6/13/2010

جنس سے فحاشی تک

جہاں جنس کا ذکر آئے یار لو کمرے کے دروازے کی طرف ضرور دیکھتے ہیں پھر اطمینان کرنے کے بعد ماؤس آگے بڑھاتے ہیں۔ اب کیا کہا جائے اردو بلاگنگ کے بلاگز اب اپنی تحریروں تاریک گوشوں کا ذکر کرتے ہیں تو انکشاف ہوتا ہے یہ ادب ہے!
آج سے چھ سال پہلے پاکستانی sex کافی گوگلتے تھے، اتنا کہ گوگل رجحان میں ابتدائی دس ممالک میں ملک کو نام بھی شامل ہو گیا تھا مگر اب اس میدان میں بھی پستی کا سامنا ہے ممکن ہے یہ ملک میں انتہاپسندی کے فروغ کی بنا پر ہوا ہو۔
بات یہ ہے کہ آج ہم اس بلاگ پر پہنچے جہاں علی نے بھارتیوں کو اس بناء پر ٹھرکی قرار دیا کے removing لکھنے پر گوگل انڈیا عوامی رجحان کی جانچ کی بناء پر نامعقول الفاظ تجویز کرتا ہےجبکہ گوگل بین الاقوامی شریفانہ الفاظ تجویز کرتا ہے جس کا اندازہ ذیل کی تصاویر سے لگا سکتے ہیں۔

اب گوگل انڈیا

ویسے گوگل پاکستان بھی اچھے تلاش کے الفاظ تجویر نہیں کرتا ذیل سے اندازہ لگا لیں۔

9 تبصرے:

  1. شعیب بھائی
    لگتا ہے آپ کوئی نئی لڑائی ڈلوانے کے چکروں میں ہے۔ بحرحال۔۔خوب لکھا ہے۔ لیکن اشاروں کنائیوں میں اگر جنس پر بات ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اچھا پہلوہو یا برا۔۔۔ہے تو یہ بھی زندگی کا حصہ۔ اور پھر دنیا بھر کے ادب میں یہ زیر بحث آتا ہے۔ تو پھر اردو میں کوئی نہیں۔
    بہرحال۔۔۔مادر پدر آزادی کے خلاف تو میں بھی ہوں

    جواب دیںحذف کریں
  2. بات یہ ہے کہ اجکل ہمارے بلاگرز کافی روشن خیال ہوگئے ہیں۔
    بہرحال یہ ان کا ذاتی فعل ہے اس لیے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
    شاید موضوعات کی کمی ہے یا یکسانیت سے گھبرا گئے ہیں،
    یا گرمی کا اثر ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ انتہا پسندی کے روشن پہلو اور افادیت سامنے لانے میں اتنی محنت کرتے ہیں۔ اتنی محنت تو انتہا پسند بھی اپنے مءوقف کو بیان کرنے میں نہیں کرتے۔
    حالانکہ بات یہ ہے کہ پہلے لوگوں کو یہ نہیں معلوم تھآ کہ انکی اس سرگرمی کو بھی چیک کیا جا سکتا ہے۔
    لوگوں کو یہ نہیں معلاوم تھا کہ جب وہ سرچ کرتے ہیں تو ایک ریکارڈ انکے کمپیوٹر میں جمع ہوجاتا ہے۔ حضرات یہ حرکت اپنے آفس کے کمپیوٹر پہ زیادہ کرتے تھے۔ اب لوگ محتاط ہو گئے ہیں۔ ورنہ ایک شرح ان واقعات کی بھی نکالیں جس میں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔ اس یادداشت کے ساتھ کے بیشتر ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے تو آنکھیں کھل جائیں گی اور بہت دیر کھلی رہیں گی۔
    اور دسورے مزے کی بات یہ بھی ذرا ڈھونڈنے میں خرچ کریں کہ تعلیم یافتہ شہری جو کئ نسلوں سے شہر میں مقیم ہیں اور وہ لوگ جو دیہاتی پس منظر رکھتے ہیں اور سرسری سی تعلیم رکھتے ہیں ان میں سے کون زیادہ جنس کو موضوع بناتا ہے ۔ تو روشن خیالی کا بھوت بھی سر سے اتر جائے گا۔
    جب آپ کسی ایک معاشرتی روئیے کا تجزیہ کرنا واقعی چاہتے ہیں تو اسکے لئے صرف ایک یا دو پیرامیٹرز کافی نہیں ہوتے۔ اس سے عام طور پہ ایسے ہی گمراہ کن نتائج نکلتے ہیں جسکے بعد وہ لوگ جو اس میں درپردہ خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھِ کہتے ہیں۔ لاحول ولاقت، کیا بے حیائ کا زمانہ آگیا ہے۔ یہ سب جدید ترقی، روشن خیالیت، تعلیم، مذہب سے دوری، پرانی اقدار کے ختم ہونے سے، نئ نسل کے بے راہ رو ہونے سے، زرداری کے صدر بننے سے، مشرف کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے سے، مشرف کے طبلہ بجانے سے البتہ میرا یا ریما کے ٹھمکے لگانے سے نہیں کہ وہ یہ کام پچھلے بیس سال سے کر رہی ہیں، قصائ کے غلط طریقے سے گوشت کاٹنے سے، دودھ والے کے آانکھ کے آپریشن کے بعد سے، ہیلے کا دم دار ستارہ گذرنے کے بعد سے، خواتین کے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد سے، بزرگوں کا احترام اٹھ جانے کے بعد سے میرے گھر میں جمعدار کے کچرے نہ اٹھانے کے باعث، پڑوس میں چودہ سالہ لڑکی کے اب تک شادی نہ ہونے کے باعث اور آدھی رات کو بلی کے رونے کی وجہ سے ہوا، وغیرہ وغیرہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. آپ بھی اتنی ہی محنت سے ابتہا پسندی کے تاریک گوشوں کو منظر عام پر لائیں! ناراض ہونے والی کون سے بات ہی اس میں۔
    یہ دفتر میں حضرات کی عادات کا علم آپ کو تجربہ سے ہوا یا مشاہدہ سے؟
    شہر میں رہتے ہوئے ہم دیہاتی پس منطر والے لوگوں کے بارے میں اپ کے مشاہدے کے بارے میں کیا کہو البتی یہ وضاحت کر دوں کہ 2006 میں انترنیت شہروں میں ہی تھا وہ گوگل رجحان کچھ تھا اب کچھ۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. تجربہ تو ذاتی ہوتا ہے جو دوسروں کو دیکھ کر معلوم ہو وہ مشاہدہ کہلاتا ہے۔ اور آپکو معلوم ہے کہ میں ایک خاتون ہوں اور یہ تبصرہ حضرات کے بارے میں کیا گیا ہے۔ آپکا سوال صحیح نہیں وکیل صاحب۔ صحیح معلومات کے لئے سوال اس طرح ہونا چاہئیے کہ--------------لیکن میں کیوں بتاءوں کہ مجھ سے بات نکلوانے کے لئے صحیح سوال کیا ہونا چاہئیے۔
    تو آپکا خایل ہے کہ یہ ان دیہاتی پس منظر رکھنے والے لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو دن کو بکریاں چراتے ہیں اور رات کو گوگل پہ سرچ کرتے ہیں۔
    یہ آپ پہلے نہیں جن سے میں نے یہ سوال کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی میں یہ سوال کئ لوگوں سے پوچھ سکتی ہوں۔ ہمیشہ مجھے جواب دینے والے نے کوئ وجہ بتائ ہے۔ اسکا مطلب وہ اسے قبول کرتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. اوہ تو آپ صرف حضرات کی بات کرتی ہیں! باقی جو سوال کر کے جو جواب لینا تھا وہ تو مل گیا آپ سے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلا دیکھ لیں۔
    باقی سوال میں سمجھ نہیں سکا سوال آپ کریں میں اس کا مفصل جواب دینے کی کوشش کرو گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. وکیل صاحب یه سارے لوک اپنی عنیقه بی بی سے کیوں "کھینے" لگے هیں ؟
    میں بھی پینڈو هوں اور واوا سارا پینڈو هوں لیکن اس نے نہین کھیتا
    یار جی بندھ مشاھدے کا غلام هوتا هے اور جس کا جو مشاھدھ ہے وھ وھی سچ جانتا هے
    میرے اور اب کے مشاھدے میں بھی فرق ہے تو عنیقه صاحبه کا اپنا مشاہدھ ہے

    جواب دیںحذف کریں
  8. ؀ خاور کھوکھر،اس لیئے کہ عنیقہ لوگوں کو آئینہ دکھاتی رہتی ہیں اور آئینہ دکھانے والے بھلا کس کو اچھے لگتے ہیں!
    :)
    برا نہ مانئیے گا مگر آپکا مشاہدہ خاصا خطرناک ہے!

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔