4/20/2006

بری بات

منزل کی ہے تلاش راستوں کی بھیڑ میں وفا کی ہے امید بے وفا کی دید میں آنسوؤں کی ہے قطار دکھوں کہ جھیل میں خوشی کی ہے تلاش زخموں کی سیج میں ملتے نہیں ہمدرد ٹھوکروں کی چھاؤں میں پھر کیوں ہے تجھے اعتبار نظروں کے دیس میں قید حیات میں ، اندھیروں کی بستی میں روشنی کی تلاش ہے بند کھڑکیوں کی اوٹ میں سوچیں ہیں گرفتار آزمائشوں کے جال میں ہر آنکھ ہے اشک بار مقدر کے کھیل میں

کسی کی ڈائری پڑھنا بری بات ہے!!!! یہ بری بات آج میں نے کی آج!!!!اپنی ہمشیرہ کی ڈائری پڑھ لی!!! یہ غزل/نظم اس میں تھی، معلوم ہوا اس کی اپنی ہے!!!! اب یہ بغیر اجازت اپنے بلاگ میں شامل کر رہا ہوں!!!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔