3/21/2013

انتخاب

انتخاب کرنا آسان عمل نہیں ہے! یہ اُس وقت مزید دشوار معلوم ہوتا ہے جب اِس مرحلہ پر اپنے فائدے سے زیادہ اجتماعی فائدے کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے. ہمارے معاشرے و خاندانی نظام کی ساخت نے ہمیں بڑوں کی موجودگی میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے جیسا رواج تخلیق کیا ہے کہ زندگی میں ہم ہر دوسرے تیسرے معاملہ میں جہاں انتخاب کا موقع ملتا ہے بڑوں کو یہ اختیار دے کر خود کو سعادتمند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
انتخاب سعادتمند مندی فیصلہ کے اختیار سے گریز کرنا نہیں بلکہ فیصلہ کو اُس صورت میں قبول کرنا ہے جب آپ کی مرضی بڑوں سے مختلف ہو جس کا اظہار آپ اُن کے سامنے اس انداز میں کر چکے ہوں کہ وہ آپ کی بات کو تسلیم کریں یا آپ کو ویسا کرنے کی اجازت دے. سعادتمندی کا اصل امتحان اُس وقت شروع ہوتا ہے جب بڑوں کا فیصلہ آپ کے حق میں نقصان کا باعث بن جائے تب آپ کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ آپ سعادتمند ہیں یا سعادتمندی کا ڈرامہ کرتے ہیں۔
زندگی میں ملنے والے کتنے فیصلے ایسے ہیں جو ہم اپنی ذات سے بلند ہو کر کرتے ہیں؟
لہذا جناب انتخابات آنے والے ہیں ایسی سعادت مندی سے باز آئیں کہ جہاں بڑوں نے کہا وہاں ووٹ ڈال دیا، یا بے فائدہ سمجھ کر ڈالا ہی نہیں یا یہ کہ ذاتی مفاد کو اجتماعی فائدے کے مقابلے میں اہم جان کر ووٹ بیچ دیا! جس کو آپ مخلص جانے تمام میں بہتر جانے اُسے منتخب کرے۔

1 تبصرہ:

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔