ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

بوڈیسر مسجد و تالاب

ننگرپارکر سے پانچ کلو میٹرشمال مغر ب میں بوڈیسر نامی گاؤں کے پاس کارونجھر پہاڑ کے قدموں میں واقع تالاب و مسجد کو بھی شاید گاؤں کی مناسبت سے ہی بوڈیسر مسجد و بوڈیسر ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں گاؤں یا مسجد سے کس کا نام پہلے بوڈیسر رکھا گیا ؟ اگرچہ تالاب ذیادہ قدیم ہے مگر قیاس غالب ہے کہ اس تالاب یا ڈیم کو بوڈیسر کا نام بعد میں دیا گیا ہو گا۔
کارونجھر پہاڑ ی سلسلہ دراصل گرینائٹ کے ذخائر ہیں، یہ رن آف کچھ کے شمال میں واقع ہے۔رن آف کچھ کے پرانے باسیوں کو ہی کچھی کہا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد کارونجھر پہاڑ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مگر ہم نے اسے خشک حالت میں دیکھا اور پتھروں کےبڑے سائزوہیت سے حیران ہوئے۔ پہاڑ اور قریبی زمین کی ساخت اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ کبھی ہزاروں سال پہلے یہاں دریا بہتہ ہو گا۔
بوڈیسر مسجد کے قریب لگے بورڈ کے مطابق یہ مسجد سن ۱۵۰۵ عیسوی (۸۰۸ ھجری)میں گجرات کے حاکم محمود شاہ بن مظفر بن غیاث الدین نے تعمیر کی۔ اس وقت کےا گجرات(احمد آبااد) کے حاکم ناصرالدین محمود شاہ اول مساجد کی تعمیر کا شوق رکھتے تھے اور محمود بگڑا کے نام سے مشہور تھے۔ وہ سن ۱۵۰۵ میں یہاں محمود بگڑا اور راجپوت سوڈا کے درمیان جنگ ہوئی تھی تب ہی یہ مسجد تعمیر ہوئی۔ جنگ میں کام آنے والے چندمسلم سپاہیوں کی قبریں بھی اس ہی مسجد کے قریب بنائی گئی تھی۔ بوڈیسر نام کا ایک علاقہ آج بھی بھارت کے صوبے گجرات کے ضلع کچھ کی تحصیل عبداصہ میں ہے ممکن ہے ہندوستانی مزاج کے مطابق اس مسجد کو اُس ہی علاقے کے نام پر بوڈیسر قرار دیا ہو۔ جیسا کہ ایک ہی نام کے کئی قصبے و گاوّں آباد کرنے کا رواج ہے یہاں۔پہلی مرتبہ جب ہم نے بوڈیسر کا نام سنا تو لگا جیسے بدھا سر کہا گیا ہے اور ہم جین مذہب کے خیالات میں ہونے کی وجہ سے اسے بدھ مذہب سے ملانے لگے مگر مقامی لوگوں سے تصدیق نہ ہو سکی۔
اپ ڈیٹ :پروفیسر نور احمد کاکہنا ہے کہ بوڈیسر دراصل دو الفاظ کا مرکب ہے، بودے اور سر،بوڈے ایک سابقہ حاکم بوڈے پرامر کے نام سے لیا گیا ہے کہ یہ گاوں اُس نے بنایا جبکہ سر سے مراد وہ قدرتی تالاب ہے جو بارش کے پانی سے دجود میں آتا ہے۔ یعنی قصبوں کے نام حاکم کے نام پر ہوتے ہیں اور بستے اُس میں عوام ہیں یہ کافی پرانا سلسلسہ ہے۔
ایک کہانی یہ بھی ہے کہ روجپوتوں نے اس علاقے کے بیل حاکم کو شکست دے کر اُس کا سر اس تالاب یا جھیل میں پھینکا تھا اس لئے بھی اسے بوڈیسر کہا جاتا ہے
ویسے بوڈیسر سنسکرت زبان کا لفظ بھی ہے جس سے مراد ایک مکمل طریق حیات ہے، بوڈیسر مرد و عورت کے درمیان روحانی تعلق سے لے کر، مذہبی عبادت ، مذہبی رہنما کی اطاعت، مخصوص جسمانی کسرت (غالب امکان یوگا ہے کیوں کہ اوم یوگا کا مخصوص کلمہ ہے)،جنسی تعلقات، شاعری، رقص اور فنون لطیفہ کی تمام ہی اشکال وغیرہ یعنی یوں سمجھ لیں بوڈیسر سے مراد زندگی کے اور اُس سے جھڑے تمام معاملات لیئے جاتے ہیں۔ اس لئے اگرچہ تصدیق تو نہیں ہوئی اب تک مگر یہ ہی خیال کیئے لیتے ہیں بوڈیسر دراصل یہ ہی سنسکرتی لفظ बोधसार ہے سنگ مرمر سے بنی یہ بوڈیسر مسجد ہندو و جین مذہب کی عمارتوں کی بناوٹ سے متاثر نظر آتی ہے خاص کر کے اس کا گنبد اندرونی جانب سے جین مذہب کے مندروں سے ملتا جلتا ہے۔ قریب پانچ سو سال قبل تعمیر کی گئی یہ مسجد آج بھی بہت دلکش ہے۔

مسجد کے ساتھ ہی ایک چھوٹا تالاب یا ڈیم ہے یہ تالاب بارش کی موجودگی میں چشمے کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ کارونجھر پر برسنے والا بارش کا پانی مختلف چھوٹے بڑے چشموں سے ہوتا ہوا اس تالاب کے شکم کو بھرتا ہے۔ محمود غزنوی سومناتھ کو فتح کرنے کے بعدواپسی میں اس تالاب کا مہمان ہوا تھا۔

تالاب سے کچھ فاصلہ پر جین مذہب کا ایک مندر ہے اسے آپ بوڈیسر مندر کہہ لیں گزشتہ پوسٹ میں میں نے گوری مندر بارے بتایا تھا۔ اس خطے میں ان مندروں کو دیکھ ہم یہاں کے پرانے دور کے کاریگروں کے فن تعمیر کی صلاحیت سے متاثر ہوئے ہیں۔

گوری مندر

سندھی میں اسے گوری جو مندر بتایا گیا ہے یعنی گوری کا مندر پہلے پہل سن کر خیال آیا شاید کسی رنگت کی سفید خاتون کی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ نام اس شاید گوری چی نامی جین مذہب کے پیروکار کی وجہ سے ہے جس نے اسے سن سولہویں صدی عیسوی کے شروع میں تعمیر کیا کیا تھا اگرچہ یہاں جین مذہب کے مندروں کی تعمیر 1376 ء سے ہو رہی تھی ایک روایت کے تحت یہ بھی ممکن ہے یہ تب ہی تعمیر ہوا ہو ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسےایک جین مذہب کے پیروکار مینگھو نے تعمیر کیا تھا جوپاری ننگر کا رہائشی تھا،جو کہ پیرس ناتھ پرسوپو کا ماننے والا تھا، یہ پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب خود گورو گورتھ ناتھ کا مرید تھا۔جو پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب گوری چی خاندان سے تھے اس بناء پر اس مندر گوری مندر کے نام سے جانا جارا ہے۔یہ مندر جین مذہب کے فرقے شویت امبر کے پیروکاروں کا مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بطورمذہبی مدرسہ کے جین مذہب کے پیروکار استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک روایت یوں بھی ہے کہ یہ گوری نہیں گودی ہے گودی جی پرشاناتھ کی مناسبت سے، گودی جی پرشادناتھ دراصل جین مذہب کے تیسویں گرو یا پیغمبر تھےجین مذہب کے کُل چوبیس گرو یا پیغمبر ہیں۔مگر مقامی آبادی چونکہ اسے گوری مندر کہتے ہیں لہذا ہم بھی گوری مندر ہی لکھ رہے ہیں۔
اس مندر کی تاریخ کی کئی روایات ہے بہرحال یہ مندر اسلام کوٹ اور ننگرپارکر کے درمیان واقع یہ جین مذہب کا مندر ماروی کے گاوں سے قریب چار میل کے فاصلے پر ہے۔ تھرپارکر میں ننگرپارکر کا علاقہ میں کبھی جین مذہب کے کافی پیروکار آباد تھے سنا ہے قریب پچاس کے لگ بھگ یہاں جین مذہب کے چھوٹے بڑے مندر ہیں، ہم نے دو ہی کامشاہدہ کیا ہے۔
اس مندر کی تعمیر میں ماربل کا پتھر استعمال کیا گیا ہے خیال کیا جاتا ہے یہ پتھر گجرات سے لایا گیا تھا۔مندر کی تعمیرقدیم قرون وسطی طرز کی ہے۔تقریبا پچاس کے لگ بھگ چھوٹے بڑے گنبد اس مندر کی چھت پر موجودہیں۔مندر کی بیرونی بارہ دری والے گنبدکی اندرونی جانب نقش نگاری کی گئی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نقش و نگار دراصل جین مذہب کے چوبیس گروز کی تشبیہ ہیں اور اس کے علاوہ عبادات کے مناظر و جانوروں (گھوڑا،ہاتھی وغیرہ) کی تشبیہات ہیں۔
اس وقت یہ مندر تباہی کا شکار ہے تیس فیصد مندر ٹوٹ چکا ہے مندر کے اندر چمگاڈروں کا بسیرا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے لوگوں کو متنبہ کرنے کو جو بورڈ لگا رکھا ہے وہ خود زمین بوس ہو رہا ہے اور اُس پر سے تنبیہ تحریر مٹ چکی ہے تو مندر کی حفاظت کا امکان ہی نظر نہیں آتا۔ زیر میں مندر کی چند تصاویر آپ کے دیکھنے کو دی جا رہی ہیں اندازہ لگائے کیسا اثاثہ تباہ ہو رہاہے کیسی تاریخی عمارت تاریک ہو رہے ہے۔