ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/09/06

رات کے گپ اندھیرے میں

میں نے رونا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں