راستوں کی مرضی ہے
بے زمین لوگوں کو
بے قرار آنکھوں کو
بد نصیب قدموں کو
جس طرف بھی لے جائیں
راستوں کی مرضی ہے
بے نشان جزیروں پر
بدگمان شہروں میں
بے زباں مسافر کو
جس طرف بھٹکادیں
راستوں کی مرضی ہے
روک لیں یا بڑھنے دیں
تھام لیں یاگرنے دیں
وصل کی لکیروں کو
توڑ دیں یا ملنے دیں
راستوں کی مرضی ہے
اجنبی کوئی لا کر
ہمسفر بنا ڈالیں
ساتھ چلنے والوں کی
راکھ بھی اُڑا ڈالیں
یا مسافتیں ساری
خاک میں ملا ڈالیں
راستوں کی مرضی ہے
بے زمین لوگوں کو
بے قرار آنکھوں کو
بد نصیب قدموں کو
جس طرف بھی لے جائیں
راستوں کی مرضی ہے
(مصروفیت تا حال جاری ہے)۔
بہت عمدہ نظم ہے
جواب دیںحذف کریںبہت ہی زبردست جناب واہ کیا بات ہے
جواب دیںحذف کریںبہت اچھی نظم ہے یہ !
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںبہت خوب صورت نظم ہے۔ چلو آپ نطر آئے تو مصروفیت تو جاری ہی رہتی ہے۔
haahhahahaha after typing a whole line in 15 minutes i finally figure out that i can also rite in english.....lolzzzz.....anyways
جواب دیںحذف کریںits such a ncie poem....i have read it before to....who is the author....
یہ کس کی نظم ہے یہ معلوم ہوتا تو میں پہلے ہی لکھ دیتا۔۔۔۔ا
جواب دیںحذف کریںامجد اسلام امجد کی نظم ہئ یہ!
جواب دیںحذف کریںویسے میں دوبارہ اپنی ڈیئری سے دیکھوں ی :)
جواب دیںحذف کریںاسماء،شکریہ!!!!!!
جواب دیںحذف کریں