ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 11/03/09

ایک شریف آدمی۔۔۔۔

وہ  بزرگ دفتر میں داخل ہوئے تو اُس وقت میں اور میرا دوست ایک کیس کے بارے میں آپس میں مختلف زاویوں سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ انہیں کوٹ میں سے کسی نے ہماری طرف refer کیا تھا، ہم نے اُن سے اُن کے کیس کے بارے میں سوال کیا تو اُن کے کہانی سے معلوم ہوا کہ جوان بیٹے پر چار مختلف کیس بنے ہیں جن کی بناء  پر وہ جیل میں ہے اور اُن کی پہلی خواہش اُس کی ضمانت  کروانا ہے وہ بھی جلد از جلد۔ ہم نے اس سلسلے میں اُن کے بیٹے کے خلاف بننے والے کیسوں کی کاپیاں مانگی جو اُن کے پاس نہیں تھیں لہذا وہ لانے کا کہا جواب میں انہوں نے پوچھا کہاں سے ملیں گی؟
ہم نے اس سلسلے میں اُنہیں دو طریقے بتائے اول قانونی دوئم غیر قانونی (بمعہ رشوت)، یہ بھی وضاحت کردی کہ جناب قانونی طریقہ اول تو طویل ہے دوسرا کئی کاغذات کی کاپیاں نہیں مل سکے گی۔
بزرگ نے قانونی طریقے سے کاغذات نکالنے کو بہتر جانا۔اس کے بعد بات آگے بڑھی تو  ہم نے  اُن کے بیٹے کے کیس کی وہ تفصیلات جاننا چاہی جو ابتدائی طور پر ہمیں معاملات کو جاننے کے لئے درکار تھی۔
آخر میں جب وہ جانے لگے تو ہم نے ایک بار پھر اُنہیں تلقین  کی کہ قانونی طور پر ہم درست راہ تب ہی متعین کر سکتے ہیں جب کیس کے کاغذات موجود ہوں لہذا آپ جلد از جلد اُن کا بندوبست کردیں۔ وہ جاتے جاتے رُک گئے اور دوبارہ بیٹھ گئے۔
 کہنے لگے “آج کل کے یہ جو تم نوجوان ہو ناں  تم لوگوں نے بہت مایوسی کیا  ہم بوڑھوں کو، تم ہر آنے والے کو دونمبری کا طریقہ ہی بتاتے ہو یا یہ کہہ لو بھی بتاتے ہو؟”
ہم، میں اور میرے ساتھی، نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نہ سمجھنے والے انداز میں دوبارہ اُن بزرگ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔
اب اُن بزرگ نے باقاعدہ ایک کلاس (بے عزتی)لینے کے انداز میں معاشرے کی برائیوں کا تذکرہ کرنا شروع کیا اور اُس کا اصل محرک  آج کے نوجوان کو بتایا، خاص کر سرکاری دفاتر (جن میں بلخصوص عدلیہ میں کلرک و پیشکار وغیرہ)  میں موجود رشوت کلچر  ہے، ابھی اُن بزرگ کی گفتگو(لیکچر)  زور و شور سے جاری تھی کہ ہمارے دوست نے اُن سے الٹا سوال کر ڈالا کہ  “آپ کی عمر کتنی ہے”
اول تو اس سوال پر سٹپٹا گئے پھر گویا ہوئے “72 سال”
پھر دوسرا سوال تھا”عدالتوں کے چکر میں کب سے پڑے؟”
کہنے لگے” کوئی لگ بھگ چار پانچ سال ہو گئے ہیں جب سے میرا چھوٹا بیٹا پکڑا گیا ہے”
ہمارے دوست نے کہا   “انکل ابتدائی عمر کے بیس سال اور یہ پانچ سال کُل ہو گئے پچس سال، ان پچس سالوں کو  اگر  آپ کی عمر سے نکال دیا جائے تو کُل تقریبا 47 سال شعور کے آپ نے اس معاشرے کے درمیان گزارے ہیں، کیا اس دوران  آپ نے کبھی کوئی احتجاج کیا؟ کوئی جلوس نکالا؟ کوئی تحریک نکالی؟ کوئی اور ایسی کوشش کہ یہ جو معاشرے میں مختلف بُرائیاں موجود ہیں یا جنم لے رہی ہیں اُس کو روکا جائے! کبھی کوئی بھوک ہرتال کی ہو پریس کلب میں؟ کیا  آپ نے ایسا کیا؟”
بزرگ کا کہنا تھا  “بھائی میں شریف  آدمی ہوں ساری عمر خاموشی سے نوکری کی ہے۔ میری تو آدھی عمر تو آپریشن ٹھیٹر میں گزری ہے نوکری کی اور سیدھا گھر! مجھے کیا معلوم تھا معاشرے میں کیا ہو رہا ہے”
ہمارے دوسرے دوست جو اس گفتگو کے دوران  آ گئے تھے مخاطب ہوئے “یہ ہی تو !  آپ نے کوئی کوشش  نہیں کی ناں،  اچھا یہ بتائے کہ  آپ نے کتنے سال آپریشن ٹھیٹر میں گزرے”
بزرگ گویا ہوئے “کوئی 36 سال”
دوسرے دوست نے اب اُن سے کہا “ساری عمر  آپ نے آپریشن ٹھیٹر میں گزار دی، میں خود شاہد ہوں، یہ اسپتال والے کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کی بیٹی، ماں یا کوئی اور پیارا  اگر مر جائے تو میت کو اُس وقت تک اُس کے ورثا کے حوالے نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہسپتال کے تمام واجبات ادا نہیں کرتا، اور ایسے بل کئی مرتبہ لاکھوں میں بھی چلے جاتے ہے، اب وہ شخص اپنے پیارے کو دفن کرنے کا بندوبست کرے یا ہسپتال والوں کے بل اُتارنے کے لئے بھاگ ڈور کرے؟ کیا آپ نے وہاں کبھی اس پر آواز اُٹھائی؟”
بزرگ کچھ دیر خامو ش رہنے کے بعد گویا ہوئے “بھائی میں مزدور ، نوکر بندہ تھا کیا بولتا ایک نوکری تھی اگر وہ بھی چلی جاتی تو بھوکھا مرتا میں کون سا ڈاکٹر تھا کہ اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتا”
دوست بولا  “آپ اپنی مثال لے لیں ہر ایک جب خود پرپڑتی ہے تو ہی بولتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے، اس سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، آپ بھی عدالتی معاملات میں خود پھنسے تو  سب برائیاں نظر  آنے لگی ورنہ سب اچھا تھا۔ وہ کیا ایک لطیفہ ہےکہ  ایک سیاست دان ایک جلسے میں تقریر کررہا تھا کہ میں  آپ سب کی تمام  پریشانیاں دور کر دوں گا مگر آپ مجھ سے عوام کی بات مت کریں وہ تو بے وقوف ہے، جاہل ہے اور جلسے میں  تمام حاضرین  یہ سوچ کر تالیاں بجانے لگ پڑے کہ  میں تو عوام نہیں یہ جو میرے دائیں بائیں ہیں یہ ہیں عوام۔”
بزرگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے “یار تم لوگ تو مجھ بوڑھے پر ہی وکالت  جھاڑنے لگ پڑے ہو، یہ کام عدالت میں کرنا، میں تمہیں کل پرسوں تمام کیسوں کے کاغذات لا دوں گا”

اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی سچ ہے شاید کہ ایک شریف آدمی دامن بچانے کے چکر میں پورے معاشرے کو گندہ کر دیتا ہے! یا نہیں ؟