ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 10/28/05

اصل امدادی۔۔۔؟؟؟؟؟

جنیوا میں ڈونرز ممالک نے 58 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور عالمی بینک نے بھی 20 کروڑ کا عارضی قرضی دینے کا وعدہ کیا ہے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے۔۔۔ یہ بات میں نے بڑی خوشی سے اپنے دوست کو بتائی تو وہ کہنے لگا بس “لارا“ ہے اور کیا ہے اور اگر دے بھی دیں تو احسان کی جتائے گے۔۔۔۔۔ میں کہا “وہ تمہاری امداد کر رہے ہیں اس مشکل وقت میں اور تم نکھرے کر رہے ہو ہمیں ان کی امداد کی ضرورت بھی ہے ہمارا ملک تیسری دنیا کا ایک غریب ملک ہے، ایک ترقی پزیر ملک، جس کی سلانہ آمدن تقریبا 13.45 بلین ڈالر ہے جس کے سلانہ مصارف 16.51 بلین ڈالر ہو یوں جس ملک کے بجٹ کا خسارہ 3 بلین ڈالر ہو اسے اچانک 5 بلین ڈالر کا نقصان ہو جائے جس ملک میں کئی لوگ یا تو ناگہانی آفت سے ہلاک ہو جائے یا زخمی یا معذور اس کے لئے ایسی امداد کافی ہے بلکہ ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے ہماری مدد کی“۔۔۔۔۔مسکرا کر کہنے لگا“ شکر گزار۔۔۔ہوں!۔۔۔۔تم نے ان کے آگے انسانیت کے نام پر کشکول کیا۔۔۔ دامن پھیلایا اور ان لوگوں نے دیئے 1 بلین ڈالر اب تک ۔۔۔جن میں نصف تو دی بھی نہیں بس وعدہ ہے۔۔۔ “ مجھے اس پر بہت غصہ آیا میں نے کہا “ تم ہر بات کا غلط رخ دیکھتے ہو“ وہ صاحب کہنے لگے“ تم ہی ٹھیک راستہ دیکھ لو۔۔ایک رپورٹ کے مظابق 1998ء یہ تمہارا امریکہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمہیں اپنا پاٹنر کہتا ہے اس کے شہریوں نے سالانہ 8 بلین ڈالر تو میک اپ پر خرچ کر ڈالے ،یہ اہل یورپ 11 بلین ڈالر کی تو صرف آئس کریم کھا گئے، اہل امریکہ اور یورپ نے 17 بلین ڈالر کی پرفیوم خرچ کی، جاپان نے 35 بلین ڈالر انٹر ٹینمنٹ پر لگائے، 50 بلین ڈالر کے اہل یورپ نے صرف سگریٹ پھونک ڈالے، یورپ والے 105 بلین ڈالر کی شراب پی کر مست ہوئے، اس دنیا نے 400 بلین ڈالر کی منشیات استعمال کی اور 780 بلین ڈالر اسلحہ پر لگا دیئے اب 2005ء میں اس میں کافی اضافہ ہو گیا ہو گا مثلا اگر 1994ء میں امریکیوں نے اپنے پالتو جانوروں پر 17بلین ڈالر خرچ کئے تو 96ء میں یہ رقم 21بلین ڈالر ہو گئی 99ء میں 23 بلین تک جا پہنچی،2001ء میں 28.5 بلین ڈالر اور 2003ء میں 32.4بلین ڈالر ان امریکیوں نے اپنے جم اور ٹم پر خرچ کئے“۔۔۔۔۔میں نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا“ تو! تم اب کیا چاہتے ہوں کہ وہ اب کیا کرے جتنے انہوں نے تمہیں دے دیئے ہیں اس کے علاوہ کیا اب وہ اپنا پیٹ کاٹ کر دیں کیا۔۔۔۔ویسے بھی ہم خود اپنا خرچہ کم کر رے ہیں اپنے ان بھائیوں کی مدد کے لئے“ اس نے سینے پر ہوتھ باندھے اور اپنے سیدھے ہاتھ سے اپنی ٹھوڈی کو پر کر بولا“ میں تو یہ کہہ رہا ہو کہ اگر وہ دینا چاہے تو ان اخراجات میں سے رقم نکال کر دے سکتے ہیں میں نے ان کے ان خرچوں کی بات نہیں کی جو لازمی ہیں اور دوسرا تم نے کون سے خرچے کم کر دیئے ہیں؟؟“ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا“بھائی! میری مراد اپنے حکمرانوں اور لیڈروں سے ہے۔۔۔۔ اب دیکھوں نا انہوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ پوری کی پوری (ذرا زور دے کر) ریلیف فنڈ میں جمع کروادی۔۔۔ اس کے علاوہ بھی وہ متاثرین کی خیریت معلوم کرنے ۔۔۔ان کی حوصلہ افزائی۔۔۔ان کا دکھ بانٹنے۔۔۔۔ان کے آنسو پونچنے۔۔۔کے لئے ان کے درمیاں ہوتے ہیں“ وہ مسکرایا(مجھے یوں لگا جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہا ہو)۔۔“ کہنے لگا یہ تمہارے لیڈر جو ان متاثرین کے پاس جاتے ہیں ان کا مقصد مدد کرنا نہیں مدد لینا ہوتا ہے۔۔۔یہ میڈیا سے اس موقعہ پر مدد لیتے ہیں اپنی تشہیر کی ۔۔۔ یہ دکھ نہیں بانٹتے یہ آنسو نہیں صاف کرتے یہ تو اپنی فلم بناتے ہیں یہ اگر امداد کرے تو خبر لگاتے ہیں اتنی امداد دی کسی اور نے دی کیا۔۔۔ان کی امداد اخباری بیانات اور تصاویر پر مشتمل ہو تی ہے۔۔۔یہ تو امداد میں دیئے گئے کفن پر بھی اپنے نام کے ٹھپے لگاتے ہیں۔۔“ میں نے آہستگی سے کہا “اور وہ پوری تنخواہ“۔۔۔ کہنے لگا“ اس کی بھی خوب کہی ۔۔۔ اگر مجھ سے پوچھوں تو میں تو کہتا ہو کہ یہ تنخواہ خود لے لیتے مگر یہ جو انہیں مختلف مراعات کی مد میں جو رقم ملتی ہے وہ ریلیف فنڈ میں جمع کروا دیتے۔۔۔تنخواہ کتنی ہے ان کی یہ ہی کوئی 35 سے 50 ہزار نا بس! مگر ان کو مہینے کے آخر میں رقم ملتی ہے کو 7سے8 لاکھ یا اس سے کچھ ذیادہ ۔۔۔یہ کیا ہے جی یہ گھر کی سجاوٹ کی مد میں ہے کوئی ڈیڑھ لاکھ تک یہ کیا ہے جی یہ ٹریول الاؤنس ہے یہ کیا ہے جی یہ فلاں الاونس اور یہ فلاں۔۔۔اگر یہ دیتے تو بات تھی مگر یہ اس ملک کے 50 ارب روپے حکومت چلانے کے نام پر خود پر تو خرچ کرسکتے ہیں مگر امداد میں بس اپنی تنخواہ دہتے ہیں نہ مراعات کی مد میں ملنے والی رقم نہ کمیشن “۔۔۔۔میں نے اس سے پوچھا تو کیا اس ملک کے عوام نے بھی کیا مدد نہیں کی اپنے ان متاثرین بھائیوں کی۔۔۔۔“ اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا “ہاں! کی ہے ۔۔۔ اس ملک کی غریب عوام نے ہی تو مدد کی ہے۔۔۔ان ہی کی تو امداد پہنچی ہے۔۔۔۔اس ملک کے ان ڈھائی فیصد نے نہیں کی جو ملک کے 98 فیصد پر قابض ہیں۔۔۔جو ملک کے 160 ارب روپے کھا گئے جو 10ارب روپے کی غیر ملکی شراب پینے ہیں سالانہ، جو27ارب روپے جوئے میں ہار جاتے ہیں،ہر سال 5ارب سے کچھ ذیادہ مجروں،ریچھ کی لڑائیوں،کتا ریسوں، اور بٹیربازیوں جیسی خرافات میں خرچ کرتے ہیں، جو ہر سال 40 کروڑ کی نئی گاڑیاں لیتے ہیں،2 کروڑ کا تمباکو پیتے ہیں،انہیں نے نہیں دی امداد۔۔۔۔اگر دی بھی تو صرف اتنی جو ان کے ایک یا دو دن کے خرچے جتنی ہو ۔۔۔وہ بھی خبر لگوا کر“۔۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا“ تمہیں تنقید کی بیماری ہو گئی ہے بھائی! اپنا علاج کرواں“۔۔۔۔یہ سنتے ہی وہ بھڑک اٹھا“ تم اسے تنقید کہتے ہو،تم اسے بیماری کہتے ہو،تمہیں اس میں میرا دکھ نظر نہیں آتا“ میں ے کہا “ہاں یہ تنقید ہے ۔۔۔۔ تنقید۔۔۔۔اور بس۔۔۔خومخواہ کی نقطہ چینی“ اور یہ کہتے ہوئے اٹھا اس سے ہاتھ ملایا اور گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔وہ پیچھے سے کہنے لگا یہ تنقید نہیں یہ دکھ ہے۔۔۔۔یہ واویلا ہے۔۔۔۔یہ حق کی آواز ہے۔۔۔۔۔ مجھے منہاجین کا جملہ یاد آ گیا جو اس نے محفل میں کئی جگہ پر لکھا ہے “لکھ دیا ہے تا کہ سند رہے“ (کچھ حوالوں کی تصدیق یہاں(1,2,3) سے ہو جائے گی باقی اخباری رپوٹوں اور مختلف کالموں سے مستعار لیئے ہیں ان کے لنک فراہم کرنا ممکن نہیں کیونکہ وہ نیٹ پر نہیں ملے)