“تم انٹرویوں کے لئے تیار ہو؟"
جی جناب
“اچھا یہ بتاؤ عوام کہ بارے میں تمہاری کیا رائے ہے"
جی بہت تیز و سمجھدار ہوتی جارہی ہے اب انہیں دھوکے میں رکھنا ممکن نہیں!
“اچھا! یہ بتاؤ تمہیں اس عوام کے لئے سوچنے کو کس ملک کی فضاء بہتر معلوم ہوتی ہے"
جی ان کے لئے سوچنے کے لئے ان کے درمیان میں ہی رہنا ضروری ہے، ان سے دور جا کر کیسے ان کی پریشانیوں کے بارے میں جانا اور اُن کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے! ناممکن
“خیر یہ فرض کرو میں تمہارا کزن لگتا ہوں کل شام تم نے میرے گھر پر میرے ساتھ کھانا کھایا ہے میرا تعلق تمہاری مخالف جماعت سے ہے آج ایک پارٹی میٹنگ میں تم نے میرے بارے میں اپنی رائے دینی ہ"
جناب میں کیسے اپنے خاندان کے فرد کو صرف سیاسی اختلاف پر ذاتی سطح پر تنقید کرنے ہے۔
“اچھا تم اپوزیشن میں ہو تمہاری مخالف پارٹی تمارے علاقے کے لوگوں میں امداد تقسیم کرتی ہے! اس پر تم کیا بیان جاری کرو گے"
یہ کہ میں ہر اچھے کام موجودہ حکومت کا ساتھ دوں گا
“تمہاری تعلیم کتنی ہے؟"
جی ایم اے کیا ہے
“اصلی ڈگری ہے؟"
جی سو فیصد
“آپ ہماری پارٹی کے رکن نہیں بن سکتے آپ ایک ناکام امیدوار ہے! سیاست آپ کے بس کا کام نہیں"
جعلی ڈگریاں آجکل ہاٹ ایشو بن گئی ہیں
جواب دیںحذف کریںمولانا کو بھی بے چینی ہونے لگی ہے
بہت گہری بات کہی آپ نے بظاہر اس سادہ سے مکالمے میں۔ اس کو بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے
جواب دیںحذف کریںبہترین طنز ہے. کجھ اسی طرح کی کئی باتیں هیں جن سے بندھ ناکام پاکستانی بھی ثابت هوتا ہے اور باہر رہتا ہے
جواب دیںحذف کریںبہت خوب!
جواب دیںحذف کریںیہ مکالمہ ہمارے سیاسی تنظیموں کی ترجیحات کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔
ميں نے تو مکالمے کو زبردست شست نہيں کہنا برادری کا منہ بھی رکھنا ہوتا ہے ميرے کزن اسمبلی ميں ہيں اور وہ بھی ڈگری يافتہ
جواب دیںحذف کریںوزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک اور نرالی منطق پیش کردی ہے۔ صاحب جی کہتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی،۔
جواب دیںحذف کریںبہت خوب بھیا!اِس چھوٹے سے مکالمے کا مصالحہ پسند آیا
جواب دیںحذف کریں