پاکستان تصاویر خبر پر تبصرہ لطیفہ معاشرہ twitter بجٹ کہانی Shoiab Safdar Ghumman شیئر کریں: فیسبک X واٹس ایپ پچھلی تحریر → اگلی تحریر ← ملتی جلتی تحریریں تحریریں تلاش کی جا رہی ہیں... تبصرے احمد عرفان شفقت6/07/2010 12:31:00 PMیہ صاحب رکشہ تو کوئی صاحب قلم لگتے ہیں۔جواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںمحمد احمد6/07/2010 01:17:00 PMکیا کہنے صاحب، دور اندیشی کی نعمت بھی کسی کسی کو میسر آتی ہے۔جواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںافتخار اجمل بھوپال6/07/2010 02:01:00 PMلاہور ميں ايسے کچھ رکشے ہيں جن پر يہ سب لکھا جاتا ہے ۔ کوئی ادارہ ہے جو يہ کام کر رہا ہے اب مال يا ميکلوڈ کی طرف گيا تو کسی ايسے رکشا والے سے تفصيل معلوم کروں گاجواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںمحمداسد6/07/2010 03:52:00 PMہماری کریٹویٹی رکشاوں کے پیچھے ضائع ہورہی ہے۔ اگر موقع ملے تو ہم اتنے ورڈس ورتھ اور شیکسپیر پیدا کرلیں گے کہ لوگ اصلی والے کو بھول جائیں۔جواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںیاسر خوامخواہ جاپانی6/07/2010 04:45:00 PMبے شک زرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقیجواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںپھپھے کٹنی6/08/2010 12:02:00 PMوکيلوں کا کيا ہو گا پتے پہن کر ہر روز احتجاج کيا تو - - -جواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںتبصرہ شامل کریںمزید لوڈ کریں... ایک تبصرہ شائع کریں
یہ صاحب رکشہ تو کوئی صاحب قلم لگتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںکیا کہنے صاحب، دور اندیشی کی نعمت بھی کسی کسی کو میسر آتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںلاہور ميں ايسے کچھ رکشے ہيں جن پر يہ سب لکھا جاتا ہے ۔ کوئی ادارہ ہے جو يہ کام کر رہا ہے اب مال يا ميکلوڈ کی طرف گيا تو کسی ايسے رکشا والے سے تفصيل معلوم کروں گا
جواب دیںحذف کریںہماری کریٹویٹی رکشاوں کے پیچھے ضائع ہورہی ہے۔ اگر موقع ملے تو ہم اتنے ورڈس ورتھ اور شیکسپیر پیدا کرلیں گے کہ لوگ اصلی والے کو بھول جائیں۔
جواب دیںحذف کریںبے شک زرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی
جواب دیںحذف کریںوکيلوں کا کيا ہو گا پتے پہن کر ہر روز احتجاج کيا تو - - -
جواب دیںحذف کریں