ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

قیدی

مجھے آئینہ پر ابھرتے اپنے عکس پر ہنسی آ رہی تھی کہ یہ میری حرکات و سکنات کا قیدی ہے، جو میں کروں گا یہ وہ ہی کرتب دیکھائے گا. اپنے عکس پر طنزیہ مسکراہٹ ڈالتے ہوئے جب میں پلٹا تو چاروں طرف مکمل اندھیرا چھا گیا، گھبرا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو شیشے کے اس طرف روشن کمرے میں میرا عکس، ہم ذات، قہقہے لگا رہا تھا اور میرے چاروں طرف اندھیرا تھا.


انا

مجھے،
تم سے،
پیار نہیں ہے،
یہ دعوٰی ہے،
اقرار!
نہیں ہے،
تیری تمنا ہے،
سوال نہیں ہے.


(عنوان سلیم بھائی نے تجویز کیا ہے.)


مردے کو اب موت نہیں ہے

آنکھ کا پانی اور تیری یاد!
پچھتاوے کی انوکھی آگ.

صبح صبح جو رو لیتا ہوں
غم کا غبار دھو لیتا ہوں

دن گزرے گا جدوجہد میں
رات پھر ہو گی تیری یاد

غلطی کا کوئی مداوا نہیں ہے
سینہ کوبی ہرگز دعوی نہیں ہے

تکلیف ہے مگر چوٹ نہیں ہے
مردے کو اب موت نہیں ہے


فیصلے و انصاف

کام نہیں ذمہ داری بندے کو مارتی ہے. جب دوسری کی عزت، مال و زندگی کا دارومدار آپ کی قابلیت و فیصلہ کا منتظر ہو تو ذمہ داری فیصلہ کرنا نہیں انصاف کرنا ہوتا ہے. عدالتوں سے فیصلے ذیادہ آ رہے ہیں انصاف کم!


جب جب ہم نے جج کے امتحان کی تیاری کی تب تب ہمیں اپنے ایک  دوست کی بات یاد آئی کہ حاکم و قاضی بننے کی خواہش ہی نااہلیت کی سند ہے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والا جج کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے تو کر سکتا ہے انصاف کرنے کا اہل ہو اس کی کوئی ضمانت نہیں. ایسی باتیں ان کو سمجھ آئیں جنہوں نے سمجھنی ہوں ہمارا ان سے کیا لینا دینا. ہمارے والد نے ایک رات سو جانے کا حکم صادر کرتے ہوئے پوچھا جج بن کر کیا کرو گے ہم نے فورا ججز کی تنخواہ، مراعات اور معاشرتی مقام پر روشنی ڈالی بجائے خوش ہونے کے چہرے پر پریشانی نظر آئی. اگلے دن والدہ نے ہم سے پوچھا کیا کہا تھا رات کو تم نے اپنے ابو کو؟ ہمیں نہ سوال سمجھ آیا نہ رات کی گفتگو کی طرف دھیان گیا! لہذا سوال کر ڈالا "کیوں کیا ہوا؟" کہنے لگی کہہ رہے تھے یہ عام سا ہی نکلا لگتا ہے کسر رہ گئی تربیت میں!


اکثر سرکاری ملازمین کا بڑھاپا تب شروع ہوتا ہے جب وہ نوکری سے ریٹائر ہو جاتے ہیں عمر کی گنتی نہیں وقت اہم ہے . تب ہی ان کے پاس سنانے کو زندگی کے کئی قصے ہوتے ہیں. جج بھی سرکاری ملازم ہی ہوتا ہے. ریٹائرمنٹ کے بعد وکالت کمانے کے لیے کم اور قصے سنانے کے لیے ذیادہ کرتا ہے. یہ قصے ان کے لئے ستائش جیتے کا ذریعہ ہوں گے مگر نئی نسل کے لئے سیکھنے کا راستہ ہوتے ہیں، ایسے قصوں سے سیکھا ہوا ہمیشہ کام آتا ہے عدالت میں بھی اور زندگی میں بھی.


عدالتوں میں فیصلوں کے لئے ہونی والی مباحث میں حقائق و قانون دونوں زیر بحث آتے ہیں مگر جب بھی سابقہ ججز سے ان کے اہم فیصلوں کی روداد سنے تو وہ معاملے سے متعلق حقائق و اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیسے ان کا فیصلہ انصاف کے مطابق تھا قانونی نقاط قصے کا حصہ نہیں ہوتے . اس سے ہم نے یہ تاثر لیا نیت انصاف کرنا ہو تو ٹیڑھا قانون بھی رکاوٹ نہیں بنتا.

کوئی خود کو برا نہیں کہتا مگر جو سچ دوسرے آپ کے بارے میں کہتے ہیں اس کا کوئی متبادل نہیں. سابقہ ججز کے ساتھ کام کرنے والے کلرک، پٹے والے، ان کے ڈرائیور،  گارڈ اور باورچی جو قصے سناتے ہیں ان سے محسوس ہوتا ہے جج صاحبان کی اکثریت بس نوکری کرتی ہے، فیصلے سناتی ہیں. کہنے کو تو کہا جاتا ہے ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ سو گناہ گار کو چھوڑ دیا جائے مگر گناہ گار کو سزا سنائے جانے کے جو قوت و حوصلہ درکار ہے وہ بھی کسی حد تک ناپید ہے. یہ ڈر کہ اوپر والی عدالت اگر میرا فیصلہ بدل دے اور ایسے بدلے ہوئے فیصلوں کی اکثریت نوکری میں ترقی کے امکان کم دیتے ہیں کا خوف ملزمان کو چھوڑنے کا سبب بنتے ہیں. یوں فیصلے ہوتے ہیں انصاف نہیں.


عمومی طور پر قتل و زنا کے مقدمات کے علاوہ باقی جرائم میں ملزم کو بری کرنے کا رجحان قریب قریب سو فیصد ہی ہے. صرف جج صاحبان ہی رعایت نہیں کرتے بلکہ خود مدعی، پولیس اور پراسیکیوٹر بھی ملزمان کے ساتھ نرمی رکھتے ہیں. مدعی و گواہان تو عدالت سے باہر ملزمان سے صلح کر کے کٹہرے میں بیان بدلتے ہیں یوں ملزمان باعزت بری ہوتے ہیں (یہ بات کسی حد تک دیوانی و خانگی تنازعات کے بارے میں بھی ہے) . تھانے میں لکھوائی گئی ابتدائی رپورٹ میں شامل جھوٹ سچ کو بھی کھا جاتا ہے. عدالت کے کٹہرے میں انصاف کے حصول کے لئے کم اور دوسرے کو سزا دلوانے کو ذیادہ پیش ہونے والوں کا جھوٹ ملزم کو تو گناہ گار نہیں کرتا البتہ اس کی غلطیوں و جرائم کو دھندلا ضرور کر دیتا ہے. عدالت کے کٹہرے میں صرف ملزم و مجرم ہی نہیں فریادی و گواہ بھی پیش ہوتے ہیں. مجرمان کو صرف عدالت کے کٹہرے میں لانا ہی کافی نہیں ہوتا کٹہرے میں خود مدعی کو بھی کھڑا ہونا ہوتا ہے. برائی اور گناہ کی شہادت دینا اصل امتحان ہے جس میں بہت کم لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں کچھ بیان سے مکر جاتے ہیں اور کچھ جرم کی ہیت بڑھانے کو اس میں جھوٹ کی آمیزش کرتے ہیں، جھوٹ پکڑا جاتا ہے یوں  سچ بھی مشکوک ہو جاتا ہے اور ملزم بری. ایسے میں فیصلہ آتا ہے شاید تب حالات کے تحت یہ ہی انصاف ہے.


عدالت کے کٹہرے میں گواہی سے پہلے حلف لیا جاتا ہے. ہر فرد کو اس کے عقیدے کے مطابق کلمہ پڑھایا جاتا ہے اس کے رب کا خوف دلوا کر سچ بولنے کا کہا جاتا ہے اور جھوٹ کی صورت میں رب العزت کے عذاب و کہر کا حقدار.  ہمارے ایک سینئر دوست کہتے ہیں یہ عدالتوں کے کٹہرے میں خدا کو حاضر ناضر جان کر بولا گیا جھوٹ ہی تو ہماری تباہی کی وجہ ہے. لوگ اپنے اپنے خداؤں کے نام پر جھوٹی گواہی دینے سے نہیں ڈرتے مگر بیوی و بچوں کے نام پر قسم کھا کر گواہی دینے سے انکار کر دیتے ہیں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ فیصلے آتے ہیں انصاف نہیں.


ایسا بھی نہیں کہ سب جھوٹ کی دلالی کریں کئی کٹہرے میں سچ کے سوا کچھ بھی نہیں گواہی میں کہتے اور ہم نے دیکھا وہ انصاف پر مبنی فیصلے جیت کر جاتے ہیں. انصاف یہ ہی نہیں کہ ملزم کو سزا ہو انصاف یہ ہے کہ اسے احساس ہو وہ پچھتائے، وہ توبہ کرے اور معافی کا طالب ہو.


عدالتیں نہیں، جج نہیں، وکیل نہیں، گواہ نہیں بلکہ صرف سچ ہی انصاف کے حصول کو ممکن بناتا ہے آٹے میں نمک کے برابر جھوٹ بھی انصاف کو کھا جاتا ہے پھر بس فیصلہ ہی آتا ہے. یہ مشاہدہ ہے یہ تجربہ ہے مگر یہ سمجھ کسی کسی کو آتی ہے یہ نظر ہر کسی کو نہیں آتا.
ہماری عدالتوں سے واقعی اب فیصلے آ رہے ہیں انصاف نہیں اور قصور وار ہم سب ہیں کوئی ایک نہیں. 


بابے پھر بابے ہوتے ہیں

کہنے کو اس مضمون کا عنوان بزرگ بھی ہو سکتا تھا مگر بزرگی میں شرارت ہو سکتی ہے مسٹنڈاپن نہیں اس لئے بابے ہی ٹھیک لگتا ہے. ہمارے دور کے مسٹندے کچھ ذیادہ لوفر ہو گئے ہیں مگر پہلے کے لوفر بھی اتنے مسٹندے نہیں ہوتے تھے. یہ بابے اپنی جوانی کے دل لبھانے والے جھوٹے سچے قصے سنا کر جس طرح جوانوں کی چوری پکڑتے ہیں وہ ان کا کی حاصل ہے.


ایسے ہی ایک بابے کے منہ سے ایک بار سننے کو ملا کہ کیا دور آ گیا ہے ایک ہمارا دور تھا جب لڑکوں کے دوست اور لڑکیوں کی سہیلیاں ہوتی ہے اب تو لڑکوں کی سہیلیاں اور لڑکیوں کے دوست ہوتے ہیں. تب ہم کسی لڑکی کے قریب ہوتے تو وہ فٹ سے کہہ دیتی دیکھو مجھے دھوکہ نہ دینا ایسا نہ ہو کہ کل کو کسی اور سے شادی کر لو ہم لڑکیاں بہت حساس ہوتی ہیں کسی کو ایک بار اپنا کہہ دیا تو پھر ساری عمر اسی کی ہو کر رہ جاتی ہیں اور ایک آج کی چوکریاں ہیں دوستی کے دوسرے دن ہی نوٹ کروا دیتی ہیں کہ دیکھو سنجیدہ نہ ہو جانا میں بس ٹائم پاس کر رہی ہوں کل کو تو کون اور میں کون.


یہ بابے وقت کے بدلنے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پہلے گھر بناتے وقت گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے لئے بھی ایک حصہ ہوتا تھا مہمان خانے میں مہمان کی خدمت کو ایک بندہ مختص ہوتا تھا آج کی طرح نہیں کہ صرف صوفہ سیٹ ہو بلکہ پلنگ یا چارپائی ہوتی کہ آنے والا مہمان آرام کرتا. پہلے مہمان کو رحمت تصور ہوتا تھا اور آج اپنے رویے سے رہ مت کہا جاتا ہے .


ان بابوں سے اس لئے بھی ڈر لگتا ہے کہ قصے سنا کر نصیحتیں کرتے ہیں. ان کے پاس ملا دوپیازہ ہے، ملا لٹن ہے، متایو فقیر ہے، جٹ مانا ہیں. یہ اپنے اپنے علاقوں کے کرداروں کے نام لے کر مختلف قصوں کی مدد سے مخصوص سبق سکھانے کے لئے ہنسی مذاق میں سنا ڈالتے ہیں. ہم جیسے لونڈے انہیں لاکھ کہیں کہا یہ کردار خیالی ہیں، یہ قصے جھوٹے ہیں. یہ بابے باز نہیں آتے پھر سے کسی اگلی نشست میں ان کرداروں کے قصوں کی مدد سے شخصیت کی تعمیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں.


ایک محفل میں رشوت کی افادیت پر بحث ہو رہی تھی ایک بابا جوش میں دونوں ہاتھ ہوا میں کھڑا کر کے بولا مجھے ذیادہ نہیں معلوم بس اتنا جانتا ہوں کہ کچھ حرام کے تخم سے ہوتے ہیں کچھ کا تخم حرام کا ہوتا ہے اول ذکر جنتی ہو سکتا ہے اگرچہ اس کے ماں باپ جہنمی ہو مگر ثانی ذکر جہنم کی آگ کا ایندھن ہو گا . پوچھا بابیوں کہنا کیا چاہتے ہو کہنے لگے کچھ ماں باپ کی حرام کاری کی وجہ سے حرامی نسل ہوتے ہیں اور کچھ اپنی کمائی کی وجہ سے! یہ رشوت خور والے دوسری قسم کے حرامی ہیں جو اپنی نسل کو بھی حرامی بنا دیتے ہیں. ایسے سخت جملے سننے کے بعد ہمارے کئی دوستوں نے اس بابے سے ملنا چھوڑ دیا.


یہ بابے اپنی عمر کو اپنا تجربہ بتاتے ہیں. یہ سامنے والے کی نیت کو اس کے اعمال سے پرکھنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں ان کے یہاں benefit of doubt بہت ذیادہ پایا جاتا ہے. ایسے ہی ایک بابا جی کہا کرتے ہیں کہ برا وہ جس کی برائی پکڑی جائے چاہے اس نے کی بھی نہ ہو اور اچھا وہ جو پکڑ میں نہ آئے. ہم نے کہا بابیوں اب تو بدنامی بھی نامور کر دیتی ہے تو کہنے لگے جیسے لوگ ویسا ان کا ہیرو ہوتا ہے ہر طبقہ و گروہ کا اپنا رول ماڈل (ہیرو) ہو گا ناں. بات پلے نہ پڑی تو ہم نے کندھے اُچکا دیئے، دھیمے سے مسکرا کر بولے وکیل ہو تم؟ ہم نے سر کی جنبش سے ہاں کی. کہنے لگے وکیلوں میں سے تمہارا آئیڈیل کوئی بڑا قانون دان یا جج ہو گا ایک ڈاکو نہیں ایسے ہی جو جس شعبے کا بندہ ہے اس کا رول ماڈل اس ہی شعبے کا بندہ ہو گا ہر فرد کسی اپنے ہم پیشہ یا ہم نظریہ و عقیدہ کو ہی ماڈل بناتے ہیں. ہم نے کہا کہ اگر کوئی کسی دوسرے شعبہ کے بندے کو اپنا رول ماڈل بنا لے تو! کہنے لگے وہ بہروپیا ہے جو ایسا کرتا ہے. ہم اس کی بات سے متفق نہیں تھے مگر کسی سخت جملے سے بچنے کے لیے خاموش رہے.


حالات و زمانے کا رونا رونے والی ایک محفل میں اہل محفل جب حاکموں کے برے کردار کو زیر بحث لائے تو ایک اور بابا جی رائےزنی کرتے ہوئے گویا ہوئے خود کو بدل لو اچھا حاکم میسر آ جائے گا چوروں کا سربراہ چوروں میں سے ہی ہو گا جیسے ہم ویسے ہمارے حاکم.


ہمارے دوست جوانی میں ہی بابا جی ہو گئے ہیں. ان کا پسندیدہ موضوع رویے ہیں. وہ لوگوں کے رویوں پر خیال آرائی کرتے رہتے ہیں؛ ہمارے علاوہ باقی سب ہی ان کے خیالات کو سراہتے ہیں. اولاد کی تربیت پر بات ہو رہی تھی کہنے لگے اگر گھر کے سربراہ کے مزاج میں سختی ہو تو اولاد باغی ہو جاتی ہے. ملک کا حاکم و خاندان کا سربراہ اگر ہر معاملہ میں اپنی مرضی مسلط کرنے لگ جائیں تو بغاوتیں جنم لیتے ہیں اور زندگی کی آخری سانسیں تنہائی میں گزرتی ہے اگر اولاد کی قربت نصیب بھی ہو تو صحبت نصیب نہیں ہوتی.


ہمارے ایک دوست ایک مشکل میں پھنس گئے تلاش ہو رہی تھی کسی اثر رسوخ والے بندے کی اسی سلسلے "غلطی" سے ایک بابا جی سے آمنا سامنا ہوا کہنے لگے جس کے پاس بھی جاؤ گے اس کے اثر رسوخ میں اضافہ کا باعث بنو گے! جو آج کام آئے گا کل کام بھی لے گا اور احسان مند تم ہی رہو گے اور جو کام کا آسرا دے گا وہ بھی کل کو کام نکلوا لے گا جو کرنا ہے خود کرو. ہمارے دوست بابے کی باتوں میں آ گئے اور اب وہ خود کافی اثر رسوخ والے بندے ہیں.


بابیوں کی کوئی عمر، نسل، عقیدہ اور تجربہ لازمی نہیں بقول ہمارے ایک بابا صفت دوست کہتے ہیں بابا وہ جو زمز کی بات کہہ دے. ہم نے تو سیکھ لیا ہے ان بابیوں کی بات کو ایسے اگنور کرو جیسے یو این او کشمیر کے مسئلہ کو اگنور کرتی ہے. ان کی قربت شخصیت میں موجود "ضروری" خامیوں کے نقصاندہ ہو سکتی ہے. کیا آپ کا کبھی کسی بابے سے واسطہ پڑا ہے؟