ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/19/05

دو شعر

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا ہی قصور نکلے گا!۔

.........................

مزہ برسات کا چاہو تو اِنآنکھوں میں آ بیٹھو۔

وہ برسوں میں برستا ہے یہ برسوں سے برستی ہیں


بارھواں کھلاڑی

خوشگوار موسم میں

ان گنت تماشا ٔی

اپنے اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں

اپنے اپنے پیاروں کوداد دینےآتے ہیں

اور میں الگ سب سے

بارھویں کھلاڑی کو ہوڈ کرتا رہتا ہوں

بارھواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے

کھیل ہوتا رہتا ہے

داد پڑتی رہتی ہے

اور وہ

الگ سب سے

انتظار کرتا ہے

ایک ایسے لمحے کا

ایک ایسی ساعت کا

جس میں سانحہ ہو جا ٔے

جس میں حادثہ ہو جأے

پھر وہ کھیلنے نکلے

تالیوں کے جھرمت میں

اِک لمحہ خوش کُن

ایک نعرہ تحسین

اسکے بھی نام ہو جأے

لیکن

ایسا کم ہی ہوتا ہے

پھر بھی لوگ کہتے ہیں

کھیل سے کھلاڑی کا

عمر بھر کا رشتہ ہے

ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

والی آخری وِسل کے ساتھ

ڈوب جانے والا دل ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

تم بھی افتخار عارف

بارھویں کھلاڑی ہو

انتظار کرتے ہو

ایک ایسے لمحے کا

ایک ایسی ساعت کا