ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 10/01/10

زمانے کے انداز بدلے گئے!


اور ہیرو کیسا رہا آپ کا دورہ؟
“ارے مت پوچھو دورہ تو اچھا رہا مگر واپسی پر بہت تلخ تجربہ ہوا یار"
ارے ایسا کیا ہو گیا تمہارے ساتھ جو ایسے برتاؤ کر رہے ہو!
“یار واپسی میں ڈاکوؤں کے ہاتھ چڑھ گئے تھے"
ارے نہیں یار! کیسے؟ اور کیا ہوا!
“کیسے کیا بس ہو گیا ناں! اب کیا تفصیل بتاؤ!”
ہمم چلو کیا نقصان ہوا؟
“کچھ ذیادہ نہیں بس بیس پچیس ہزار ہی گیا ہے مگر کئی لوگوں کا ذیادہ بھی ہوا ہے نقصان"
چلو جان ہے تو جہان ہے زندہ بچ گئے یہ ہی کافی ہے! نقصان کو پورا ہو ہی جاتا ہے۔
“ہاں یہ تو ہے، مگر اس لوٹ مار میں ایک عجیب معاملہ دیکھنے کو ملا"
وہ کیا؟
“یار ڈاکو مسافر سے اُس کا نام و قبیلہ پوچھتے تھے! پھر اُس کے مطابق اُس سے سلوک کرتے! پہلے پہل سید مسافروں کو ایک طرف کر دیا! میں نے دیکھا کہ سیدوں کے ساتھ کچھ نرم سلوک ہے تو میں بھی سید بن گیا"
شاباش! بڑی ذہانت دیکھائی، ویسے یہ تو ہے ہمارے یہاں سیدوں کا لوگ کافی احترام کرتے ہیں۔
“ارے کہاں بھائی! جب ڈاکوؤں نے سیدوں کو چھوڑ کر سب کو لوٹ لیا تو ایک ڈاکو کو مخاطب کر کے اُن کے لیڈر نے کہا '۽ اسان پنهنجو ڪم ڪري ڇڏيو، هاڻي اوهان پنهجي رشتیدارن سان نڀايو' (ترجمہ: ہم نے اپنا کام کر لیا ہے اب تم اپنے رشیداروں سے نمٹو)"
او نہیں یار!! مطلب سید ڈاکو؟
“ہاں بھائی"
مگر یہ آئیڈیا اُن کے دماغ میں کہاں سے آیا؟
“ممکن ہے موجودہ حکومت سے! بڑا وزیر بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔"

نوٹ: اگر کسی کو یہ تحریر پسند نہ آئے تو اس تحریر نوٹ کو معذرت کے طور پر قبول کرے۔