راستوں کی مرضی ہے

بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے بے نشان جزیروں پر بدگمان شہروں میں بے زباں مسافر کو جس طرف بھٹکادیں راستوں کی مرضی ہے روک لیں یا بڑھنے دیں تھام لیں یاگرنے دیں وصل کی لکیروں کو توڑ دیں یا ملنے دیں راستوں کی مرضی ہے اجنبی کوئی لا کر ہمسفر بنا ڈالیں ساتھ چلنے والوں کی راکھ بھی اُڑا ڈالیں یا مسافتیں ساری خاک میں ملا ڈالیں راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے (مصروفیت تا حال جاری ہے)۔

تبصرے

  1. بہت عمدہ نظم ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت ہی زبردست جناب واہ کیا بات ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت اچھی نظم ہے یہ !

    جواب دیںحذف کریں
  4. السلام علیکم
    بہت خوب صورت نظم ہے۔ چلو آپ نطر آئے تو مصروفیت تو جاری ہی رہتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. haahhahahaha after typing a whole line in 15 minutes i finally figure out that i can also rite in english.....lolzzzz.....anyways
    its such a ncie poem....i have read it before to....who is the author....

    جواب دیںحذف کریں
  6. یہ کس کی نظم ہے یہ معلوم ہوتا تو میں پہلے ہی لکھ دیتا۔۔۔۔ا

    جواب دیںحذف کریں
  7. امجد اسلام امجد کی نظم ہئ یہ!

    جواب دیںحذف کریں
  8. ویسے میں دوبارہ اپنی ڈیئری سے دیکھوں ی :)

    جواب دیںحذف کریں
  9. اسماء،شکریہ!!!!!!

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں