ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/17/13

اسلامی جمہوریہ پاکستان – مگر کونسا اسلام ؟

اب تو بنیاد پرست ہونا ہی نہیں مسلمانوں میں رہتے ہوئے بھی اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی سہی کرنا یا ایسی کسی خواہش کا پورے معاشرے کے لئے کرنا ایک مخصوص طبقے میں طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ یار دوست اسلام کے نفاذ کو فرقوں کے نفاذ کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کس کا اسلام نافذ کرو گے؟
یہ طبقہ ہر فورم، پروگرام، جگہ ایک عام پاکستانی کو یہ ہی کہہ کر زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ “اس ملک میں درجنوں فرقوں کے لوگ آباد ہیں نہ صرف سنی شیعہ بلکہ انکے درمیان بیشمار فرقے ہیں.بریلوی، اہل حدیث وہابی، دیوبندی، اسماعیلی شیعہ، اثنا عشری شیعہ وغیرہ وغیرہ. تو تم کس کا اسلام نافذ کرو گے؟”

پاکستان میں کون سا اسلام نافذ ہو گا؟
“ملا” یا “مولوی” نامی ذات سے اسے اس قدر چڑ ہوتی ہے کہ یہ ان کی مخالفت میں وہ جہالت دیکھاتے ہیں کہ خیال آتا ہے کہ یہ لفظ جہالت ان کی اس حالت کو مکمل طور پر بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس طبقے کو عموما پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 2 (الف) کے ان الفاظ سے خاص چڑ ہے.
The principles and provisions set out in the Objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly.
یعنی “ضمیمہ میں نقل کردہ قرارداد مقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو مذیعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ باقاعدہ موثر ہوں گے” اب سوال یہ ہے کہ آخر اس “قراردار مقاصد” کے مقاصد کیا ہے۔ مقاصد جاننے کے لئے اس پر ایک نظر ڈال لیں! اس کے الفاظ یہ ہیں!!
”ہرگاہ کے اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر حاکم مطلق ہے اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیار حکمرانی اپنے مقررکردہ حدود کے اندر نیابتاً عطا فرمائی اور یہ اختیار حکمرانی مقدس امانت ہے۔
”جمہور پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور سازفیصلہ کرتی ہے کہ آزاد خود مختار مملکت پاکستان کے لئے ایک دستور مرتب کیا جائے۔“
”جس کی رو سے مملکت جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے جملہ اختیارات و حقوق حکمرانی استعمال کرے۔“
”جس میں جمہوریت آزادی مساوات رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کو جس طرح کہ اسلام نے ان کی تشریح کی پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے“
”جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جو قرآن و سنت نبوی میں متعین ہیں ڈھال سکیں۔“
”جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔“
”جس کی رو سے وہ علاقے جو پاکستان میں شامل یا ملحق ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں شامل یا اس سے الحاق کریں گے مل کر ایک وفاقیہ بنائیں جس کی وحدتیں مقررہ حدود اربعہ متعینہ اختیارات کے تحت خود مختار ہوں۔“
”جس کی رو سے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو جن میں مرتبہ مواقع کی برابری اور قانون کے روبرو معاشرتی اقتصادی اور سیاسی انصاف اور قانون اخلاق عامہ کے تحت خیال، بیان، عقیدے، ایمان ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہو جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے۔“
”جس کی رو سے عدلیہ کی آزادی کامل طور پر محفوظ ہو۔“
”جس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی سلامتی، اس کی آزادی ، اس کے جملہ حقوق کا ، میں برو بحر اور فضا پر حقوق اقتدار شامل ہیں، تحفظ کیاجائے ۔“
اس قرارداد کے کس لفظ، جملے، پیراگراف یا مقصد سے کسی صاحب شعور شخص کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ اس میں اسلامی ریاست کے بنیادی مقاصد کو بہت عمدہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو اسلام کی بنیادی تعلیمات کی بنیاد اس قدر قوی اور مضبوط ہے کہ ملک میں پائے جانے والے تمام مکاتبہ فکر کا ان پرمکمل اتفاق ہے اور جو اختلافات ہے وہ صرف انفرادی معاملات پر ہے۔لہذا اجتماعی سطح پر اس کا نفاذ ممکن ہے۔ اور انفرادی سطح پر اس کے نفاذ کا حل بھی پاکستان کے آئین کی دفعہ 227 کی وضاحت میں موجود ہے۔
All existing laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah, in this Part referred to as the Injunctions of Islam, and no law shall be enacted which is repugnant to such Injunctions. [Explanation:- In the application of this clause to the personal law of any Muslim sect, the expression "Quran and Sunnah" shall mean the Quran and Sunnah as interpreted by that sect.]
یعنی یہ کہ ملک میں موجود کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہو گا! نیز یہ کہ عام زندگی میں اس قانون کا نفاذ کسی بھی فرد پر اُس مکتبہ فکر کے مطابق ہو گا جس سے اُس کا تعلق ہے! مگر کیا کریں جھگڑا کرنے والے ، سوال کرنے والے تو جھگڑے گے سمجھے گے نہیں!۔ ویسے قوانین کا بنانا اور اُن کا اس طرح نفاذ کہ ہر مکتبہ فکر اُس سے مطمئن ہو ہز گز نا ممکن نہیں۔ مگر یہ ہماری بدنیتی ہے جو معاملات کو اس قدر گھمبیر و دشوار بنا دیتی ہے اور یہ ہماری ذاتی خواہش ہے جو موجود و نافذعمل قوانین کو متنازع بناتی ہے۔ ہم دین و دنیا کے قوانین کو ایسا نہیں چاہتے جو ہماری ذات کے لئے بے فائدہ اور ہماری مرضی کے خلاف ہوں، ہمیں ایسے قوانین چاہئے جو صرف ہماری ذات کے لئے فائدہ مند ہوں!