ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 10/23/06

مسلم علماء کا پوپ کے نام خط

مسلم علماء کی جانب سے پوپ کے نام لکھے گئے خط کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ایک ماہ کے مسلمان


رمضان ختم! روزے ختم! میرے جیسوں کے تو فاقے ہی تھے لہذا فاقوں کے سلسلے کا خاتمہ ہوا!!! بھوک پیاس ہی برداشت کی عمل تو وہ ہی پرانے والے تھے سارے کے سارے!! حلال اشیاء کھانے کی حد تک ہی ایک خاص مدت کےلئے حرام ہوتی تھیں!!! مگر باقی کئی حرام کام حلال کاموں کی طرح ہی جاری رہے!!! جیسے ایک دن کورٹ\دفتر جاتے ہوئے کانوں سے ہیڈفون لگائے کانے سن رہا تھا، ایک بزرگ نے منع کیا کہ بیٹا گانے سننا اسلام میں ویسے ہی منع ہے پھر روزے کی حالت میں تو خاص احتیاط کرنی چاہئے!!! کہا آپ درست فرماتے ہیں!!! اور کانوں سے ہیڈفون اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیا!!! پانچ منٹ بعد ہم پھر ایف ایم سن رہے تھے!! انہوں نے ہمیں دیکھا مگر خاموش رہے!!! رات کو خود احتسابی کے وقت افسوس ہوا کہ وہ بزرگ کیا سوچ رہے ہو گے!!! کیسا بندہ ہے!! مگر اگلے دن ہم پھر ایف ایم سن رہے تھے!!! ایسا میرے ساتھ صرف موسیقی کی حد تک ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی معاملات میں ہوتا ہے رمضان میں!!! اب یہ حال ہے کہ معلوم ہے کہ یہ غلط کام ہے پھر بھی کر رہے ہیں!!! جس قدر غلط آدمی ہیں ہم !!! خدا رحم کرے!!!!
اس ماہ کئی افراد عملاَ بھی مسلمان ہوئے اور کئی زبانی جمع خرچ کرتے رہے میری طرح!!! شہر میں افطار پاڑٹیاں بھی کافی ہوئیں آخری عشرے میں تو دو دو جگہ سے دعوتیں موصول ہو رہیں تھیں!!! سمجھ نہ آتا تھا کہ کہاں جائیں کہاں نہ جائیں!! افطار پارٹی کا ایک فائدہ ہے کہ پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے!! افطار پارٹی میں شرکت کرنے والوں میں کئی احباب ایسے بھی تھے جو سارا دن افطار کرتے رہتے تھے اور شام کو صرف پارٹی اٹینڈ کرنے آ جاتے!!! ان کی خوش خوراکی معاملے کی وضاحت کر دیتی تھی!!!
اکثر نیک لوگوں نے روزے داروں کی افطاری کا انتظام راستے میں ہی کررکھا ہوتا تھا کہ جو لوگ گھر نہ پہنچ پائیں وہ وہاں ہی رُک کر روزہ افطار کرلیں!!! کچھ حقیقت میں مجبوراَ وہاں روزہ افطار کرتے اور بعض نیتَ وہاں پہنچ جاتے تھے!!! اعمال کا دارومدار نیت پر ہے!! خیر سڑک کے کنارے ایسا افطاری کا انتظام ایک مسلم معاشرے ہی میں ممکن ہے!!!
رمضان میں اللہ کے گھر میں حاضری دینے والوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ،مساجد میں نمازیوں کی تعداد دوگنی سے بھی ذیادہ ہو گئی!!!! بلکہ علاقے کی مسجد کے مولوی صاحب تو تلقین کرنے لگے کہ بھائی رمضان کے علاوہ بھی مسجد میں حاضری قائم رکھی جائے!!! تراویح کا معاملے میں البتہ گھر سے مسجد کے لئے نکلنے والوں کی تعداد مسجد میں حاضر ہونے والوں کے مقابلے میں ذیادہ ہوتی تھی!!!! باقی مسجد سے باہر ہوتے!!!
امید ہے کہ آج ساحلی علاقوں میں چاند نطر آجائے گا!! لہذا کل یہاں پاکستان میں عید ہو!!! ممکن ہے کہ جس لمحے آپ یہ پڑھ رہے ہو عید کا اعلان ہو چکا ہو!!! ویسے پاکستان میں کئی مقامات پر بھی آج عید منائی گئی اور عید کے اجتمات میں ملی یکجہتی کو فروغ دینے کا درس دیا گیا!!! ملت یکجا ہو کر عید تو مناتی نہیں ملی یکجہتی کیسے فروغ پائے؟؟؟؟
پاکستان میں تین دن کی سرکاری چھٹی دی گئی ہے!!! پیر، منگل اور بدھ!!! پیر کی چھٹی کس تُک میں دی گئی یہ بات سمجھ سے بالا ہے!!! فرض کیا کہ آج چاند نظر نہیں آتا تو عید کے دوسرے دن کام پر جانا کیسا لگے گا؟؟؟؟
خیر عید مبارک ہو !!! وہ بھی بہت بہت!!!!! اور عیدی!!! یار !! چھڈ اوے!!! نہ منگ یار!!!!

اپ ڈیٹ؛- عید بدھ کو ہے!!! اور جمعرات کو بھی چھٹی!!! کیا بات ہے بھائی!