Pages

1/31/2014

ڈربہ اور کھلا آسمان

کراچی میں ایک بستی ہے اعظم بستی، ہمارے تایا ابو پہلے وہاں آباد تھے ۔ ہم بچپن میں جب بھی وہاں جاتےتو عموما دو چار دن اُن کے گھر پر رہتے تھے۔ اُن کے پڑوس میں میں ایک گھر تھا جس میں ایک بابا رہتا تھا جس نے بے تحاشا کبوتر رکھے تھے اور کبوتروں کے لئے ایک پنجرہ بنا رکھا تھا اور اُس پنجرے کو اُس نے مزید کئی پنجروں میں یوں تقسیم کیا ہوا تھا کہ ہر حصہ ایک الگ پنجرہ ہی معلوم ہوتا اُس بابے کا نام تو ہم نہیں جانتے مگر اُس سے ہماری دوستی ہو گئی تھی۔ بابے نے ممکن ہے کبوتر شوق سے رکھیں ہوں مگر وہ کبوتروں کی خرید و فروخت کا بھی کام کرتا تھا۔ایک دن دوران گفتگو ہم نے بابے سے کہا کہ آپ ان کبوتروں کوان چھوٹے پنجروں میں کیوں رکھا ہوا ہے یہ پرندہ کھلے آسمان میں اچھا لگتا ہے یہ ڈربے ہیں بھی گندے ، بابے نے جواب دیا میں نے انہیں یہاں ان کبوتروں کو ان کی اپنی بھلائی کو نہیں رکھابلکہ یہ قید ی ہیں میرے ،مجھے ان سے نہیں ان کی افزائش نسل میں دلچسپی ہے، یہ جتنی تعداد میں ہوں گے اتنی ہی میری روزی روٹی بڑھے گی، یہ ڈربے میں ہی اچھے ہیں کھلا آسمان ممکن ہے ان کے لئے اچھا ہو مگر ان کا یہ اچھا میرے لئے برا ہو گا۔
آج شام گلستان جوہر میں ایک چائے کے ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے فلیٹ کی زندگی پر بات کرتے فلیٹ کو ڈربہ سے تشبی دینے پر مجھے یہ بات یاد آ گئی۔
نہ اپنی زمین نہ اپنا آسمان چلتی سانس کو زندگی سمجھنے والے ہم لوگ، خواہشوں کی دوڑ میں اپنے لئے کیا اچھا ہے اُسے بھول کر ہم کسی اور کے فائدے کے کام تو نہیں آ رہے؟

3 تبصرے:

Ikram Raja نے لکھا ہے کہ

ہم بھی اس بابے کی طرح اپنے برے کو اچھا بنانے کے لیے دوسروں کے اچھے کو برا بنا دیتے ہیں

خاور کھوکھر نے لکھا ہے کہ

میں بھی پہلے پہل ایسا سوچا کرتا تھا
لیکن
جب دنا گھوم کر دیکھا تو
اس طرح کی عامرتیں معاشرے کے لئے بہے ہی آہم پائیں ۔

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

میں پہلی بار کراچی میں شاید 1960ء میں نارتھ ناظم آباد میں یا اس کے قریب فلیٹس میں کسی سے ملنے گیا تو ذہن میں ڈربے کا تصور ہی پیدا ہوا تھا ۔ پھر پہلی بار 1966ء میں جرمنی گیا تو ایک انجنیئر نے گھر پر بُلایا ۔ اُس کے گھر کو دیکھ کر مجھے کراچی کا فلیٹ بڑا محسوس ہوا تھا

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔