اسے مت پڑھے

جب میں میٹرک میں تھا تو اس دور میں میں نے یہ تحریر پڑھی حرف بہ حرف تو یاد نہیں مگر کچھ یاد ہے ممکن ہے کہ آپ نے بھی پڑھی ہوں کچھ اس طرح تھی۔ "آپ نے اس تحریر کو پڑھنا شروع کردیا جبکہ عنوان میں اسے نہ پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے،آپ سے ایک بار پھر التماس ہے مزید پڑھنے سے اجتناب کرے اس میں آپ کے پڑھنے کو کچھ نہیں لہذا باز آجائے رک جائے وقت کے ضیائع سے گریز کریں،آگے نہ بڑھےتو بہتر ہے۔کیا بات ہے؟آپ منع نہیں ہورہےخدارا یقین کرے اس میں آپ کا فائدہ ہے رک جائے،بہت ہو گیا!عجب ڈھیٹ مٹی کے ہو! باز ہی نہیں آرہے،پڑھتے جا رہے ہو۔چلو اتناتم نے پڑھا کچھ ملا تم کو؟ نہیں نا!کچھ حاصل ہوا؟ اب تمہارا جواب نفی میں ہے،اس واسطے پھر عرض کرتا ہوں کہ اب آگے نہ پڑھنا،یار تم باز آنے والے نہیں معلوم ہوتے،کیا کرو کہ تم باز آجاؤ ،اب دیکھو میں آپ سے تم پر آگیا ہو کہیں تم سے تو نہ ہو جائے لہذا کچھ کرتا ہو،تم تو پڑھنے سے باز نہ آؤ گے ٹھیک ہے میں ہی لکھنا بند کردیتا ہو،ہون آرام ای"۔ کیسی لگی تحریر ؟اب ذرا یہ خالی جگہ تو پر کریں سموسہ کھایا نہیں اور جوتا پہنا نہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تھا۔

تبصرے ()

افتخار اجمل بھوپال
افتخار اجمل بھوپال 5/25/2005 08:16:00 AM
جواب حاضر ہے

کیونکہ تلا نہ تھا۔

یعنی جوتے کا تلا نہ تھا اور سموسہ تلا ہوا نہ تھا
افتخار اجمل بھوپال
افتخار اجمل بھوپال 5/26/2005 04:33:00 PM
قانون دان تو کبھی ہار مانتا ہی نہیں۔ آپ نے اتنی جلدی ہار مان لی۔ تھوڑا سا تو سوچنا چاہیئے تھا۔ بات یہ ہے کہ برہمن دھوتی باندھ کر نہاتے ہیں۔ برہمن کے پاس دھوتی نہ تھی اس لئے وہ نہایا نہیں۔ اور دھبن کپڑے دھوتی نہ تھی اس لئے دھوبی نے اس کی پٹائی کی۔

اپنا تبصرہ دیں