Pages

1/06/2016

قیدی

مجھے آئینہ پر ابھرتے اپنے عکس پر ہنسی آ رہی تھی کہ یہ میری حرکات و سکنات کا قیدی ہے، جو میں کروں گا یہ وہ ہی کرتب دیکھائے گا. اپنے عکس پر طنزیہ مسکراہٹ ڈالتے ہوئے جب میں پلٹا تو چاروں طرف مکمل اندھیرا چھا گیا، گھبرا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو شیشے کے اس طرف روشن کمرے میں میرا عکس، ہم ذات، قہقہے لگا رہا تھا اور میرے چاروں طرف اندھیرا تھا.


2 تبصرے:

راحیل فاروق نے لکھا ہے کہ

تجرید ہمارے تو بس سے باہر کی بات ہے۔ زیادہ سمجھ نہیں آئی لیکن اچھا ہے کہ اردو میں لوگ آن لائن لکھ رہے ہیں۔
خوش رہیے۔

usman babar نے لکھا ہے کہ

hum apni zaat kay qaidi hain. samjhtay to yeh hain k hum azaad hain lekin sab kuch iss k bar aks hai. haalat ki bairian hamaray paon main iss tarha pari hoi hain k ghamon ka khhon onn say har waqt rista hai.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔