Pages

11/15/2005

راستوں کی مرضی ہے

بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے بے نشان جزیروں پر بدگمان شہروں میں بے زباں مسافر کو جس طرف بھٹکادیں راستوں کی مرضی ہے روک لیں یا بڑھنے دیں تھام لیں یاگرنے دیں وصل کی لکیروں کو توڑ دیں یا ملنے دیں راستوں کی مرضی ہے اجنبی کوئی لا کر ہمسفر بنا ڈالیں ساتھ چلنے والوں کی راکھ بھی اُڑا ڈالیں یا مسافتیں ساری خاک میں ملا ڈالیں راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے (مصروفیت تا حال جاری ہے)۔

9 تبصرے:

جواد نے لکھا ہے کہ

بہت عمدہ نظم ہے

Munir Ahmad Tahir نے لکھا ہے کہ

بہت ہی زبردست جناب واہ کیا بات ہے

اسماء نے لکھا ہے کہ

بہت اچھی نظم ہے یہ !

عتیق الرحمان نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم
بہت خوب صورت نظم ہے۔ چلو آپ نطر آئے تو مصروفیت تو جاری ہی رہتی ہے۔

زینیہ نے لکھا ہے کہ

haahhahahaha after typing a whole line in 15 minutes i finally figure out that i can also rite in english.....lolzzzz.....anyways
its such a ncie poem....i have read it before to....who is the author....

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

یہ کس کی نظم ہے یہ معلوم ہوتا تو میں پہلے ہی لکھ دیتا۔۔۔۔ا

اسماء نے لکھا ہے کہ

امجد اسلام امجد کی نظم ہئ یہ!

اسماء نے لکھا ہے کہ

ویسے میں دوبارہ اپنی ڈیئری سے دیکھوں ی :)

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

اسماء،شکریہ!!!!!!

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔