ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

ناکامی بھی بخشش ہے

وقت سے پہلے حاصل ہونے والی  کامیابی بڑی کامیابی کے راستے کی رکاوٹ بھی ہوسکتی ہے. جہد مسلسل پر حاصل ہونے والی بڑی کامیابی کئی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں و ناکامیوں کے ملاپ کا نتیجہ ہوتی ہیں . مسلسل ناکامیاں ممکن ہے مایوسی کی پرورش کرتی ہوں مگر مثبت رویہ رکھنے والے کو بطور انعام اپنی فیلڈ کا سب سے کامیاب فرد بنا دیتی ہے.


جب کبھی اپنے اردگرد نظر دہرائی جدوجہد کے ابتدا میں کامیابی حاصل کر کے مطمئن ہونے والوں کو کامیاب لوگوں کی فہرست میں پچھلی نشست میں دیکھا. کاوشوں کے نتائج پر اطمینان کرنے والے آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں. یہ خیال کہ ناکامیاں ہی کسی فرد کو ناکام بناتی ہیں اس وقت غلط ثابت ہوا جب کسی چھوٹی یا نچلی منزل پر مطمئن بیٹھے شخص کو دیکھا کہیں وہاں وہ اپنی اولین کامیابی کی بناء پر پہنچا تھا.


ایک بزرگ نے ہمیں ایک بار کہا تھا "پتر ناکامیوں کو سنبھال کر رکھا کر یہ مثالی کامیابی کی کنجی ہوتی ہیں" ہمیں یہ بات تب سمجھ میں نہیں آئی تھی مگر اب احساس ہوتا ہے ناکامی ایندھن کا کام بھی تو کرتی ہے بڑی منزل تک پہنچنے کے لئے ذیادہ ایندھن درکار ہوتا ہے شاید اس سے یہ مراد ہو کبھی خیال آتا ہے شاید چونکہ ہر ناکامی ایک نیا سبق دیتی ہے جو علم میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور مثالی کامیابی علم کے بغیر ممکن نہیں شاید ان کی یہ مراد ہو قیاس ہی کر سکتا ہوں مطلب سمجھنے میں مگر جس پہلو سے بھی دیکھو بات سچی ہی معلوم ہوتی ہے.


بات یہ ہے کہ ناکامی بھی تحفہ ہے بخشش ہے کھلے دل سے قبول کریں گے تو بڑی کامیابی عنایت ہو گی ورنہ منزل سے دور ہی رہے گی اور بندہ ہمیشہ ناکام. ناکامی کو تحفہ یا بخشش ماننے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ جدوجہد کرے.


The Girl in The River

ماشاءاللہ! بہت عمدہ اور بہترین کام کیا ہے اس نے، وہ شروع سے نونہال تھی
"ابا آپ اسے کارنامہ سمجھتے ہیں"
اور کیا ایسی کارکردگی دیکھانے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں ہوتی!
"لیکن ابا اس نے ہمارے لئے تو کچھ بھی نہیں کیا"
نالائق! وہ اور تمہارے لئے کیا کرے
"مسئلہ کا حل یہاں ہے وہاں یوں... "
تجھے خود تو کچھ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی اب اس کی کامیابی پر الٹا منفی باتیں؟
" ابا! وہ غیر ہیں وہاں اپنے گھر کا مسئلہ اٹھانا اور یہاں چپ رہنا منافقت ہے! تبدیلی یہاں لانی ہے یا وہاں؟ اسے یہاں تبدیلی کی کوشش کرنی چاہئے"
شرم کر! شرم! وہ انعام جیتی ہے انعام لگی سمجھ، دفعہ ہو جا میرے گھر سے خبیث!

قیدی

مجھے آئینہ پر ابھرتے اپنے عکس پر ہنسی آ رہی تھی کہ یہ میری حرکات و سکنات کا قیدی ہے، جو میں کروں گا یہ وہ ہی کرتب دیکھائے گا. اپنے عکس پر طنزیہ مسکراہٹ ڈالتے ہوئے جب میں پلٹا تو چاروں طرف مکمل اندھیرا چھا گیا، گھبرا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو شیشے کے اس طرف روشن کمرے میں میرا عکس، ہم ذات، قہقہے لگا رہا تھا اور میرے چاروں طرف اندھیرا تھا.


انا

مجھے،
تم سے،
پیار نہیں ہے،
یہ دعوٰی ہے،
اقرار!
نہیں ہے،
تیری تمنا ہے،
سوال نہیں ہے.


(عنوان سلیم بھائی نے تجویز کیا ہے.)


مردے کو اب موت نہیں ہے

آنکھ کا پانی اور تیری یاد!
پچھتاوے کی انوکھی آگ.

صبح صبح جو رو لیتا ہوں
غم کا غبار دھو لیتا ہوں

دن گزرے گا جدوجہد میں
رات پھر ہو گی تیری یاد

غلطی کا کوئی مداوا نہیں ہے
سینہ کوبی ہرگز دعوی نہیں ہے

تکلیف ہے مگر چوٹ نہیں ہے
مردے کو اب موت نہیں ہے