ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

شوشل میڈیائی اسٹیٹس

گزشتہ دنوں ہمارے چند فیس بک و ٹویٹری اسٹیٹس جو ہم نے لگائے ذیل میں ہیں خالض ہمارے اپنے ۔


وہ کہتے ہیں "محبت فاتح عالم"، اب انہیں کیا کہیں جو محبت محبوب نہ جیت سکے اُس سے عالم فتح کر کے عاشق نے کیا لینا ہے۔ ‫#‏خیال‬
مجرا مجرا ہوتا ہے چاہے کنجری کرے یا شریف زادی۔ اعضاء کی شاعری کہنے سے اُس کی خرابی کم نہیں ہوتی۔ ‫#‏خیال‬
محبت مانگنے والے زندگی برباد نہ کر ‫#‏خیال
لوگ محبت کی دلیل دینے کو دل ہار جانے کی بات کرتے ہیں مگر اُس کا کیا کیا جائے جو روح میں اُتر گیا ہو؟ #خیال
اے میرے رب مجھے ہمیشہ حلال طریقے اور ذریعے سے پیٹ و نفس کی بھوک مٹانے کی توفیق عطا کر۔ #دعا
یااللہ اس فانی زندگی کی اُن کامیابیوں سے بچانا جو میری ابدی زندگی کی بربادی وجہ بنے۔ #دعا
دعائیں سننے والے دیر نہ کیا کر #خواہش

کچھ آنکھوں کے کرب چہرے کی مسکراہت سے بھی کم نہیں ہوتے۔ ‫#‏تجربہ‬

جہالت سے بہتر موت ہے۔

وطن میں غیر ہوئے پھرتے ہیں

لوگوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا چاہے جلسہ ہو یا جمہوریت۔

اپنی قابلیت سے ذیادہ معاوضہ بھی دراصل کرپشن و رشوت کی ایک شکل ہے ۔ (ماخوذ)

ویسے ناکامی پر ہنسنے کا مزا کامیابی پر خوشی کے آنسو بہانے سے ذیادہ آتا ہے۔

اخلاق انسان کی پہچان کروا دیتا ہے.



اور آخر میں گزشتہ دنوںہونے والا ایک ٹیلیفونک مکالمہ .


ہیلو جی آپ میری آئی ڈی کو جعلی کیو سمجھتے ہیں؟
"کون بول رہا ہے"
وہ جسے آپ نے میسج میں کہا کہ میں لڑکا ہوں
"اچھا تو پھر"
دیکھیں اب تو آپ کو یقین آ گیا ناں میں لڑکی ہوں اب ریکویسٹ منظور کر لیں۔ ایس ایم بھی کیا مگر آپ مانے نہیں
"نمبر کہاں سے لیا میرا"
پروفائل سے
"اچھا"
تو اب آپ ایڈ رہے ہیں ناں
"نہیں"
کیوں؟ اب کیوں نہیں
"بی بی اتنی بے باک و بے خوف لڑکیوں سے دوستی سے میں اجتناب کرتا ہوں"
مٹھی جانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بندہ واقعی دیہاتیوں والی سوچ پال لے۔ چلیں پھر بات کرو گی۔

بے ربط باتیں

ادب میں میں پائے جانے والے بے ادب مواد کی وجہ سے خاندان کے بزرگ کم عمر بچوں سے ادب کو چھپا کر رکھتے ہیں اور ادب کے خالق بے ادبی کی کاوش کو عشق مجازی باور کرواتے ہوئے عشق حقیقی کو منزل بتاتا ہے۔شاید اسی لئے بگاڑ ایسا آتا ہے کہ ایک نسل دنیا پتل دی پر سنی لیون کے ٹھمکو پر مدہوش ہونے لگتی ہے۔
اگر صوفیوں نے اللہ کی محبت کو بیان کرنے کے لئے دنیا کی محبت کے قصوں کو مثال بنا کر پیش کیا تو اسے بنیاد بنا کراہل دانش کو ہر اپنی نسل کو یہ باور کروانے کی سہی نہیں کرنی چاہئے کہ جنس مخالف کی کشش دراصل محبت کی ایک شکل ہے اور محبت کی شدت عشق کا وہ مقام ہے جس میں ملن نہ ہو تو بندہ ولی کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
عشق مجازی کو عشق حقیقی کا راستہ بتانے والے ایک ایسی کنفیوز جنریشن کی وجہ بن سکتے ہیں جو محبت، عشق اور ہوس میں فرق کرنے سے قاصر ہو۔
(کافی دنوں سے یہ نامکمل تحریر پڑی ہوئی ہے شاید نامکمل ہے رہے اس لئے ایسے ہی بلاگ پر ڈال دی)

ناکامی کسی کا مقدر نہیں

کسی کو ناکام کرنے کو فقط اتنا کافی ہے کہ اُس سے جیت کی امید چھین لی جائے، جیت کی امید کے خاتمے کے ساتھ ہی کامیابی کی جدوجہد دم توڑ جاتی ہے۔ کامیابی کی امید باقی ہو تو ناکامی کا خوف جدوجہد کے لئے تیل کا کام کرتا ہے یعنی جستجو مزید تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا فقط فرد کے لئے ہی نہیں بلکہ افراد کے ایک گرو یا قوم کے لئے بھی درست ہے۔ جیت کی امید کے خاتمے سے اگلا مقام یہ ہے کہ فرد ہار یا ناکامی کو ہی اپنا مقدر سمجھے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وطنوں سے جیت کی امید ہی نہیں چھین لی گئی بلکہ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہار یا ناکامی آپ کا مقدر ہے۔ ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں نااہل افراد اقرباپروری یا دولت کے زور پر قابض ہو گے یا ہیں اور اُن کا مقدر یہاں اس وطن میں نہیں۔ قابل آدمی ناکام ہو کر مایوسی پال لے تو اُس کی صحبت کئی دیگروں کو بھی اس بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں اس بیماری کے مریض بڑھتے جاتے ہیں ۔
مگر حقیقت میں قابل آدمی ہمیشہ دوسروں کی ضرورت ہی نہیں مجبوری ہوتا ہے آپ اپنی قابلیت میں اضافہ کرے یقین کریں آپ بھی ضرورت نہیں سامنے والی کی مجبوری بن جائیں گے۔ تجربے نے یہ بات سکھائی ہے کہ ہر نااہل کو ایک اہل بندہ درکار ہوتا ہے اور اگر آگے جانے کی جستجو برقرار رہے تو راستے بھی ذہین لوگ بناتے ہیں۔ مایوس ہونے والے دراصل وہ ہوتے ہیں جو ہار و ناکامی کو مقدر مان لے۔
ہاں ایسی کامیابی کے لئے بس جدوجہد و انتظار ضروری ہے۔

خود غرضی!!

جب ہم کہتے ہیں کہ سب کی اپنی اپنی غرض ہے کسی کو میری پرواہ نہیں کو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم تسلیم ہیں کہ ہم بھی اپنی ذات میں خود غرض ہیں اور چاہتے ہیں کہ لو گ ہماری پرواہ کریں! لیکن اپنے رویے اور سوچ میں یہ خیال لئے ہوتے ہیں کہ ہم خود غرض نہیں۔

حق حلال!

تھانے میں گاڑی چھڑانے پہنچے تو آگے سے ملنے والے بندے نے منہ بنا کر کہا "آپ کو آنے کی یا ضرورت تھی؟"
وکیل صاحب نے کہا "یار! وہ بندہ اکیلے آنے سے ڈرتا تھا اس لئے میں ساتھ میں آ گیا"
"آپ کو نہیں معلوم یہ ایک نمبر کا فراڈیہ بندہ ہے یہ اس گاڑی کو سمگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے ، اب دیکھیں ناں تین ماہ سے ٹرک تھانے میں بند ہے یہ نہیں آیا اور آج آپ کے ساتھ آ گیا۔"
وکیل "اچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
"کچھ نہیں اب آپ آ گئے ہیں تو لے کر ہی جائیں گے گاڑی، ہم آپ کا خیال کرتے ہیں آپ ہمارا خیال کر لیں"

وکیل "بہتر"
کچھ دیر بعد وکیل صاحب نے بندے کے ہاتھ میں آٹھ ہزار روپے رکھے اور پوچھا "اب ٹھیک ہے؟"
"جناب اب آپ سے کیا کہو ٹھیک ہے چلیں اُس کو بلائیں کچھ کاغذی کاروائی کرنی ہے! میں اُسے کہوں گا آُ نے مجھے بارہ ہزار دیئے ہیں ! ہمیں آپ کا بھی خیال ہے ناں!"
بندہ مالک ٹرک سے "دیکھیں میں نے وکیل صاحب کی وجہ سے آپ کا خیال کیا ہے شکر ادا کرو ان کا۔وکیل صاحب نے مجھے بارہ ہزار کی مٹھائی دی ہے ۔ مجھے معلوم ہے جو تم کرتے ہوں یہ پیسہ یہاں ہی رہ جائے گا دنیا کا مال یہاں ہی رہ جائے گا۔حرام کی کمائی سے اولاد بھی بگڑ جاتی ہے عزت نہیں کرتی اور آخرت الگ خراب ہوتی ہے۔ حق حلال کی روزی کماؤ اچھا! یہ بُرے دھندے چھوڑ دو"
بندہ گاڑی کی چابی لے کر ہاتھ ملاتے ہوئے "جی انسپکٹر صاحب! میں کوشش کرو تو بھی آپ کی طرح کی حق حلال کی کمائی اپنی اولاد کو نہیں کھلا سکتا"
بس اس لمحے انسپکٹر کا چہرہ دیکھنے والا تھا!!!!