ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

ناکامی کسی کا مقدر نہیں

کسی کو ناکام کرنے کو فقط اتنا کافی ہے کہ اُس سے جیت کی امید چھین لی جائے، جیت کی امید کے خاتمے کے ساتھ ہی کامیابی کی جدوجہد دم توڑ جاتی ہے۔ کامیابی کی امید باقی ہو تو ناکامی کا خوف جدوجہد کے لئے تیل کا کام کرتا ہے یعنی جستجو مزید تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا فقط فرد کے لئے ہی نہیں بلکہ افراد کے ایک گرو یا قوم کے لئے بھی درست ہے۔ جیت کی امید کے خاتمے سے اگلا مقام یہ ہے کہ فرد ہار یا ناکامی کو ہی اپنا مقدر سمجھے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وطنوں سے جیت کی امید ہی نہیں چھین لی گئی بلکہ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہار یا ناکامی آپ کا مقدر ہے۔ ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں نااہل افراد اقرباپروری یا دولت کے زور پر قابض ہو گے یا ہیں اور اُن کا مقدر یہاں اس وطن میں نہیں۔ قابل آدمی ناکام ہو کر مایوسی پال لے تو اُس کی صحبت کئی دیگروں کو بھی اس بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں اس بیماری کے مریض بڑھتے جاتے ہیں ۔
مگر حقیقت میں قابل آدمی ہمیشہ دوسروں کی ضرورت ہی نہیں مجبوری ہوتا ہے آپ اپنی قابلیت میں اضافہ کرے یقین کریں آپ بھی ضرورت نہیں سامنے والی کی مجبوری بن جائیں گے۔ تجربے نے یہ بات سکھائی ہے کہ ہر نااہل کو ایک اہل بندہ درکار ہوتا ہے اور اگر آگے جانے کی جستجو برقرار رہے تو راستے بھی ذہین لوگ بناتے ہیں۔ مایوس ہونے والے دراصل وہ ہوتے ہیں جو ہار و ناکامی کو مقدر مان لے۔
ہاں ایسی کامیابی کے لئے بس جدوجہد و انتظار ضروری ہے۔

خود غرضی!!

جب ہم کہتے ہیں کہ سب کی اپنی اپنی غرض ہے کسی کو میری پرواہ نہیں کو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم تسلیم ہیں کہ ہم بھی اپنی ذات میں خود غرض ہیں اور چاہتے ہیں کہ لو گ ہماری پرواہ کریں! لیکن اپنے رویے اور سوچ میں یہ خیال لئے ہوتے ہیں کہ ہم خود غرض نہیں۔

حق حلال!

تھانے میں گاڑی چھڑانے پہنچے تو آگے سے ملنے والے بندے نے منہ بنا کر کہا "آپ کو آنے کی یا ضرورت تھی؟"
وکیل صاحب نے کہا "یار! وہ بندہ اکیلے آنے سے ڈرتا تھا اس لئے میں ساتھ میں آ گیا"
"آپ کو نہیں معلوم یہ ایک نمبر کا فراڈیہ بندہ ہے یہ اس گاڑی کو سمگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے ، اب دیکھیں ناں تین ماہ سے ٹرک تھانے میں بند ہے یہ نہیں آیا اور آج آپ کے ساتھ آ گیا۔"
وکیل "اچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
"کچھ نہیں اب آپ آ گئے ہیں تو لے کر ہی جائیں گے گاڑی، ہم آپ کا خیال کرتے ہیں آپ ہمارا خیال کر لیں"

وکیل "بہتر"
کچھ دیر بعد وکیل صاحب نے بندے کے ہاتھ میں آٹھ ہزار روپے رکھے اور پوچھا "اب ٹھیک ہے؟"
"جناب اب آپ سے کیا کہو ٹھیک ہے چلیں اُس کو بلائیں کچھ کاغذی کاروائی کرنی ہے! میں اُسے کہوں گا آُ نے مجھے بارہ ہزار دیئے ہیں ! ہمیں آپ کا بھی خیال ہے ناں!"
بندہ مالک ٹرک سے "دیکھیں میں نے وکیل صاحب کی وجہ سے آپ کا خیال کیا ہے شکر ادا کرو ان کا۔وکیل صاحب نے مجھے بارہ ہزار کی مٹھائی دی ہے ۔ مجھے معلوم ہے جو تم کرتے ہوں یہ پیسہ یہاں ہی رہ جائے گا دنیا کا مال یہاں ہی رہ جائے گا۔حرام کی کمائی سے اولاد بھی بگڑ جاتی ہے عزت نہیں کرتی اور آخرت الگ خراب ہوتی ہے۔ حق حلال کی روزی کماؤ اچھا! یہ بُرے دھندے چھوڑ دو"
بندہ گاڑی کی چابی لے کر ہاتھ ملاتے ہوئے "جی انسپکٹر صاحب! میں کوشش کرو تو بھی آپ کی طرح کی حق حلال کی کمائی اپنی اولاد کو نہیں کھلا سکتا"
بس اس لمحے انسپکٹر کا چہرہ دیکھنے والا تھا!!!!

مجبوری اور قیمت

بھوک کردار کو کھا جاتی ہے. بندہ اپنے نظریات کے متضاد عمل ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے دلیل کے نام پر جواز بھی بنا لیتا ہے. قیمت ضرورت کی نہیں مجبوری کی لگتی ہے. کتنی بڑی مجبوری ہوتی ہے اُتنا سستا ہی کردار بکتا ہے.
صاحب کردار وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جن کی مجبوریاں چھوٹی ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیں جو اپنی ضرورتوں کو مجبوری بننے نہیں دیتے.
عقل اور عقیدہ دونوں بھوک کے پہلے شکار ہوتے ہیں. غربت کا حملہ ہی نہیں اس کے حملہ آور ہونے کا اندیشہ بھی بندے کو گمراہی کے راستے سے بہتر زندگی کی راہ نکالنے کا درس دیتا ہے.
بہکنے والے اکثر لمبی مدت کے بعد صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کو گمراہ سمجھتے ہیں.

تھر کا قحط

یار کیا پروگرام ہے چلے گا
"کہاں؟"
تھرپارکر
"کون کون جا رہا ہے؟"
سارے یار چلے رہے ہیں یہ سمجھ پورا قافلہ ہے
"امداد لے کر جا رہے ہو؟"
ہاں لازمی ہے امداد بھی لے کر جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے.
"کیا کچھ اور بھی لے کر جا رہے ہو؟"
نہیں میں نے تو یوں کہا چلیں گے تھر بھی دیکھ لیں گے سیر ہو جائے ہے اور تفریح بھی.
"شرم کر یار وہاں لوگ مر رہے ہیں اور تو تفریح کی نیت رکھے ہوئے ہیں "
غلطی ہو گئی میرے باپ جو تجھ سے پوچھ لیا معاف کر دے
" تم بھی اس سے کم تو نہیں جو وہاں مچھلی کی ضیافت کر کے آیا تھا "
چلنا ہے تو چل یہ جیو اور اے آر وائے والی رپورٹنگ نہ کر. شام کو تو بھی اونچی آواز میں جسٹ ان بے بی سن رہا ہو گا. تیری جیسے مجھے خبر نہیں ناں.