئے ضبط تحریر میں لا رہا ہوں "محبوب بھی خدا کی طرح ہوتا ہے اس کی بھی پرستش کی جاتی ہے وہ اپنے عاشق کی ضروریات سے واقف بھی ہو تو چاہتا ہے کہ وہ اسے ہر ضرورت کے لئے پکارے اس سے ہاتھ اٹھا کر اپنی ضرورت کے لئے آگاہ کیا جاتا ہے اس سے بات کرنے کے لئے زبان سے گفتگو کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ دل کی زبان پر استعفادہ کرنا پڑتا ہے،اس کے قریب جانے کے لئے جسمانی قربت کی نہیں بلکہ دلی قربت چاہئے،اسے راضی کرنے کے لئے گڑگڑانا پڑتا ہے،اس کی خوشنودی کے حصول کے واسطے ہر اس کام سے اجتناب کرنا پڑتا ہے جو اسے برا لگے اور ہر وہ کام کرنا پڑتا ہے جو اسے پسند ہو،اس تعلق میں بھی بندے کو توحید کا دامن تھامنا پڑتا ہے شرک یہاں بھی جائز نہیں"۔

3 تبصرے:

  1. بہت اچھا لکھا ہے۔ آخر قانون دان جو ہوئے۔ اس پر انشا اللہ جلد تفصیل سے لکھوں گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. kafi achaa likh laitay ho meri jaan

    جواب دیںحذف کریں
  3. آجکل نہ صرف تعلیمی امتحانوں کا مہینہ ہے بلکہ عملی زندگی بھی ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ دل ہلکا کرنے کے لئے اخبار کھولیں تو خبریں پڑھ کر دل بوجھل اور دماغ پریشان ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اشد ضرورت ہے طبعیت کو خوشگوار کرنے کی۔ تو لیجئے حاضر ہے ایک مختصر نسخہ۔ کلک کیجئے اوپر میرے بلاگ پر اور پڑھئے
    Disorder in the Court (will make you at least smile)

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔