برسات کے کیڑے

 "برسات کا یہ کیڑا، جو دیمک سے دیملی بنتا ہے، شاید یہ گمان کرتا ہے کہ اندھیروں میں لکڑیاں چاٹ کر بہت جی لیا… اب پر نکل آئے ہیں تو کیوں نہ پروانے کہلائیں، اور شمع پر نثار ہو کر اپنے انجام کو امر کر جائیں!"


کتنے پروانے جلے راز یہ پانے کےلیے
شمع جلنے کے لئیے ہے یا جلانے کے



تبصرے ()

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!

اپنا تبصرہ دیں