ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

تھر کا قحط

یار کیا پروگرام ہے چلے گا
"کہاں؟"
تھرپارکر
"کون کون جا رہا ہے؟"
سارے یار چلے رہے ہیں یہ سمجھ پورا قافلہ ہے
"امداد لے کر جا رہے ہو؟"
ہاں لازمی ہے امداد بھی لے کر جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے.
"کیا کچھ اور بھی لے کر جا رہے ہو؟"
نہیں میں نے تو یوں کہا چلیں گے تھر بھی دیکھ لیں گے سیر ہو جائے ہے اور تفریح بھی.
"شرم کر یار وہاں لوگ مر رہے ہیں اور تو تفریح کی نیت رکھے ہوئے ہیں "
غلطی ہو گئی میرے باپ جو تجھ سے پوچھ لیا معاف کر دے
" تم بھی اس سے کم تو نہیں جو وہاں مچھلی کی ضیافت کر کے آیا تھا "
چلنا ہے تو چل یہ جیو اور اے آر وائے والی رپورٹنگ نہ کر. شام کو تو بھی اونچی آواز میں جسٹ ان بے بی سن رہا ہو گا. تیری جیسے مجھے خبر نہیں ناں.

اصل کی طرف سفر

گاؤں کی طرف سفر کا آغاز کیا تو اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کی طرف جانے کی خوشی تھی. اپنے اصل کی طرف روانگی کیا لذت عطا کرتی ہے یہ بیان سے باہر ہے. سفر سارا اسی سرشاری میں ہوا.
میں اپنے خاندان کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جن کی پیدائش و پرورش شہر میں ہوئی. گاؤں سے ہمارا تعلق بڑوں کی زبانی سنے ہوئے قصوں سے شروع ہو کر ان قصوں پر ہی ختم ہوتا ہے.
غیر محسوس انداز میں ایک ایسی نسل جو اپنے اصل سے واقف ہو کر اس سے دور اور اس سے جڑے ہونے کے باوجود اس سے بے خبر ہوتے ہیں.
دیہاتی زندگی کے حق میں ہماری وکالت زبانی جہاد سے آگے نہیں ہوتی. جب کبھی اپنے ہم عمر کزنوں سے  دیہی زندگی کے کسی گوشے سے متعلق سوال کرتا ہوں کہ یہ کیا ہے یہ کیسے ہے تو اندر کہیں سے یہ آواز آتی ہے جہالت یہ بھی ہے کہ بندہ ان باتوں اور حقیقتوں سے ناواقف ہو جس پر آباؤ اجداد کو ماہرانہ دسترس ہو، ایسا علم کیا کرنا جو اصل سے دور کرے.
یہاں گاؤں میں کھلے گھر کو حویلی کہتے ہیں! یہ بادشاہوں کی حویلیوں جیسی نہیں ہوتی مگر رہائشیوں کے لئے یہ اپنی سلطنت کے دربار سے کم نہیں. میرے گاؤں میں لوگوں نے اپنی ان حویلیوں کو واقعی سلطنت کے دربار سا بنا رکھا ہے بیرون ملک کی کمائی سے بننے والے یہ مکان شہر کے بنگلوں سے ذیادہ بہتر اور جدید ہیں. ان میں اپنا آبائی مکان جو اب بھی پرانے طرز کا ہی ہے ایک احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے کہ دیکھو مکان کے مکین اس سے دور ہو تو گھر ویران ہوتے ہیں. ایسے گھر ان ریسٹ ہاؤس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو سال دو سال میں ایک آدھ بار آباد ہوں.

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ میرا جیسا خود فریبی میں مبتلا ہو کر بے شک یہ فخر کرتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جو شہری و دیہاتی زندگی کا بھرپور امتزاج ہے مگر درحقیقت ایک رخ یہ بھی ہے کہ میرے جیسا بندہ نئی تشکیل شدہ پہچان اور اصل پہچان کی درمیانی کشمکش کا شکار بھی رہتا ہے .

ڈربہ اور کھلا آسمان

کراچی میں ایک بستی ہے اعظم بستی، ہمارے تایا ابو پہلے وہاں آباد تھے ۔ ہم بچپن میں جب بھی وہاں جاتےتو عموما دو چار دن اُن کے گھر پر رہتے تھے۔ اُن کے پڑوس میں میں ایک گھر تھا جس میں ایک بابا رہتا تھا جس نے بے تحاشا کبوتر رکھے تھے اور کبوتروں کے لئے ایک پنجرہ بنا رکھا تھا اور اُس پنجرے کو اُس نے مزید کئی پنجروں میں یوں تقسیم کیا ہوا تھا کہ ہر حصہ ایک الگ پنجرہ ہی معلوم ہوتا اُس بابے کا نام تو ہم نہیں جانتے مگر اُس سے ہماری دوستی ہو گئی تھی۔ بابے نے ممکن ہے کبوتر شوق سے رکھیں ہوں مگر وہ کبوتروں کی خرید و فروخت کا بھی کام کرتا تھا۔ایک دن دوران گفتگو ہم نے بابے سے کہا کہ آپ ان کبوتروں کوان چھوٹے پنجروں میں کیوں رکھا ہوا ہے یہ پرندہ کھلے آسمان میں اچھا لگتا ہے یہ ڈربے ہیں بھی گندے ، بابے نے جواب دیا میں نے انہیں یہاں ان کبوتروں کو ان کی اپنی بھلائی کو نہیں رکھابلکہ یہ قید ی ہیں میرے ،مجھے ان سے نہیں ان کی افزائش نسل میں دلچسپی ہے، یہ جتنی تعداد میں ہوں گے اتنی ہی میری روزی روٹی بڑھے گی، یہ ڈربے میں ہی اچھے ہیں کھلا آسمان ممکن ہے ان کے لئے اچھا ہو مگر ان کا یہ اچھا میرے لئے برا ہو گا۔
آج شام گلستان جوہر میں ایک چائے کے ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے فلیٹ کی زندگی پر بات کرتے فلیٹ کو ڈربہ سے تشبی دینے پر مجھے یہ بات یاد آ گئی۔
نہ اپنی زمین نہ اپنا آسمان چلتی سانس کو زندگی سمجھنے والے ہم لوگ، خواہشوں کی دوڑ میں اپنے لئے کیا اچھا ہے اُسے بھول کر ہم کسی اور کے فائدے کے کام تو نہیں آ رہے؟

جہالت کی آگاہی

ہم نے سنا ہے علم و آگاہی جہالت سے نکالتی ہے. دانشوری دراصل سمجھ بوجھ و عقل کا نام ہے. بے خبری کیا ہے یہ بندہ خبر ہونے سے قبل نہیں جان سکتا. کامیابی صرف اور صرف محنت کا ثمر ہے یہ وہ ہی کہتے جو اپنی جہالت سے ناواقف ہوں. جس قدر ہم معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں ہمارے علم میں اضافہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے.
کامیابی دراصل آگاہی کی طرف سفر ہے. اس سفر میں گمراہی کی ابتداء اپنے علم کو کامل و مکمل جاننے سے شروع ہوتی ہے اور بندہ اپنی جہالت کے باوصف باقیوں کو کمتر جانتا ہے.
معلومات میں سے علم تک اور علم سے عمل تک کا سفر بندے کے دانشور یا جاہل ہونے کا اعلان کر دیتا ہے.
ہم معلومات تک محدود رہ کر خود کو دانشور کہہ کر اپنی جہالت کا اعلان کرتے ہیں.

محبت ، عقیدت، خوشی و جشن

جو لوگ محبوب رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں محبوب ہی نہیں اُس سے جڑی ہر شے اچھی لگتی ہے۔ معیار محبوب ہوتا ہے ! جو اسے پسند وہی پسند کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کا کوئی محبوب نہیں ہوتا اُن کی منطق یہ سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کہ عشق کی یہ کیا کیفیت ! محبوب معیار کیسے ہوا، عاشق کو محبوب کی پسند ہی پسند کیونکر ہوتی ہے؟ اُس سے جڑی بات، لمحہ، چیز یا کچھ بھی کیوں عزیز ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے ماں باپ سے ذیادہ عزیز ہمارا نبی ہے، ہمیں اُس سے عقیدت ہے۔ آپ کی ولادت ، ہمارے لئے وہ سبب جس سے ہم نے اللہ کو جانا و پہچانا، لہذا آپ کی آمد کی ہم کیوں خوشی نہ منائے۔ ہمیں اپنے محبوب کی آمد کی اتنی خوشی ہے کہ ہم اسے جشن منانے کی اہم وجہ جانتے ہیں۔ اس کیفیت کو جانو تو جانو گے کہ یہ عید (خوشی) ہے کہ نہیں!!
جشن عید میلادالبنی مبارک ہو!