ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/14/06

طریقہ احتجاج پر احتجاج

ناجائز و غلط کام کرنے کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہو سکتا، مگر اگر جائز و درست کام کے پیچھے بھی صرف!!غلط نیت کار فرماں ہو تو منزل بھی جائز نہیں رہتی نہیں ہوتا۔ لہذا منزل کے لئے غلط راہ کا انتخاب کسی طرح درست نہیں، اس سے منزل ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر اسے یاد نہیں رکھتا!! آج شام کو آفس میں جب ٹی وی آن کیا تو اس پر جس طرح کی خبریں سنائی جا رہی تھی انھیں سن کر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ شرمندگی بھی محسوس ہوئی!!! توہین رسالت کے سلسلے میں ہونے والا مظاہرہ ہنگامے کی شکل اختیار کر گیا!!! مارچ میں شریک افراد نے لاہور میں توڑ پھوڑ کی!!! عمارتوں ، گاڑیوں، دفاتر، دوکانوں اور یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی کو بھی آگ لگا دی!!!! یہ کس چیز کا پیغام ڈینا چاہتے تھے؟؟؟؟ کہ ہم ناموس رسالت کے لئے جمع ہوئے ہیں؟؟؟؟؟ نا سمجھ !!!! مقصد کیا تھا؟ اگر یہ کہ توہین رسالت پر احتجاج کرنا تو جو حرکتیں ہوئیں ہیں ان سے تو خود اس اللہ کے رسول کی حرمت پر داغ آتا ہے!!! جس کی ناموس کے لئے وہ جمع ہوئے تھے!!!! خود وہ کیا سوچ رہے ہوں گے !!! کیسی امت ہے!!! جن باتوں کی ہدایت ان کو بھولے ہوئے ہیں!!! کیا تاثر دینا چاہ رہے ہیں یہ لوگ؟؟؟؟ میں ایسے طریقہ احتجاج پر احتجاج کرتا ہو!!!!!