ّ بے طقی باتیں بے طقے کام

اللہ جانے کون بشر ہے؟

بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔

فیس بک کا like بٹن

like کا مطلب ہے پسند! یعنی کچھ اچھا لگے تو آپ اُسے پسند کر لیں! ہم تو یہ ہی سمجھے ہیں! کتاب چہرہ میں ہر چہرہ کتابی نہیں اور نہ ہر بندہ! ہر بات و ہر خبر پسند نہیں آتی!
آج جب ہم حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ virtual زندگی کے بھی باسی ہو چکے  ہیں اور سوشل میڈیا کی قید میں یوں جکڑے جا چکے ہیں کہ اپنی ہر بات یا حرکت یا احساس و خبر اپنے سوشل میڈیا کی نیٹ ورک پر share کرتے ہیں ایسے میں اس سوشل میڈیا کا ایک بڑا کردار فیس بک یا کتاب چہرہ ہے۔
فیس بک والوں نے کسی کے اسٹیٹس پر تبصرہ کرنی کی سہولت کے ساتھ ساتھ اُسے پسند کرنے کو اپنے صارف کو like کرنے کی سہولت بھی دی ہے مگر dislike کرنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھا، آپ unlike کر سکتے ہیں مگر like کرنے کے بعد۔
کئی احباب اس سہولت کا بہت عجیب استعمال کرے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے کہ کسی افسوس ناک خبر یا اطلاع کو یار دوست کیوں like کرتے ہیں؟ یقین جانے دل کو ایک ضرب سی لگتی ہے اس عمل سے۔

پرکھ

کئی تجربے بہت عجیب ہوتے ہیں اتنے کہ بیان سے باہر، کچھ عرصہ پہلے تک ہم یہ ہی سمجھتے تھے کہ کسی آدمی کی تعریف اُس کی شرافت و نیک سیرت شخصیت ہی کے بناء پے کی جاتی ہے اس کے باوجود کہ ہم نے یہ معقولہ ایک مخصوص کلاس کی نمائندے سے سن رکھا تھا کہ “یاری یا تو کلاس (طبقے) کی ہوتی ہے یا گلاس (شراب کے جام )کی باقی سب تو مجبوریاں ہوتی ہیں”۔
گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی محفل میں جہاں “لبرل کلاس” کے نمائندے موجود تھے اور ہم بھی اپنی تمام تر منافقت کو سمیٹے بیٹھے تھے تو حاضرین محفل اپنے طور پر مختلف ممکنہ امیدواروں میں سے ایک کام کے بندے کے چناؤ میں مصروف تھے۔ تب اہل محفل نے ایک نے موزوں فرد کی خوبیاں کچھ ان الفاظ میں بیان کی:-
“میرا ووٹ تو 'فلاں' کے حق میں ہے آزاد منش ہے، باہر سے تعلیم لے کر آیا ہے، کھاتی پیتی فیملی کا ہے، دقیانوس خیالات سے پاک ہے، کلب جاتا ہے، Saturday Night کی محفلوں میں بھی ریگولر ہے، لوکل برانڈ کی وسکی کو ہاتھ نہیں لگاتا اپنے “فلاں نمبر 2” کی طرح نہیں کہ دیسی برانڈی پر دوستوں کو ٹرخا دے، اُس کی محفل میں شباب کا بھی بھرپور انتظام ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے خاندان میں کوئی بھی مولوی ٹائپ کا بندہ نہیں کہ ڈر ہو وہ بھی پٹری سے اُتر کر مولوی ہو جائے”

نشان زدہ

جی جناب عمار کے کھیل میں ہماری شمولیت کی وجہ محترمہ عنیقہ ناز اور محترمہ شاہدہ اکرام کی طرف سے نشان زدہ کرنا تھا۔ افسوس اردو بلاگرز کی اقلیت یعنی خواتین بلاگرز نے تو ہمیں اس کھیل میں شامل کیا مگر کسی مرد بلاگر کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ خیر اب حسب روایت سوالات کے جوابات عرض ہیں۔

سوال نمبر 1- ۲۰۱۲ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
وہ سب کچھ جو گزشتہ سال کرنا چاہتا تھا مگر کچھ حالات و واقعات و مجبوریوں کی بناء پر نہیں کرسکا۔
سوال نمبر 2- ۲۰۱۲ میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
ایسا کچھ نہیں جس کا انتظار ہو مگر یہ دعا ضرور ہی کچھ بُرا نہ ہو۔
سوال نمبر 3- ۲۰۱۱ میں کوئی کامیابی ؟
زندگی آگے بڑھ رہی ہے اور جہاں چند خواہشات حسرت کا روپ دھار لیتی ہیں وہاں ہی کئی خواہشات و تمنائیں پوری ہو جاتی ہیں مگر گزشتہ برس ایسی کو کئی کامیابیاں تھی جن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں مگر یہاں بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 4- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ناکامی ؟
جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے اور جو اچھے کے لئے ہو وہ ناکامی نہیں ہوتی۔
سوال نمبر 5- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ایسی بات جو بہت دلچسپ اور یادگار ہو؟
ناقابل بیاں
سوال نمبر 6- سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
ایک لفظ میں!!! بُرا۔ سال کا آغاز اچھا نہیں رہا پہلے ماہ کے پہلے عشرے میں اوپر نیچے دو تین بُرے واقعات و حادثات سے دوچار ہونا پڑا!
سوال نمبر 7- کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہیں؟
“اللہ کی رضا میں راضی ہونا”


تو جی جناب اب ہم کس کس کو اس کھیل میں شامل کریں؟؟ چلیں جناب بلال میاں،محترم شاکر عزیز، محترم عمیر ملک،محترم فہد میاں، عدنان مسعود اور راشد کامران!!!! بات روایت کی ہے اردو بلاگرز کی روایت۔

انٹرویو !!!

کم بخت جتنے فائنل انٹرویو ہم نے نوکری کے لئے دیئے سب میں فیل ہوئے!! اول اول ہم فوجیوں کے ہاتھ لگے ہوا یوں کہ پی ایف کالج میں پاکستان فضائیہ والوں کی ٹیم آئی انہوں نے فضائی فوج سے متعلق ایک معلوماتی لیکچر دیا پھر طالب علموں کو پاک فورس کی طرف راغب کرنے کو پریزینٹیشن دی اور بعد میں چند ایک کا ٹیسٹ لیا! نتیجہ چند ایک طالب علموں کو بتایا آپ بارہ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد کس پوسٹ کے لئے قسمت آزمائی کرنا!! ہمیں کہا کہ Aeronautical engineer کے لئے جانا!! ہم گئے ISSB کے بعد ہمیں منہ ہی نہیں لگایا!! وجہ ذومعنی سوچ!!!
پھر جب کریجویشن میں تھے پی آئی اے میں flight steward کے لئے اپلائی کیا تو فائنل انٹرویو میں دیسی لہجے میں ولایتی زبان بولنے اور رنگ سانولا ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی چونی اٹھوا دی!!!
جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو پولیس میں ASI کی نوکری کے لئے اپلائی کیا!! وہاں بھی فائنل انٹرویو میں کامیابی نہ مل سکی!!
آج کل سرکاری وکیل کے لئے انٹرویو دیا ہوا ہے امید ہے سابقہ ریکارڈ نہیں توڑ پاؤں گا!! اس کے علاوہ ایک اور بار جج کے لئے اپلائی کیا تھا مگر تحریری امتحان میں ہی فیل ہو گیا!!! اب تک یہ پانچ جگہیں ہی ایسی ہے جہاں ہم نوکر ہونے گئے مگر ناکام رہے اوریوں تین میں انٹرویو میں اور ایک بار تحریری امتحان میں نامراد لوئے!!! ایک کا ابھی انتظار ہے!!! اس کے علاوہ ہم نے جب بھی انٹرویو دیا کامیاب ہوئے!!دو تین مرتبہ انٹرویو میں کامیاب ہونے کے باوجود اس لئے نوکری جو تنخواہ وہ دے رہے تھے وہ کم تھی یا جانے والوں کی طرف سے ہمیں یہ باور کروایا کہ اس انٹرویوں میں کامیابی اُن کے مرہون منت ہوئی ہے۔
میز کے اُس طرف انٹرویو دینے کے ایسے تجربے سے ہم اب تک گھبراتے ہیں!!! مگر گزشتہ دنوں ہم میز کی دوسری طرف جا بیٹھے یعنی انٹرویو لینے والوں میں!!! وہ بھی صنف نازک یعنی خواتین کا!! جو ایک الگ کی تجربہ تھا!!!تین ناکام انٹرویوز میں فیل ہونے کے بعد انٹرویو کرنے کا تجربہ درحقیقت نہایت انوکھا تھا!! انٹرویو والے پینل میں شامل دیگر دونوں احباب ہمارے استاد تھا!!ایک سابقہ وفاقی وزیر قانون پروفیسر شاہدہ جمیل اور دوسرے سابقہ جنرل سکرٹیری کراچی بار ایسوسی ایشن و موجودہ ممبر سندھ بار کونسل محترم ندیم قریشی (میں نے اپنی وکالت کا آغاز ان ہی کے چیمبر سے کیا تھا) اُن کے ساتھ یوں بیٹھنا جہاں ایک اعزاز تھا وہاں اُن کے تجربوں سے مجھے اپنی کی گئی تمام غلطیوں کا ادراک بھی ہوا!
باقی لوگوں کو پرکھنا جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہے نہیں امتحان لینے والا انتخاب کے وقت خود ایک امتحان میں ہوتا ہے، بہت مشکل ہے یہ امتحان جب ایسے افراد بھی آپ کو پرکھنے ہو جو کہ آپ کے جاننے والوں میں شامل ہوں! تعلق بد دیانتی و نا انصافی کی طرف مائل کرتی ہے تب دراصل دوسروں کو پرکھنے کے بجائے منصف خود کو پرکھنے لگتا ہے !!! یہ بات تجربے سے معلوم ہوئے!! اور اپنی نظروں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انصاف ہو۔