مجھے آئینہ پر ابھرتے اپنے عکس پر ہنسی آ رہی تھی کہ یہ میری حرکات و سکنات کا قیدی ہے، جو میں کروں گا یہ وہ ہی کرتب دیکھائے گا. اپنے عکس پر طنزیہ مسکراہٹ ڈالتے ہوئے جب میں پلٹا تو چاروں طرف مکمل اندھیرا چھا گیا، گھبرا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو شیشے کے اس طرف روشن کمرے میں میرا عکس، ہم ذات، قہقہے لگا رہا تھا اور میرے چاروں طرف اندھیرا تھا.
تجرید ہمارے تو بس سے باہر کی بات ہے۔ زیادہ سمجھ نہیں آئی لیکن اچھا ہے کہ اردو میں لوگ آن لائن لکھ رہے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںخوش رہیے۔
hum apni zaat kay qaidi hain. samjhtay to yeh hain k hum azaad hain lekin sab kuch iss k bar aks hai. haalat ki bairian hamaray paon main iss tarha pari hoi hain k ghamon ka khhon onn say har waqt rista hai.
جواب دیںحذف کریں