2/06/2009

چلو کوئی تو دلپسند خبر ملی۔

یوں تو اَسے اچھی خبر کہا جائے گا مگر سچی بات ہے اس خبر کو سُن کر یقین نہیں آ رہا! مجھے امید نہیں تھی کہ کبھی ایسا ہو گا! واقعی ہم اپنے محسنوں کو اُن کی زندگی میں عزت و احترام واپس لوٹا دیں گے! بنیادی طور پر یہ ہمارا قومی مزاج تو نہیں، ماضی تو ایسا شاندار نہیں ہے! جب پہلے پہل یہ خبر مجھ تک پہنچی تو میں نے اَسے رد کر دیا تھا ! میرا رد عمل تھا، “”چل اوٗئے! ایسا نہیں ہوسکتا! یہ عدالتیں ایسا نہیں کر سکتی، ڈوگر والا کیس سامنے ہے پھر یہ اسلام آباد کی  ہائی کورٹ؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو ویسے بھی ابھی تک مخصوص آئینی سقم کی بنیاد پر ہے ہی غیر آئینی عدالت”

مگر شکر ہے میری سوچ فیصلے ہی حد تک غلط ثابت ہوئی!

تمام محب وطن پاکستانیوں کو اپنے ہیرو کی آزادی مبارک ہو!

ہاں اب باقی دنیا کے ردعمل کو دیکھنا ہو گا! اور یہ بھی منفی ہونے کی صورت میں حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے؟ نیز عدالتی حکم پر کتنا اور کب تک عمل ہوتا ہے؟

6 تبصرے:

  1. ہم نے بھی آپ کی پوسٹ کے موضوع کی طرح کا پیغام اجمل صاحب کے بلاگ پر چھوڑا ہے۔ ہمیں بھی واقعی یقین نہیں آ رہا اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس فیصلے پر کتنے دن عمل ہوتا رہے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. الف نظامی2/07/2009 12:16:00 AM

    ایہہ گل ہوئی نا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بھیا آپ بھی بہت سادہ ہیں، ایک ہائی کورٹ کا جج اپنے طور اتنا بڑا فیصلہ کہاں لے سکتا ہے، اسکی کڑیاں کہیں اور سے ملتی ہیں۔ ویسے بھی ڈاکٹر صاحب نے سادگی سے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے، ہائی کورٹ کا نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. افضل صاحب یہ تو دیکھنا پڑے گا!!

    الف نظامی و عبدلقدوس تبصرے کا شکریہ!!!
    فیصل میں آپ سے متفق نہیں ہو سکتا! یہ بات تو سامنے کی ہے کہ یہ فیصلہ حکومت و عبدلقدیر کے درمیان عدالت سے باہر ہونے والے معاہدہ کی وجہ سے ہوا ہے جس کا ذکر ہر جگی ہے مگر معاہدہ کیا ہے یہ راز ہے مگر جج اور خاص طور پر ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے جج کی طاقت کا آپ کو اندازہ نہیں!! وہ قانون کی روشنی میں بے پناہ طاقت کا حامل ہوتا ہے!!! اور انصاف پسند ججوں کے سامنے حکومت اپنے کیس لگانے سے بعض اوقات ڈرتی ہے!! میں وکیل ہوں اور ہاءی کورٹ میں یہ تماشہ دیکھتا رہتا ہوں کیسے پھر سرکاری عملہ و سرکاری وکیل کیس چلانے کے بجائے اگلی تاریخ لینے کی کوشش کرتا ہے!!۔
    اور ڈاکٹر صاحب نے اُس عدالت کے باہر ہونے والے معاہدہ کی بناء پر شکریہ ادا کیا ہے!!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. جج قانون کی روشنی میں بے پناہ طاقت کا حامل ہوتا ہے
    کونسا جج اور کونسے قانون کی روشنی میں؟
    صرف من چاہا جج من چاہے قانون کی روشنی میں
    آپکے اس بلاگ کی فیڈ میرے ریڈر سے اوجھل تھی، آج دوبارہ ایڈ کی ہے

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔