یہ لطیفہ چند دن پہلے ایک کالم میں پڑھا تھا!!!!!
ایک بازار سے ایک سرکاری افسر کا گزر ہوا، اس نے وہاں موجود ایک لڑکی پر آواز کَسی!!! لڑکی کا بھائی وہاں موجود تھا اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس افسر کو مارنا شروع کردیا!!! لڑکی کا باپ وہاں سے گزرا اسے اصل بات کا علم ہوا تو اس نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا!!! لڑکی کا منگیتر بھی اتفاق سے آ پہنچا!!! حالات کا علم ہوا تو وہ بھی افسر کو پیٹنے لگا!!! اہل بازار بھی کچھ دیر بعد افسر کو مارنے والوں میں شامل ہو گئے!
اب افسر کی مدد کو تھانیدار بمعہ سپاہیوں کو آگیا!! افسر صاحب کو ان سے بچا لیا گیا!!! اور تمام لوگوں کو ایک قطار نے کھڑا کردیا گیا!!!
سرکاری افسر نے لڑکی کے بھائی سے سوال کیا “تم نے کیوں مارا مجھے“
اس نے بتایا کہ میں لڑکی کا بھائی ہو، باپ سے پوچھا تو اس نے بتایا کی میں لڑکی کا باپ ہو!!! منگیتر کا جواب بھی یہ ہی تھا کہ لڑکی کا منگیتر ہونے کی وجہ سے میری غیرت نے مجھے مجبور کیا!!!!
اس کے بعد سرکاری افسر نے باقی لوگوں سے پوچھا تو ان کا جواب تھا!!
“ہم سمجھے کہ حکومت چلی گئی ہے“
اس لطيفہ کا مزا صرف نوجوانوں کو آ سکتا ہے ۔ کيا خيال ہے ۔
جواب دیںحذف کریںآپ قانون دان ہيں ميں توقع رکھتا تھا کہ آپ حدود آرڈننس کے ترميمی بل پر کچھ لکھيں گے
اگر سرکاری افسر کو فوجی افسر پڑھا جائے تو لطیفے کا مزہ بڑھ جائے گا۔
جواب دیںحذف کریںوکالت کرتا ہو مگر قانون دان مت کہئے!!!!! قانون دان ہونے کے لئے ابھی وقت چاہئے!!!!
جواب دیںحذف کریںباقی جب تک نئے قانون کا مسودہ نہ دیکھ لو کچھ کہنا مشکل ہے!!!