ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

خود غرضی!!

جب ہم کہتے ہیں کہ سب کی اپنی اپنی غرض ہے کسی کو میری پرواہ نہیں کو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم تسلیم ہیں کہ ہم بھی اپنی ذات میں خود غرض ہیں اور چاہتے ہیں کہ لو گ ہماری پرواہ کریں! لیکن اپنے رویے اور سوچ میں یہ خیال لئے ہوتے ہیں کہ ہم خود غرض نہیں۔

حق حلال!

تھانے میں گاڑی چھڑانے پہنچے تو آگے سے ملنے والے بندے نے منہ بنا کر کہا "آپ کو آنے کی یا ضرورت تھی؟"
وکیل صاحب نے کہا "یار! وہ بندہ اکیلے آنے سے ڈرتا تھا اس لئے میں ساتھ میں آ گیا"
"آپ کو نہیں معلوم یہ ایک نمبر کا فراڈیہ بندہ ہے یہ اس گاڑی کو سمگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے ، اب دیکھیں ناں تین ماہ سے ٹرک تھانے میں بند ہے یہ نہیں آیا اور آج آپ کے ساتھ آ گیا۔"
وکیل "اچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
"کچھ نہیں اب آپ آ گئے ہیں تو لے کر ہی جائیں گے گاڑی، ہم آپ کا خیال کرتے ہیں آپ ہمارا خیال کر لیں"

وکیل "بہتر"
کچھ دیر بعد وکیل صاحب نے بندے کے ہاتھ میں آٹھ ہزار روپے رکھے اور پوچھا "اب ٹھیک ہے؟"
"جناب اب آپ سے کیا کہو ٹھیک ہے چلیں اُس کو بلائیں کچھ کاغذی کاروائی کرنی ہے! میں اُسے کہوں گا آُ نے مجھے بارہ ہزار دیئے ہیں ! ہمیں آپ کا بھی خیال ہے ناں!"
بندہ مالک ٹرک سے "دیکھیں میں نے وکیل صاحب کی وجہ سے آپ کا خیال کیا ہے شکر ادا کرو ان کا۔وکیل صاحب نے مجھے بارہ ہزار کی مٹھائی دی ہے ۔ مجھے معلوم ہے جو تم کرتے ہوں یہ پیسہ یہاں ہی رہ جائے گا دنیا کا مال یہاں ہی رہ جائے گا۔حرام کی کمائی سے اولاد بھی بگڑ جاتی ہے عزت نہیں کرتی اور آخرت الگ خراب ہوتی ہے۔ حق حلال کی روزی کماؤ اچھا! یہ بُرے دھندے چھوڑ دو"
بندہ گاڑی کی چابی لے کر ہاتھ ملاتے ہوئے "جی انسپکٹر صاحب! میں کوشش کرو تو بھی آپ کی طرح کی حق حلال کی کمائی اپنی اولاد کو نہیں کھلا سکتا"
بس اس لمحے انسپکٹر کا چہرہ دیکھنے والا تھا!!!!

مجبوری اور قیمت

بھوک کردار کو کھا جاتی ہے. بندہ اپنے نظریات کے متضاد عمل ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے دلیل کے نام پر جواز بھی بنا لیتا ہے. قیمت ضرورت کی نہیں مجبوری کی لگتی ہے. کتنی بڑی مجبوری ہوتی ہے اُتنا سستا ہی کردار بکتا ہے.
صاحب کردار وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جن کی مجبوریاں چھوٹی ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیں جو اپنی ضرورتوں کو مجبوری بننے نہیں دیتے.
عقل اور عقیدہ دونوں بھوک کے پہلے شکار ہوتے ہیں. غربت کا حملہ ہی نہیں اس کے حملہ آور ہونے کا اندیشہ بھی بندے کو گمراہی کے راستے سے بہتر زندگی کی راہ نکالنے کا درس دیتا ہے.
بہکنے والے اکثر لمبی مدت کے بعد صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کو گمراہ سمجھتے ہیں.

تھر کا قحط

یار کیا پروگرام ہے چلے گا
"کہاں؟"
تھرپارکر
"کون کون جا رہا ہے؟"
سارے یار چلے رہے ہیں یہ سمجھ پورا قافلہ ہے
"امداد لے کر جا رہے ہو؟"
ہاں لازمی ہے امداد بھی لے کر جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے.
"کیا کچھ اور بھی لے کر جا رہے ہو؟"
نہیں میں نے تو یوں کہا چلیں گے تھر بھی دیکھ لیں گے سیر ہو جائے ہے اور تفریح بھی.
"شرم کر یار وہاں لوگ مر رہے ہیں اور تو تفریح کی نیت رکھے ہوئے ہیں "
غلطی ہو گئی میرے باپ جو تجھ سے پوچھ لیا معاف کر دے
" تم بھی اس سے کم تو نہیں جو وہاں مچھلی کی ضیافت کر کے آیا تھا "
چلنا ہے تو چل یہ جیو اور اے آر وائے والی رپورٹنگ نہ کر. شام کو تو بھی اونچی آواز میں جسٹ ان بے بی سن رہا ہو گا. تیری جیسے مجھے خبر نہیں ناں.

اصل کی طرف سفر

گاؤں کی طرف سفر کا آغاز کیا تو اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کی طرف جانے کی خوشی تھی. اپنے اصل کی طرف روانگی کیا لذت عطا کرتی ہے یہ بیان سے باہر ہے. سفر سارا اسی سرشاری میں ہوا.
میں اپنے خاندان کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جن کی پیدائش و پرورش شہر میں ہوئی. گاؤں سے ہمارا تعلق بڑوں کی زبانی سنے ہوئے قصوں سے شروع ہو کر ان قصوں پر ہی ختم ہوتا ہے.
غیر محسوس انداز میں ایک ایسی نسل جو اپنے اصل سے واقف ہو کر اس سے دور اور اس سے جڑے ہونے کے باوجود اس سے بے خبر ہوتے ہیں.
دیہاتی زندگی کے حق میں ہماری وکالت زبانی جہاد سے آگے نہیں ہوتی. جب کبھی اپنے ہم عمر کزنوں سے  دیہی زندگی کے کسی گوشے سے متعلق سوال کرتا ہوں کہ یہ کیا ہے یہ کیسے ہے تو اندر کہیں سے یہ آواز آتی ہے جہالت یہ بھی ہے کہ بندہ ان باتوں اور حقیقتوں سے ناواقف ہو جس پر آباؤ اجداد کو ماہرانہ دسترس ہو، ایسا علم کیا کرنا جو اصل سے دور کرے.
یہاں گاؤں میں کھلے گھر کو حویلی کہتے ہیں! یہ بادشاہوں کی حویلیوں جیسی نہیں ہوتی مگر رہائشیوں کے لئے یہ اپنی سلطنت کے دربار سے کم نہیں. میرے گاؤں میں لوگوں نے اپنی ان حویلیوں کو واقعی سلطنت کے دربار سا بنا رکھا ہے بیرون ملک کی کمائی سے بننے والے یہ مکان شہر کے بنگلوں سے ذیادہ بہتر اور جدید ہیں. ان میں اپنا آبائی مکان جو اب بھی پرانے طرز کا ہی ہے ایک احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے کہ دیکھو مکان کے مکین اس سے دور ہو تو گھر ویران ہوتے ہیں. ایسے گھر ان ریسٹ ہاؤس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو سال دو سال میں ایک آدھ بار آباد ہوں.

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ میرا جیسا خود فریبی میں مبتلا ہو کر بے شک یہ فخر کرتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جو شہری و دیہاتی زندگی کا بھرپور امتزاج ہے مگر درحقیقت ایک رخ یہ بھی ہے کہ میرے جیسا بندہ نئی تشکیل شدہ پہچان اور اصل پہچان کی درمیانی کشمکش کا شکار بھی رہتا ہے .