1/13/2014

محبت ، عقیدت، خوشی و جشن

جو لوگ محبوب رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں محبوب ہی نہیں اُس سے جڑی ہر شے اچھی لگتی ہے۔ معیار محبوب ہوتا ہے ! جو اسے پسند وہی پسند کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کا کوئی محبوب نہیں ہوتا اُن کی منطق یہ سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کہ عشق کی یہ کیا کیفیت ! محبوب معیار کیسے ہوا، عاشق کو محبوب کی پسند ہی پسند کیونکر ہوتی ہے؟ اُس سے جڑی بات، لمحہ، چیز یا کچھ بھی کیوں عزیز ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے ماں باپ سے ذیادہ عزیز ہمارا نبی ہے، ہمیں اُس سے عقیدت ہے۔ آپ کی ولادت ، ہمارے لئے وہ سبب جس سے ہم نے اللہ کو جانا و پہچانا، لہذا آپ کی آمد کی ہم کیوں خوشی نہ منائے۔ ہمیں اپنے محبوب کی آمد کی اتنی خوشی ہے کہ ہم اسے جشن منانے کی اہم وجہ جانتے ہیں۔ اس کیفیت کو جانو تو جانو گے کہ یہ عید (خوشی) ہے کہ نہیں!!
جشن عید میلادالبنی مبارک ہو!

4 تبصرے:

  1. شعیب صفدرصاحب اچھی اور خوبصورت تحریر پر ڈھیروں مبارک بادماہ ربیع الاول شریف کی بہترین تحریر

    جواب دیںحذف کریں
  2. شعیب صاحب آپ کو بھی جشن عید میلادالنبیصلی الله علیہ وسلم مبارک*اس صورت نوں میں جان آکھاں جانان کہ جان جہان آکھاں۔#۔سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں جس شان توں شاناں سب بنیاں*آپ صلی الله علیہ وسلم نہ ہوتے توملکوت اعلی میں واذ قال ربک(یادکروجب تمہارےرب نے)*سورۃالبقرہ*کی نوبت ہی نہ آتی اور نہ ہی عالم بالا میں ونفخت فیہ من روحی(اور اس میں اپنی خاص روح پھونکوں)*سورۃالحجر*کی روشنیاں پھیلتیں اورجب آسمانوں میں فقعو الە ساجدین(تو اس کےلۓسجدے میں گر پڑنا)کےپرچم لہراۓگۓ توآپصلی الله علیہ وسلم رب کے لۓسجدہ ریز ہوگۓآپ صلی الله علیہ وسلم کی عظمتوں و رفعتوں کے طفیل زمینی و سماوی کاۂنات ایک ہی لڑی میں پروئ گئ کاہنات اگر جسم ہے توآپصلی الله علیہ وسلم اسکی آنکھ کی پتلی ہیں آپ صلی الله علللیہ وسلم حکمت الہیہ کاراز اورفعل خلق کے حروف کے معنی ہیں تاج رسالت کاچمکتاہیرا اور گروہ انبیاٴکےسرخیل آپ ہی
    ہیں فصحاۓعرب جوفصاعت و بلاغت میں اپناثانی نہیں رکھتےتھےآپ صلی الله علیہ وسلم نےتمام َفصحاٴ کو قل لئن اجتمعتالانس والجن(اےمحبوب فرمادیں اگرآدمی اورجن سب اس بات پر جمع ہو جاوکہ)*سورۃبنی اسرائل* کے ذریعےقرآن کی مثل لانےسے عاجز کر دیا عاقلوں و فراستوں کے چمکتےدمکتےسورج آپ صلی الله علیہ وسلم کےجوامع الکلم کے سامنےماند پڑگۓ: قاب قوسین آپصلی الله علیہ وسلم کی مقدس وادی جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم نے(فاوحی الی عبدہ مااوحی)*اب وحی فرمای اپنے بندے کو جو وحی کی*سورۃ النجم کے مقدس کلمات آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیۓایسی بلبل کی مانند ہیں جو کانوں میں پسندیدہ نغموں کے ذریعےرس گھولتی ہے ان مقدس کلمات کے ذریعے آپصلی الله علیہ وسلم کووہ منزل عطا ہوی جس منزل کی تمناحضرت موسی علیہ اسلام نے کی تھی یعنی منزل دیدار الہی ۔۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے جمال جہاں آراکی پوشاکوں میں سے ایک(لقد رائ من آیات ربە الکبری)*بے شک اپنےرب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں*سورۃ النجم جیسی خلعت فاخرہ بھی قبل ازیں کسی نبی نے قاب قوسین کےگلشن کے جھونکوں میں سےایک جھونکابھی نہ پایااور نہ ان میں سے کسی کو اسلام و علیک ایھاالنبی ورحمۃ الله وبر کاۃ کی صداۓدلنواز سے نوازا گیاسبھی پیغمبر"اوادنی" کےحجاب میں رہےاور فقط "دنافتدلی" کی شان والے ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم ہی آ گے بڑھےآپکےلۓکائنات کے سربستہ راز"لقد رائ"کی خلعتوں کی صورت میں اجاگر کئےگئےشریعت کا چراغ آپ کو عطاکردہ علوم کےنور سے روشن ہوااور آپ کے روشن کلمات کی تابانیوں سےحکمتوں کے آسماں چمک اٹھے
    غن لی سوطا بمدح المصطفی*فمدیح المصطفی عندی حلا* الھم صلی علی محمدو بارک وسلم

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماشاءاللہ کیا زبردست پہناوا پہنایا آپ نے اپنی سوچ کو۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔