6/07/2010

بجٹ کہانی


6 تبصرے:

  1. یہ صاحب رکشہ تو کوئی صاحب قلم لگتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا کہنے صاحب، دور اندیشی کی نعمت بھی کسی کسی کو میسر آتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. لاہور ميں ايسے کچھ رکشے ہيں جن پر يہ سب لکھا جاتا ہے ۔ کوئی ادارہ ہے جو يہ کام کر رہا ہے اب مال يا ميکلوڈ کی طرف گيا تو کسی ايسے رکشا والے سے تفصيل معلوم کروں گا

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہماری کریٹویٹی رکشاوں کے پیچھے ضائع ہورہی ہے۔ اگر موقع ملے تو ہم اتنے ورڈس ورتھ اور شیکسپیر پیدا کرلیں گے کہ لوگ اصلی والے کو بھول جائیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. بے شک زرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی

    جواب دیںحذف کریں
  6. وکيلوں کا کيا ہو گا پتے پہن کر ہر روز احتجاج کيا تو - - -

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔