ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

چڑی روزے سے روزے تک

اب ہم بڑے ہیں اور بڑوں میں شمار ہوتے ہیں ایک وقت تھا کہ ہم چڑی کی سی جان ہوتے تھے. دین و دنیا دونوں کی سمجھ نہ تھی. یوں تو دین و دنیا کے بارے میں اب بھی جاہل ہیں مگر بچپن میں تو ہم ان کی فکر سے مکمل آزاد تھے. والد صاحب کے ساتھ بس جمعہ والے دن مسجد و مولوی کا دیدار ہوتا تھا باقی سارا ہفتہ گھر پر ہی اللہ اللہ ہوتی جس میں ڈنڈی مارنا ہمارا روزانہ کا معمول ہوتا بلکہ روزانہ ایک دو بار ڈنڈی مارنا معمول ہوتا.

یہ انسانی فطرت ہے کہ جس کام کا کہا جائے اس جانب راغب بے شک نہ ہو مگر جس سے روکا جائے اس طرف کھچاؤ محسوس ہوتا ہے. ایسی ہی کشش روزے کی جانب تھی. مجھے اپنی عمر، دن، مہینہ یاد نہیں بس سردیوں کا موسم،  سحری کا وقت، لحاف میں لیٹا ہونا اور کچن میں والدہ کا سحری تیار کرنا یاد ہے. والدین ہمیں روزہ کے لئے نہیں اٹھاتے تھے اور ہم بس وہی بستر پر لیٹے لیٹے قیاس کرتے اب پراٹھا پک رہا ہے ان کھا رہے ہیں اب اذان ہو گئی. سامان سمیٹنا جا رہا ہے، اب تلاوت قرآن و نماز پڑھنے لگ گئے ہیں پھر کب دوبارہ آنکھ لگتی ہمیں علم نہیں. کئی بار نہانے سے پانی پینے یا کوئی اور وجہ بنا کر اٹھے کہ شاید ہمیں روزہ رکھوا لیں مگر ناکام رہے.

نماز دین کا ستون ہے

امی سے روزہ رکھنے کی فرمائش کا اظہار کرتے تو کہتی کہ ابھی چھوٹے ہو بڑے ہو کر رکھنا. پھر ایک رمضان میں شرط عائد ہوئی نمازیں پوری پڑھو تو روزہ رکھوایا جائے گا. "من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن  سکا" روزہ دار بنے کی خواہش کے باوجود ہم چند نمازوں میں ڈنڈی مار گئے. تب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی ایک جمعرات کو آگاہ کیا گیا کہ کل آپ روزہ رکھیں گے مگر مکمل نہیں چڑی روزہ.

چڑی روزہ ہم سے پہلے محلے کا ایک دوست رکھ چکا تھا لہذا ہمیں علم تھا کہ دوپہر کے وقت "روزہ کشائی" ہو جاتی ہے لہذا ہم نے احتجاج کیا نہیں پورا روزہ رکھنا ہے چڑی روزہ نہیں رکھنا تب ہمیں باور کرایا گیا کہ پورا روزہ رکھنے کو پوری نمازیں پڑھوں. ہمیں والدہ کی "چالاکی" پر بڑا غصہ آیا مگر کیا کرتے، دل میں یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی کہ ہم نے نمازوں میں ڈنڈی ماری ہے تو بدلے میں والدہ ہمارے روزے میں ڈنڈی مار گئی ہیں.

سحری میں روزہ رکھنے کو اٹھے تو ناشتے والے لوازمات کے علاوہ میٹھی لسی ایک زائد ایٹم تھا. سحری کی اس کے بعد نماز فجر ادا کی (یہ ہماری پہلی فجر کی نماز تھی جو وقت پر پڑھی تھی). پھر سو گئے اسکول کی چھٹی تھی. دس بجے اٹھے پھر کب ایک بجا معلوم ہی نہیں ہوا بس روزہ کھلوا دیا گیا. یعنی دوپہر کا کھانا،  جس کے بعد والد کے ہمراہ جمعہ پڑھنے چلے گئے. اگلے دو جمعہ بھی ایسے ہی چڑی روزے رکھوائے گئے . آخری والے جمعہ کو والدین ہمیں مکمل روزہ رکھوانے پر تیار ہو گئے تھے اور بات وفا ہوئی.

کب روزہ کھلے گا؟

جمعہ کے بعد سہ پہر تک تو معاملات ٹھیک رہے مگر شام چار بجے پیاس شدت سے لگنا شروع ہو گئی. پانچ بجے کھیلنے جانے کی ہمت بھی نہ تھی لہذا نہیں گئے. امی کے ڈر سے نماز عصر پڑھی وہ بھی صرف فرض. جہاں دسترخوان لگاتے ہیں ہم وہاں ہی لیٹے ہوئے تھے ابو نے ایک دو بار پوچھا روزہ لگ رہا ہے ہم نے جھوٹ بولا کہ نہیں. ہم نہیں ہماری حالت سب بعید  کھول رہی تھی. امی  ابو عموماً افطاری کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا کرتے تھے بس اتنا کہ عشاء کے بجائے مغرب کے وقت رات کا کھانا کھا لیا جاتا اور ایک سردائی(سندھی زبان میں تھادل) کا شربت اضافی ہوتا اور عشاء کے وقت موسمی فروٹ کھایا جاتا . مگر ہمارے پہلے روزے پر بیکری کے کافی سارے لوازمات و فروٹ وغیرہ دسترخوان کا حصہ تھے. خدا خدا کر کے اذان ہوئی مگر لقمہ لینے سے پہلے ہم روزہ کھولنے کی یاد کی ہوئی دعا ہی بھول گئے. اب ہاتھ میں کھجور پڑے امی کی جانب دیکھنے لگے. پوچھنے پر بتایا دعا بھول گیا ہو جو پڑھ کر روزہ کھولنا ہے. مسکرا پر دعا بتانے لگی ابھی " ﻟَﻚَ ﺻُﻤْﺖُ" پر پہنچی تو ہمیں دعا یاد آ گئی ہم نے تیزی سے دعا پڑھی اور پھر کھجور منہ میں ڈالی اور پانی پینے لگے. مغرب کی نماز میں ڈنڈی مار گئے.

اگلے سال رمضان المبارک میں ہر جمعہ کو روزہ رکھوایا گیا ساتھ میں آخری عشرے کے چند طاق کے روزے رکھوائے گئے. جس دن ہمارا روزہ ہوتا تب روزہ کشائی پر لوازمات کی تعداد ذیادہ ہوتی. آہستہ آہستہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہم مکمل روزہ دار ہو گئے مگر نمازی نہ ہو سکے. بچپن میں کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہم یہ بھول جاتے کہ ہمارا روزہ ہے اسکول میں دوست سے لے کر کچھ کھا لیا تب یا تو کھاتے وقت یاد آتا کہ اوہ ہمارا تو روزہ ہے یا کھا پی کر کافی دیر بعد یاد آتا. ایک بار تو ایک دوست نے اس ہی بھول کر کھانے کی حرکت کی وجہ سے ہمارے روزہ دار ہونے کو جھوٹ قرار دیا تب پہلے تو ہم اس سے لڑ پڑے اور بے نتیجہ لڑائی کے بعد رو پڑے کہ ہمارا روزہ ہے یہ مانا جائے اب اس وقت کو یاد کرکے مسکرا جاتے ہیں.

جب وقت افطاری آیا نہ کوئی بندہ رہا نہ بندے کا پتر

روزے کے دوران ہماری غائب دماغی کے کئی قصے ہیں جو اب فیملی میں ہمیں تنگ کرنے کو مکمل تو نہیں دہرائے جاتے بس پنچ لائن کہہ دی جاتی ہے وجہ یہ کہ قصے ازبر ہوچکے سب کو، مثلاً ایک بار ہم گھر میں ہی بہنوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے تو دوران کھیل گیند کچن کی طرف گئی ہم گیند پکڑ کر  کچن میں داخل ہوئے امی پکوڑے بنا رہی تھیں ہم نے سوال کیا "روزہ کھلنے میں کتنا وقت ہے؟" جواب آیا بیس منٹ ہیں. ہم نے کہا ٹھیک ہے چلیں پھر ایک پکوڑا ہی دے دیں. اب بھی اکثر "ایک پکوڑا ہی دے دیں" کہہ کر ہمیں تنگ کیا جاتا ہے.

بلوغت کے بعد ایک بار ایسا ہوا کہ ہم رمضان المبارک کے نصف روزے رکھنے سے محروم ہوئے وجہ لقوے کا حملہ تھا میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اگر رمضان المبارک کے علاوہ کوئی اور مہینہ ہوتا تو شاید میں اس بیماری کی زد آ چکا ہوتا اور آج کسی سے سیدھے منہ بات نہ کر رہا ہوتا . ہوا یوں کہ سحری کے بعد وضو کے دوران کرولی کرتے ہمیں احساس ہوا کہ سیدھی طرف ہونٹوں کی گرپ کچھ کمزور ہے لہٰذا اسی دن دس بجے ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے آدھ گھنٹے کے معینہ کے بعد بتایا کہ اس قدر ابتدائی اسٹیج پر آج تک میرے پاس کوئی مریض نہیں آیا. یوں علاج ہوا اور ہم بچ گئے.

یہ پہلا رمضان ہے جب ہم گھر یا گھر والوں سے دور ہیں. اب سحری میں ماں کی آواز نہیں جگاتی بلکہ خود اُٹھ کر باورچی کو یا تو اٹھانا پڑتا ہے یا اطمینان کرنا کہ وہ اٹھ گیا ہے. اب جو ملے اس سے سحری و افطاری کرنی پڑتی ہے نخرے و فرمائشوں کو پورا کرنے والی ماں تو گھر پر ہے باورچی کہہ دیتا ہے صاحب پہلے بتانا تھا اب تو یہ ہی ہے. وقت وقت کی بات ہے جی. نماز میں سستی اب بھی ہے روزے میں لگن پہلی سی نہیں رہی. اللہ ہی ہے جو ہماری اس بھوک و پیاس کو روزے کا درجہ دے بڑے کھوٹے اعمال ہیں.

اردو بلاگرز میں سات آٹھ سال پہلے ایک روایت تھی کہ کسی خاص تہوار یا ایونٹ کی تحریر لکھنے کے بعد دوسرے ک ٹیگ کرتے تھے کہ وہ بھی اس بارے میں لکھیں اس ہی امید پر ہم درج ذیل بلاگرز کو ٹیگ کر رہے ہیں (بلاگرز تو بہت ہے مگر ہم پانچ کو ٹیگ کر رہے ہیں) وہ بھی تحریر لکھ کر مزید پانچ پانچ بلاگرز کو ٹیگ کر لیں.
 انکل اجمل
 محمد رمضان رفیق
 کوثر بیگ 
 یاسر خوامخواہ جاپانی
 نعیم خان  

نوٹ : اردو بلاگرز نے اپنے اپنے پہلے روزے کی یادوں کو تحریر کیا جو تمام کی تمام تحریریں منطرنامہ پر جمع کی گئی ہیں  یہاں  دیکھی جا سکتی ہیں.

بھائی پر لطیفہ، طنز یا خوشامد؟

اہل علم نہایت سنجیدہ ہوتے ہیں ان کا مزاح بھی سبق آموز ہوتا ہے. زندگی کے کچھ شعبہ و پیشے ایسے ہوتے ہیں جن میں سنجیدہ نوعیت کے افراد کی ضرورت ہوتی ہے مراثی طبیعت و مسخرے مزاج افراد کا وہاں ہونا بگاڑ کا سبب بنتا ہے. سیاست و صحافت ایسے ہی شعبہ ہیں.


یوں تو ہمارے ملک کی سیاست میں قابل افراد کا قحط تو ہے ہی  اوپر سے اب مسخرے صفت افراد کی تعداد بھی بڑھنے لگی ہے. ایسا نہیں کہ سیاسی مسخرے پہلے نہیں ہوتے تھے مگر انہیں کبھی درجہ اول کے سیاست دان نہیں مانا جاتا تھا. جلسوں میں پارٹی قیادت کے جلسہ گاہ میں داخلے سے قبل عوام کو مصروف رکھنے کے لئے اب کی خدمات بشکل مقرر حاصل کی جاتی تھیں. پھر آہستہ آہستہ یہ کردار مقبول ہوئے اور مخالف پارٹی کی قیادت کو بے عزت کرنے کو آگے کئے جانے لگے ایک آدھ کو  اس بناء پر وزارت سے بھی نوازا گیا. جب وزارت کے حصول کے لیے مسخرہ پن بھی اہلیت بنی تو کئی سیاہ ست دان اس قابلیت کو اپنانے لگے. ماشاءاللہ اب اکثریت اس خوبی کی حامل ہے.


پیر و گدی نشین حاکموں کی قربت حاصل کرنے کو الہام و خواب کے من گھڑت قصوں کا استعمال کرتے ہیں. یہ خوابی قصے حاکم کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں. منبروں سے ہونے والی سیاست نے جہاں ایسے کئی قصوں کو جنم دیا ہے وہاں ہی ایسے کئی کرداروں کو بھی اس قصہ گوئی کی بناء پر کامیابی سے ہمکنار کیا ہے. یہ بھی ایک المیہ ہے ایسے قصے و قصہ گو بعد میں کتابوں کی زینت بن کر "مستند " تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں.


ملک کی سیاست میں ارتقاء اب اس شعبہ کو اُس مقام پر لے آیا ہے جہاں خود پارٹی سربراہ گانوں کی گونج میں تقریر کرتا ہے، گا گا کر اپنا مدعا بیان کرتا ہے، لہک لہک کر ٹی وی اسکرین پر عجیب و غریب جسمانی حرکات کے ساتھ بیان فرماتے ہیں. ایسے میں آپ کیا خیال کرتے ہیں کہ قیادت کو خوش کرنے کو کیا کیا نہیں کیا جا سکتا؟ ابتدائی کاوشوں میں کہیں ناں کہیں کچھ غلطیاں تو ہو ہی جاتی ہیں . اس بار بھی ہو گئی، غلطیاں درست کرنے کے لیے ہی ہوتی ہیں اگلی بار کسی ایسے فرد سے منسوب کر دیں گے قصہ جو حیات ہو لیاقت علی خان و قائداعظم ان کے خواب میں آ کر "ہم نہیں ہمارے بعد، الطاف الطاف" کہے. حیران و پریشان نہ ہوں ابتداء میں ایسے بیان لطیفہ کی شکل میں وارد ہوتے ہیں جنہیں مخالفین بطور طنز استعمال کرتے ہیں اور بقایا بطور خوشامد. یہ برائی سب پارٹیاں اپنا چکی ہیں کسی کی پکڑی گئی اور کوئی بچ گیا.


اس لطیفے کو سنجیدگی سے لیا جانا خود میڈیا کی غیر سنجیدگی کو ثابت کرتا ہے. یہ خبر بریکنگ نیوز کے طور پر آئی تھی وہ تو شوشل میڈیا پر اس پر طنز ہوا تو شاید اس وجہ سے خبر کا رخ بدلا. ویسے میڈیا میں بھی تو مراثی و مسخرے داخل ہو چکے ہیں ناں. لہذا ان کا بھی غلطی نہیں ہے.


بیہودہ غیر فرمائشی و بے ربط پوسٹ

فرمائش پر کچھ بھی نہیں ہو پاتا ہم سے بلکہ اب تو مزاج ایسا بد ہو چکا ہے کہ کوئی کام to do list میں ہو اور کوئی اسی کام کی فرمائش کر دے تو اسے کرنے کو دل نہیں چاہتا. کرنے بیٹھ جاؤ تو ہو نہیں پاتا. فرمائشی پوسٹ لکھا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن معلوم ہوتا ہے.

ہمارے ایک دوست کو زندگی میں دوسری بار محبت ہونے کا دھوکہ ہوا تو ہمارے پاس دوڑے دوڑے آئے کہنے لگے یار بچی بڑی ٹائیٹ ہے چھوڑنے کو دل نہیں کرتا اور بیوی بھی اچھی ہے بتا کیا کرو؟ ہم نے کہا انتظار کر. کہنے لگے کس بات کا؟ جواب دیا جب گود میں اپنی بچی آ جائے تو دماغ سے یہ معشوق بچی نکل جائے گی. پہلے مشکوک نظروں سے دیکھا پھر گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے. آج کل بیوی و بچی کو سنبھال رہے ہیں. ایک. دن ملےتو کہنے لگے تیری زبان کالی ہے اس وقت اُن کی گود میں بچی تھی.

ہمارے ایک اور دوست نے جعلی فیس بک پروفائل لڑکی کے نام سے بنا رکھی تھی. کئی دوستوں کو ایڈ کر کے ان سے فلرٹ کر رہے تھے ساتھ میں شغل میں دوسرے کراچی کے رہائشی لڑکوں کو بھی پاگل بنا رہے تھے ایک ایک کر کے سب دوستوں سے بکرا بنانے کی ٹریٹ کھائی پھر دیگر لڑکوں پر بھی راز فاش کرنے لگے. اک دن دوسرے دوست نے بتایا کہ جناب نے ایک لڑکے کو یہ بتانے کو میں لڑکا ہوں لڑکی نہیں ایک ریسٹورنٹ میں بلایا تو معلوم ہوا سامنے سے آنے والا لڑکا دراصل اصل میں کوئی خاتون تھی جو لڑکیوں سے لڑکا بن کر فلرٹ کرتی ہے فیس بک پر! ہمارے دوست کی آئی ڈی تو ڈی ایکٹو ہو چکی اس بی بی کا معلوم نہیں. اس وقت دونوں میں سے کون بکرا بنا یہ فیصلہ کرنا ابھی بھی باقی ہے

اسکول کالج کے بچے و بچیاں رومانی کہانیاں و فلمیں دیکھ کر چاہے جانے کی خواہش میں مبتلا ہو جاتے ہیں. ایسے میں ان کے شرارتی دوست و سہیلیاں انہیں تنگ کرنے کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتے ہیں کہ فلاں تمہیں عجیب نظروں سے دیکھتا ہے یوں یہ سلسلہ اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود یہ خیال پال لیتے ہیں کہ محبت ہو گئی ہے. جبکہ یہ Love نہیں Lust ہوتا ہے. چاہے جانے کی خواہش کے زیراثر پیدا ہونے والی غلط فہمی ہوتی ہے.

پہلے پہلے تو ہم بھی اس معاملے سے نا سمجھ تھے مگر وکالت میں آنے کے بعد ایک تو پبلک ڈیلنگ کی بناء پر دوئم کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں کے انٹرویو کرنے پر احساس ہوا کہ فلرٹ کرنے والا دوسرے کو ہی نہیں بلکہ خود کو بھی جھوٹی محبت کے دھوکے میں رکھتا ہے. اور وہ انتہائی قدم (بھاگ کر شادی) دراصل اپنی بےراہ روی کے غلطی پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے کرتا ہے یا انا کی تسکین کے لیے کہ مسترد کئے جانے کا زخم اسے منظور نہیں ہوتا. معاشی طور پر کمزور مرد اس موقع پر واپسی کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں اور یوں کئی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں.

صوفی شعراء نے عشق حقیقی کو عشق مجازی کی تمثیل سے سمجھایا. وقت گزرا جدید نئے دور میں وہ عشق مجازی کی تمثیل پردہ اسکرین پر نازیبا حرکات کرتے (گانوں)  مرد و زن کے روپ میں نظر آنے لگی ہیں اب وہ کلام غلط تعبیر و تشریح کی بناء پر دوا نہیں زہر بن گیا ہے. گزرتے وقت کے ساتھ نئی نسل محبت کو بستر پر وقت گزارنے کا بہانہ سمجھ بیٹھی ہے.

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں میچور و سمجھدار افراد خاص اساتذہ کو بالغ ہوتے بچوں کو اس سلسلے میں educate کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس عمر میں کی گئی غلطی ان کی شخصیت کو اس انداز میں متاثر کرتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مزید تباہی کا سبب بنتا ہے.

اب دیکھ لیں یہ پوسٹ بیہودہ و بے ربط تھی کہ نہیں؟ جب عنوان سے ظاہر تھا تو وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی. اتنا ہی فالتو کا وقت ہے تو تبصرے کر کے دل کی بھڑاس نکال لیں اب وقت تو برباد ہو ہی چکا. جس شیطان سے آپ کو تحریر پڑھنے پر مجبور کیا وہ ہی آپ کو تبصرے سے بھی روکے گا.

روہنگیا: مظلوم ترین آبادی

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 1982 میں شہریت سے متعلق قانون پاس ہونے کے بعد قریب اٹھارہ لاکھ مسلم آبادی پر مصیبتوں کے پہاڑ اتارے گئے خاص کر روہنگیا نسل کے مسلمانوں پر کہ انہیں برما (میانمار) کا شہری ماننے کے بجائے غیر ملکی قرار دیا گیا یوں ایک شہری کو حاصل تمام بنیادی حقوق سے اِس مسلم آبادی کو محروم کر دیا گیا یہاں تک آزادانہ نقل و حمل جیسا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں روہنگیا نسل سمیت دیگر مسلمان آبادی پر سولہویں صدی سے ہی سختیاں شروع ہو گئی تھی جب جانوروں کی قربانی سے روکنے کے عمل سے مظالم کا آغاز ہو گیا تھا.
دنیا میں یہ کہاجاتا ہے کہ بودھ امن پسند ہیں ان کی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کیا جانور کو مارنا بھی ظلم ہے. مگر میانمار کے معاملات سے تو یہ فقط "پراپیگنڈہ" لگتا ہے. مسلم کشی کو لیڈ کرنے والا بودھ بھگشواء ہی تو ہے. ایک سزا یافتہ، مذہبی تعصب کا شکار. اور قاتلوں کی فوج بودھ بھگشوؤں پر مشتمل ہے.
میانمار میں جس قسم کے قوانین پاس ہو رہے ہیں اور حکومت جس طرح کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ساری بربریت و غارت گری کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے. مسلم آبادی پر دو سے ذیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد ہے. ایک مسلم خاندان پر لازم ہے کہ وہ دو بچوں کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ لازم ہے. دوسری طرف میانمار صدر صاف الفاظ میں روہنگیا آبادی کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دے چکا ہے.
ہم نے سنا تھا کہ عورت کا دل بہت نرم ہوتا ہے، چونکہ وہ ایک جان کو جنم دیتی ہے اس لئے انسانی جان کی قدر کو مرد کے مقابلے میں بہتر سمجھتی ہے، مگر معلوم ہوا کہ جب بات اقتدار کے لالچ کی ہو انسانی جان مسلم آبادی کی ہو تو ایک بودھ مذہب کی سیاستدان عورت کی جانب سے سوال کرنے پر بھی مذمت نہیں کی جاتی. انگ سان سوچی نے بھی ایسا ہی کیا یوں اس خیال کو تقویت پہنچی کہ امن کا نوبل انعام دراصل میرٹ پر نہیں پسند پر دیا جاتا ہے.
برما میں ہونے والی اس مسلم کشی میں وہاں کی حکومت، اپوزیشن اور مذہبی طبقے تمام کے تمام ایک ہی لائن پر ہیں، جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر اس انسان کشی کو قبولیت کا درجہ حاصل ہے ایسے میں اس (روہنگیا) مسلم کشی  کا حل کیا ہو گا؟ بیرونی دنیا اور خاص کر مسلم دنیا کیسے انسانی جانوں کو بچا پائے گی؟ کیا بیرونی دنیا ان روہنگیا نسل کو اپنے یہاں پناہ گزیر کرے گی اور اگر ہاں تو کب تک؟
میانمار سے باہر ہونے والے احتجاج و مذمتی جلوس وہاں کے لوگوں کا ذہن نہیں بدلنے والے کم از کم اتنی جلدی نہیں کہ روہنگیا کی آبادی کی مزید بڑے نقصان سے بچ سکے. بیرونی دنیا کی پابندیاں ممکن ہے کسی حد تک بہتری کا راستہ نکال لیں مگر اصل حل یہ ہی ہے کہ کوئی ایسی قوت ہو جو قاتلوں کا ہاتھ موڑ سکے خواہ وہ مقامی آبادی سے نکلے یا بیرونی حملہ آوروں کی شکل میں! کیا مسلم دنیا ایسا ایڈوینچر کر سکی گی؟ نہیں تو بھول جائیں کہ آپ و میں میانمار کی روہنگیا آبادی کو بچا پائے گے البتہ روہنگیا مقتولین کے خاندانوں سے ایسے شدت پسندوں کی پیدائش ضرور ہو گی جو دوسروں پر رحم شاید نہ کریں.

جعلی ڈگری، سچی صحافت

دھوکہ و فراڈ ایک جرم ہے، جرم قابل سزا ہوتا ہے. ملزم کے مجرم بننے تک کے درمیانی سفر میں کئی ایسے مقام آتے ہیں جب اپنے و مخلص پہچانے جاتے ہیں. ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں مجرم کو اس کے جرم کی سزا دلانا اس سے دوستی و محبت کی ایک شکل بھی ہو سکتی ہے اور اس کو بچا لینا اس سے دشمنی.
ہمارے ملک میں حرام کی کمائی سے حج کرنا ہی نہیں بلکہ اس پر زکوۃ و صدقہ دینے کا بھی عام رواج ہے. جو  نوکری پیشہ حلال کمانے کے دعویدار ہیں ان میں سے بھی کئی میری طرح کے ہیں جو نوکری پر آدھ گھنٹہ لیٹ جاتے ہیں اور پونے گھنٹہ پہلے نکل لیتے ہیں کہ کام ختم ہو گیا اور سرکاری گھاتوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے یوں لاتعلق ہوتے ہیں جیسے کہ گونگے، بہرے و اندھے ہوں جبکہ معلوم سب ہوتا ہے.
ہر مارکیٹ کے اپنے بنائے ہوئے چند اصول ہوتے ہیں جس سے انحراف جائز ہوتا ہے مگر اس بے اصولی کا اقرار نہیں کیا جاتا یہ مارکیٹ کا سب سے بڑا و اہم قانون ہوتا ہے.
اصلی یونیورسٹی اصلی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ "دیگر" اسناد کا بھی اجراء کر دیں تو لینے والا مجرم ہوتا ہے مگر جعلی یونیورسٹی کی ڈگری دینے والا مجرم ہوتا ہے یہ ہی اصول ہے یہ ہی قانون. اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ خریدار خود بھی دونمبر مال کی تلاش میں تھا.
صحافت ایک نوبل پروفیشن ہے صحافی کے لئے، ان کے مالکان کے لئے یہ صنعت ہے. صنعت کوئی بھی ہو مقصد پیسہ بنانا ہوتا ہے.  اس صنعت میں سب سے ذیادہ بکنے والی شے جھوٹ ہے. یہاں سچ نہ بولنے پر بھی پیسہ کمایا جاتا ہے بس مرضی کی قیمت لگ جائے. میڈیا مالک صحافی کی ضرورت کی بولی لگاتا ہے، بیچارا صحافی اپنی مجبوری کی قیمت پر بک جاتا ہے.
اگر حرام کی کمائی سے بنائی گئی مسجد میں نماز پڑھنے والے نمازیوں کی نماز کی قبولیت کے سوال کرنا درست نہیں اور نماز کی قبولیت پر شک نہیں تو آنے دیا جائے ایک ایسا میڈیا گروپ جس سے صحافی کی قیمت اس کی مجبوری و ضرورت کو دیکھ کر نہیں قابلیت کو دیکھ کر ادا کی گئی ہو تاکہ سچ بولنے کی قیمت لگے چھپانے کی نہیں، جھوٹ نہ بولنا اصول ٹھہرے قیمت نہیں. ہاں حرام کی کمائی کمانے والا یا قانون شکنی کرنے والے کا معاملہ الگ ہے.
ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کے دعویدار اصولوں کے کتنے بڑے سوداگر ہے ہم جانتے ہیں.
(یہ میری رائے ہے اختلاف آپ کا حق ہے)