ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 09/28/05

ماضی میں تبدیلی یا ترمیم

کیا تاریخ کے اوراق میں تبدیلی کیا ترمیم ممکن ہے؟ کیا ماضی کو بدلا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب نہایت سیدھا ہے نہیں ایسا ممکن نہیں ۔۔۔۔۔تو کیا اسے چھپانا ممکن ہے؟ اس سے پردہ پوشی ہوسکتی ہے؟ کیا اس سسلے میں کسی کو گمراہ کیا جاسکتا ہے؟ شائد انفرادی سطح پر تو ایسا ممکن ہو مگر اجتماعی سطح پر ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔بہت مشکل ہے۔۔۔ پھر بھی دیکھنے میں آیا ہے ایک ہی دور کے متعلق نیز کسی دور کے کسی حکمران کے متعلق مختلف قسم کی آراء پائی جاتی ہیں،ایک شخض ایک قوم کا ہیرو ہے تو دوسری کے لئے ولن ۔۔۔ ایک کا مسیحا تو دوسری کا قاتل کہلاتا ہے۔۔۔۔۔ایک کے لئے کچھ اور دوسری کا واسطے کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلا صلاح الدین ایوبی اہل مسلم کے لئے ہیرو ہے مگر اہل لوئیہ کے نزدیک جنگجو۔۔۔جس نے انہیں شکست دی ۔۔۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کے دوسرے سپہ سالار کا بھی یہ ہی عالم ہے۔۔۔ طارق بن ذیاد جس نے اسپین میں مسلم سلطنت کی بنیاد ڈالی اس کے کشی جلانے کے واقعہ کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔کشتیاں جلانے والا محاورہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے (مجھے تو یہ ہی پتا ہے)۔۔۔۔ اس فرد کو اہل مسلم اعلی حاکم اور مجاہد مانتے ہیں، مگر۔۔۔ اسپین کے ایک عجائب گھر کے باہر اس کے مجسمے کے نیچے یہ الفاط درج ہیں “ ایک جشی قزاق جس نے ٧١٣ء میں اسپین پر حملہ کرکے ایک جابرانہ حکومت کی بنیاد ڈالی جس نے کافی عرصہ تک ایل اسپین پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے“ (میں نے یہ پی ٹی وی کے نامہ نگار سرور منیر راؤ کے کالم میں پڑھا تھا) محمد بن قاسم جو ٧١٢ ء میں سندھ فتح کیا۔۔۔ ہندو تاریخ دان اسے بھی بحری قزاق کرار دیتے ہیں۔۔۔ حجاج بن یوسف (کوفہ کا گورنر) واقعی میں ایک سخت اور جابر حاکم بیان کیا جاتا ہے مگر ۔۔۔۔۔ غیر مسلم تاریخ دان اسے جنسی بے واہ روی کا شکار قرار دیتے ہیں مگر کسی مسلم تاریخ دان نے ایسا نہیں کہا نہ مانا۔۔۔ بلکہ قران پاک کا ایک اعلی قاری مانا جاتا ہے۔۔۔ مجھے کنفرم تو نہیں مگر ایک رائے یہ بھی ہے کہ قرآن پاک پر اعراب اس ہی کی رائے پر لگائے گئے تھے۔۔۔۔ اگر “بت شکن“ کہا جائے تو محمود غزنوی کاخیال آتا ہے۔۔ بھارت میں چھٹی جماعت کی کتاب High road of India میں اس کے کردار کو مکرو دکھایا گیا ہے۔۔۔۔ اکبر جس نے اپنے دور حکمرانی میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہندؤوں میں شادی کی ۔۔۔۔۔الگ مذہب کی بنیاد ڈالی ۔۔۔ اس بناء پر اسے “مغل اعظم“ کا لقب ملا۔۔۔ اعلی انصاف کی وجہ سے نہیں مسلم تاریخ دانوں کی رائے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سے ٥٨ برس پہلے کہ بات ہو تو بھی تمام تاریخ دان کسی ایک بات پر متفق نہیں۔۔۔۔۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار لڑائیوں کی آٹھ کہانیاں ہیں ہر جنگ سے متعلق دونوں ملکوں کی اپنی اپنی رائے ہے۔۔۔۔اپنی اپنی کہانیاں۔۔ نائن الیون کے بعد سے اب تک خود دو مختلف گروہ تاریخ کو اپنے انداز میں لکھ کو بیان کر رہے ہیں۔۔۔ آج کا میڈیا بھی جانبدار آج کاتاریخ دان بھی۔۔۔ اب آپ بنائے کون سی تاریخ اہل مسلم سچ مانے۔۔۔۔۔ وہ جو مسلم تاریخ دانوں نے لکھی ۔۔۔۔ اور غیر مسلم نے اسے غلط ثابت نہیں کیا (یا کر سکے)۔۔۔ اور مان جائے کہ وہ ایک برا ماضی رکھتے ہیں۔۔۔۔ اور اپنی نئی نسل کو بھی یہ ہی بتائے؟؟؟ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔