ہندوستانی سپریم کورٹ کے ریمارکس!

آج کل شادی کر لیتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں ہم نے نہیں کیا۔ تین دن سے ہم ٹی وی پر یہ دیکھ رہے ہیں۔

دلچسپ! آپ کو نہیں لگی یہ بات ؟ مجھے تو بہت لگی ہے بلا آخر شعیب ثانیہ کی شادی ہندوستان کی سپریم عدالت میں بھی مقدمہ سماعت کے دوران آ گئی۔۔۔۔ میڈیا کا کمال یا شادی کا!

ویسے ایک اور بات دلچسپ لگی بی بی سی کے نمائندے سے لے کر کرکٹ کھلاڑیوں تک تمام افراد عائشہ سے ملنے میں ناکام رہے ہیں اب سے نہیں ابتدا سے اور وہ خود بھی میڈیا میں آنے سے انکاری ہیں کیا بات ہے۔

ایک ٹی وی کمپیر کا فیس بک پر اسٹیٹس تھا "انڈیا والے سارے، لگتے ہیں سالے ہمارے"

یہ پوسٹ بس شغل میں کی ہے۔

تبصرے ()

خرم ابنِ شبیر
خرم ابنِ شبیر 4/06/2010 02:44:00 AM
جی میں بھی یہ تبصرہ شغل میں ہی کر رہا ہوں
جعفر
جعفر 4/06/2010 09:31:00 AM
اوہ۔۔۔ تو پہلے آپ سنجیدگی سے پوسٹیں کرتے رہے ہیں؟؟
عنیقہ ناز
عنیقہ ناز 4/06/2010 11:16:00 AM
اس وقے جبکہ ساری قوم اپنے توے پہ روٹیاں جلا رہی ہے مگر کچھ ہوش نہیں سوائے اسکے کہ یہ شادی ہوگی یا نہیں۔ آپ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اب آپکو سڑیل کیوں نہ کہا جائے۔
:)
احمد عرفان شفقت
احمد عرفان شفقت 4/06/2010 02:09:00 PM
ویسے ایسی شغلیہ پوسٹیں ہوتی رہنی چاہییں۔ کیوں جی؟
افتخار اجمل بھوپال
افتخار اجمل بھوپال 4/06/2010 05:29:00 PM
عام آدمی چاہے بھائی يا خالہ پھوپھی ماموں چچا زاد ہو يا کوئی دوست کبھی کسی نے اُس کی شادی کو اتنی اہميت دی ہے جتنی اس شادی کو دی جا رہی ہے ؟

بيگانی شادی ميں سب ہوئے ہيں ديوانے ۔ کيوں ؟

کيا ان لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی اچھا کام نہيں ؟

اور بات روٹياں جلنے کی ہو رہی ہے مگر دراصل ان لوگوں کے دل جل رہے ہيں
پھپھے کٹنی
پھپھے کٹنی 4/06/2010 11:07:00 PM
شادی بھی شغل شغل ميں ہی ہو رہی ہے

اپنا تبصرہ دیں