4/08/2010

انا بمقابله جھالت

اگر میں کسی بات سے ناعلم ھو تو مچھے یه مان جانا چاھئے که میں ناواقف ھوں. مگر مجال ھے جو ھماری انا ھمیں ایسا کرنے دے تب ھم تاویل و توجهه سے کام لیتے ھیں. یوں ھماری انا ھمیں جھالت کے دائرے میں داخل کر دیتی ھے. ( موبائل پوسٹ)

5 تبصرے:

  1. ہر چیز کا علم صرف اللہ کو ہے مگر بندے محض کسی شخص کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ آپکو یہ نہیں معلوم کہ گائے کے گوشت میں پٹ کا گوشت کسے کہتے ہیں بات کرنے چلے ہیں دنیا کی تو اصل حہالت یہ ہوتی ہے۔
    کس کے پاس علم ہے تو عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سے اس طرح حاصل کر لیا جائے کہ اسے بھی نہ پتہ چلے اورآپ بھی اپنے آپ کو بہتر کر لیں۔۔ لیکن معاشرتی رویہ ہے کہ خود ایک شخص کو چاہے کچھ نہ آتا ہو۔ مگر جیسے ہی کسی کے بارے میں پتہ چلے کہ اسے کچھ آتا ہے اسکے خلاف صف آراء ہونے میں، اور وہ مواقع تلاش کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے کہ آپ کو آتا کیا ہے۔ اسے آپ کیا کہیں گے؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. اسی ليے تو ميں علم و ہنر والے معاملات ميں دخل نہيں ديتی بس انہی معاملات ميں ديتی ہوں جنکا مجھے پتہ ہوتا ہے بڑی اچھی بچی ہوں ميں ہے ناں شعيب انکل

    جواب دیںحذف کریں
  3. میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گا سوائے اس کے کے لفظ لاعلم ہوتا ہے نا علم نہیں!
    :)

    جواب دیںحذف کریں
  4. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    اللہ تعالی نےسب سےپہلےابتداء کی اقراباسم رب کی آیت سےکہ پڑھ
    لیکن ہم لوگ علم کی اہمیت کونظراندازکرچکےہیں ہمارےنزدیک علم تعلیم بس ڈگری کاحصول ہےاورنوکری جبکہ علم تووہ خزینہ ہے جوکہ انسان کوخداسےملاتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

    جواب دیںحذف کریں
  5. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    اللہ تعالی نےسب سےپہلےابتداء کی اقراباسم رب کی آیت سےکہ پڑھ
    لیکن ہم لوگ علم کی اہمیت کونظراندازکرچکےہیں ہمارےنزدیک علم تعلیم بس ڈگری کاحصول ہےاورنوکری جبکہ علم تووہ خزینہ ہے جوکہ انسان کوخداسےملاتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔