یہ ایک سوالیہ پوسٹ ہے۔ سوال یہ کہ حکومت سندھ نے کل جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان قربان، میری اس بات کو کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے جو میں پوچھنے جا رہا ہوں۔ کیا جبکہ ہفتہ 12 ربیع الاول کو وفاقی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہوا تھا تو صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ کیسا ہے 11 ربیع الاول کو بھی چھٹی کا؟
ذاتی طور پر مجھے تو یہ بہتر معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اتنی چھٹیوں کے متہمل نہیں ہو سکتے ہم نے کچھ بلا ضرورت چھٹیاں اپنے سالانہ کیلنڈر میں بلاوجہ شامل کر لی ہیں آپ کچھ کہیں گے یا خاموش رہیں گے؟
میری زبان، ہمارا مستقبل
تحریر: اوریا مقبول جان
معاشرہ اور ۔۔۔۔۔۔۔
Shoiab Safdar Ghumman
اسلام
اسلحہ
امریکہ
آزاد عدلیہ
آئین پاکستان
بلوچستان
تعلیم
حکمران
دہشت گرد
طالبان
ویڈیو
پورے پانچ سال
میرے علم میں تو تھا مگر ذہن میں نہیں تھا مگر تین مبارک باد کے ایس ایم ایس آئے تو خوشی بھی ہوئی اور اچھا بھی لگا۔ مبارک باد کسے اچھی نہیں لگتی۔ آغاز میں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ ایک نشے کی ماند میں اس کا شکار ہو جاؤں گا یہاں تک ہوا کہ اب اس سے جان چُھڑاناممکن نظر نہیں آتا، اور پانچ مستقل سال،جیسے کل کی بات ہوں۔اُ س وقت جب ہم نے شروعات کی تو ہم طالب علم تھے ویلے مصروف کوئی کام نہیں تھاسوائے کالج جانے و آنے ۔ اور اب تو وکیل ہیں مصروف ویلا۔
بہر حال آج پانچ سال کا ہو گیا ہے ہمارا بلاگ، ہمیں یاد ہے کہ پہلا تبصرہ ہمارے بلاگ پر دانیال کا تھا وہ بندہ اب نیٹ کی دنیا سے غائب میرا کہنا ہے بندہ غائب نہیں ہوا یہ نام غائب ہوا ہے، خود مجھے آصف نامی بلاگر کا بلاگ اولین پسند آیا تھا، خود اپنی یہ اولین پوسٹ لکھی تھی (یجس میں سےاب تصویر غائب ہو گئی ہے)اور پہلی پوسٹ یہ تھی (ایک نظم)۔
بہر حال آج پانچ سال کا ہو گیا ہے ہمارا بلاگ، ہمیں یاد ہے کہ پہلا تبصرہ ہمارے بلاگ پر دانیال کا تھا وہ بندہ اب نیٹ کی دنیا سے غائب میرا کہنا ہے بندہ غائب نہیں ہوا یہ نام غائب ہوا ہے، خود مجھے آصف نامی بلاگر کا بلاگ اولین پسند آیا تھا، خود اپنی یہ اولین پوسٹ لکھی تھی (یجس میں سےاب تصویر غائب ہو گئی ہے)اور پہلی پوسٹ یہ تھی (ایک نظم)۔
یہ بھی مغرب کی سازش ہے؟
کر لو گل آج کے اخبارات میں یوم محبت منائے جانے کی خبروں کے ساتھ اس کی مخالفت میں بھی بے تحاشہ بیان آئے ہیں ایک پارٹی نے تو یوم محبت کو یوم حیا کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا ہے بقول اُن کے یہ دل کا نہیں دین کا معاملہ ہے۔
نوجوان شادی شدہ جوڑے بہتر ہو گا احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ نکاح نامہ رکھ لیں نہیں تو امکان ہے کہ یوم حیا والے اپنے آج کے "منشور" پر عمل کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر لیں ، لہذا نکاح نامے یا نکاحی رشتہ کے غیر موجودگی میں "کزن ہے کزن ہے" کی رٹا لگانے کی مشق کر لیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ خالی خودپُرلیں اندازہ تو ہو گا آپ کو، اس کے علاوہ جیب میں چند پیسے پارک کے چوکیدار و ریسٹورنٹ کے ویٹرکے علاوہ قانون کے "محافظوں" کے لئے بھی رکھ لیں کہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک تو یہ دن آیا بھی چھٹی والے دن ہے یار لوگوں کے لئے تو مسئلہ نہیں مگر "قوموں کی عزت جن سے ہے" اُن کے لئے کارگر بہانے کی تلاش دشوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن عاشقین نے کوئی دس دن پہلے ہی ممکنہ بہانوں کی ایک فہرست بذریعہ ایس ایم ایس انجمن کے اراکین و ہمدردوں تک پہنچا دی تھی۔
اب آتے ہیں سنجیدہ بات کی طرف ہم بعض مرتبہ ضرورت سے زیادہ رد عمل دیکھاتے ہیں یا یوں کہہ لیں درست طریقے سے ردعمل نہیں کرتے بات کو لوجیکل طریقے سے کرنے بجائے جذباتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ہر معاملہ کو بلاوجہ مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یہ بات سمجھ سے قاصر ہے کہ وہ اپنے تہواروں کو کسی بھی سازش کے تحت کیوں کر متعارف کروائے گے؟، بے شک محبت ایک اچھا جذبہ ہے مگر یہ انداز محبت ہمارا نہیں یہ بات ہمیں سمجھنے و سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں میں نہ نہ کرتے ساٹھ فیصد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی "بھول" کو نکاح کا شیڈ دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو احتیاط کرنا تو چاہئے ہی کیونکہ کم عمر بچے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے بعد اس طرح کے سوالات کے ساتھ وارد ہوتے ہیں کہ جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نا پختہ ذہن صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہی اور برائی میں بہت کشش ہے۔
اگر ہمارا معاشرہ جس میں کسی دور میں میاں بیوی خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں ایک چارپائی پر بیٹھنے تک سےاحتیاط کرتے تھے اور نوبیہاتے جوڑے آپسی گفتگو سے، اور بزرگ آج بھی ان باتوں کو بتاتے ہوئے خوبیوں میں گنتے ہیں، اگر آج اُس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں نوجوان لڑکی لڑکے تعلق کو جائز سمجھنےکی روایت پڑ چکی ہے تو آپ ایسے دنوں کو نہ منانے کا کوئی جواز پیش کر دیں رد سمجھا جائے گا جو اپنی ثقافت و روایات اور دینی معاملات کوجان کر بھی ایسے دنوں کے حامی ہیں وہ کسی دلیل سے ماننے والے نہیں۔ ہاں آپ اُن کی نظر میں قدامت پسند، تنگ نظر،مذہبی اور جاہل وغیرہ ضرور مانے جائے گے۔
ایک سوال آخر یوم محبت پر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یار لوگ ٹھیک نو ماہ بعد بچوں کا دن مناتے ہیں؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
نوجوان شادی شدہ جوڑے بہتر ہو گا احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ نکاح نامہ رکھ لیں نہیں تو امکان ہے کہ یوم حیا والے اپنے آج کے "منشور" پر عمل کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر لیں ، لہذا نکاح نامے یا نکاحی رشتہ کے غیر موجودگی میں "کزن ہے کزن ہے" کی رٹا لگانے کی مشق کر لیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ خالی خودپُرلیں اندازہ تو ہو گا آپ کو، اس کے علاوہ جیب میں چند پیسے پارک کے چوکیدار و ریسٹورنٹ کے ویٹرکے علاوہ قانون کے "محافظوں" کے لئے بھی رکھ لیں کہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک تو یہ دن آیا بھی چھٹی والے دن ہے یار لوگوں کے لئے تو مسئلہ نہیں مگر "قوموں کی عزت جن سے ہے" اُن کے لئے کارگر بہانے کی تلاش دشوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن عاشقین نے کوئی دس دن پہلے ہی ممکنہ بہانوں کی ایک فہرست بذریعہ ایس ایم ایس انجمن کے اراکین و ہمدردوں تک پہنچا دی تھی۔
اب آتے ہیں سنجیدہ بات کی طرف ہم بعض مرتبہ ضرورت سے زیادہ رد عمل دیکھاتے ہیں یا یوں کہہ لیں درست طریقے سے ردعمل نہیں کرتے بات کو لوجیکل طریقے سے کرنے بجائے جذباتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ہر معاملہ کو بلاوجہ مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یہ بات سمجھ سے قاصر ہے کہ وہ اپنے تہواروں کو کسی بھی سازش کے تحت کیوں کر متعارف کروائے گے؟، بے شک محبت ایک اچھا جذبہ ہے مگر یہ انداز محبت ہمارا نہیں یہ بات ہمیں سمجھنے و سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں میں نہ نہ کرتے ساٹھ فیصد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی "بھول" کو نکاح کا شیڈ دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو احتیاط کرنا تو چاہئے ہی کیونکہ کم عمر بچے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے بعد اس طرح کے سوالات کے ساتھ وارد ہوتے ہیں کہ جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نا پختہ ذہن صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہی اور برائی میں بہت کشش ہے۔
اگر ہمارا معاشرہ جس میں کسی دور میں میاں بیوی خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں ایک چارپائی پر بیٹھنے تک سےاحتیاط کرتے تھے اور نوبیہاتے جوڑے آپسی گفتگو سے، اور بزرگ آج بھی ان باتوں کو بتاتے ہوئے خوبیوں میں گنتے ہیں، اگر آج اُس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں نوجوان لڑکی لڑکے تعلق کو جائز سمجھنےکی روایت پڑ چکی ہے تو آپ ایسے دنوں کو نہ منانے کا کوئی جواز پیش کر دیں رد سمجھا جائے گا جو اپنی ثقافت و روایات اور دینی معاملات کوجان کر بھی ایسے دنوں کے حامی ہیں وہ کسی دلیل سے ماننے والے نہیں۔ ہاں آپ اُن کی نظر میں قدامت پسند، تنگ نظر،مذہبی اور جاہل وغیرہ ضرور مانے جائے گے۔
ایک سوال آخر یوم محبت پر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یار لوگ ٹھیک نو ماہ بعد بچوں کا دن مناتے ہیں؟
یوٹیوب کی واپسی
جی نہیں یو ٹیوب کہیں نہیں گئی تھی بس پاکستان میں آج بروز اتوار شام چھ بجے سے دس بجے تک بند تھی اب دوبارہ کھول دی گئی ہے مگر اپنے صدر صاحب کی ایک دیڈیو تک رسائی روکنے کے بعد کیا۔ جی وہ ہی والی
“جمہوریت بکواس بند کرو” دیکھنے کی کوشش کریں گے تو لکھا ہو گا This Site is Restricted۔
ویسے میں اسے جائز سمجھتا ہوں۔ آپس کی بات ہے لیکن احتیاط ضروری ہے اس سے قبل صدر کے خلاف ایس ایم ایس پر مقدمہ رجسٹر ہو چکا ہے۔
امریکی میڈیا اور عافیہ کیس
ابراہیم ساجد ملک کے بلاگ سے ہمیں فہد یعنی ابو شامل نے آگاہ کیا تھا، بمعہ اس بندے کی میڈیا سے تعلق کی تاریخ کے رشتے سے۔ عافیہ صدیقی کیس میں امریکی میڈیا کے تعصبی کردار پر اپنی اس پوسٹ میں انہوں نے نہایت عمدہ روشنی ڈالی ہے ایک نظر دیکھ لیں۔
منصف امریکن اور انصاف
سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنا دی گئی ہے ہے اُسے امریکی میرین پر
قاقلانہ حملہ کرنے کے جرم میںسزا سنائی گئی اس کے علاوہ دیگر چھ جرائم
میں بھی مجرم تھرایا گیا ہے۔
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میںہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میںنومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میںانہوںنے وعویٰکیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوںکی قید میں ہے جبکہ زار کے افشاء ہونے پر امریکیوںنے 17 جولائی 2008 کی تاریخکو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میںیہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوںگے خاصکر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں یا وہ بھی نہیں؟
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میںہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میںنومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میںانہوںنے وعویٰکیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوںکی قید میں ہے جبکہ زار کے افشاء ہونے پر امریکیوںنے 17 جولائی 2008 کی تاریخکو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میںیہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوںگے خاصکر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں یا وہ بھی نہیں؟
بلاگنگ کی بناء پر۔۔۔۔۔
نوٹ ؛ یہ پوسٹ بقول م م مغل صاحب کے انجمن باہمی خود ستائشی کے تحت لکھی گئی ہے۔۔۔
وہ میرا محلے دار و دوست ہے اور ایک اتوارکو وہ میرے گھر کے دروازے پر موجود تھا، پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک ویب ڈیزائنر ہے اور xpiderz کے نام سے اُس نے اپنا کام شروع کررکھا ہے، جس وقت وہ میرے گھر آیا وہ ایک بہترین وقت تھا مجھے اپنے گھر میں پکڑنے کا یعنی قریب ۱۲ بجے دوپہر ورنہ میں ایک بجے کے بعد عام طور پر اپنے آفس چلا جاتا ہو چھٹی کے دن کہ کیسوں کی ڈرافٹنگ کا کام اس دن ہی بہتر طور پرممکن ہوتا ہے ۔
اُس نے مجھ سے ملنے و سلام دعا کے بعد جو پہلی بات پوچھی وہ یہ تھی کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اٹلی میں ہوتا ہے؟ میں نے کندھے اچکا کر صاف انکار کر دیا۔ تو اُس نے کہانی سنانا شروع کی؛
” بھائی میرے ایک دوست ہیں اسلام آباد میں انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اُن کے دوست کا دوست ایک ویب سائیٹ بنوانا چاہتا ہے لہذا میں نے انہیں اپنا رابطہ نمبر دیا یوں ہوتے ہوتے جس نے ویب سائیٹ بنوانی تھی اُن سے رابطہ ہوا چیٹ کے دوران جب ویب سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا تو نہوں نے کہا کہ میں اردو یونیکوڈ میں ویب سائیٹ چاہو گا میں نے اُس لمحے آپ کے بلاگ کے حوالہ دیا اور کہا کہ ایک ہمارے دوست کا اردو بلاگ ہے یونیکوڈ میں تو انہوں نے ربط مانگا لہذا میں نے آپ کے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔
میں نے کہا ”تو اُسے کیا کہنا ہے؟ یہ کہ یہ بلاگ کا ٹمپلیٹ آپ نے بنایا ہے؟ کہہ دوں گا۔“
”نہیں نہیں میں یہ تو نہیں کہہ رہا، نہ میں نے اُن سے کوئی ایسا جھوٹ نہیں کہا ہے، میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں وہ آپ کو آپ کے بلاگ کے حوالے سے جانتے تھے۔“
ہمارا رد عمل حیرانگی والا تھا۔
اُس نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ” وہ اٹلی میں امیگریشن کا کام کرتے ہیں کہہ رہے تھے وہ آپ کے بلاگ کو پڑھ لیتے ہیں۔“
تو ہمیں فورا یاد آیا جناب راجہ افتخار کا نام اور ہم نےجب ان کا نام بتایا تو اُس نے تصدیق کی کہ یہ ہی ہیں ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو بلاگ کی وجہ سے کسی محلے والے تک ہماری پہچان پہنچی۔
اس سے قبل بھی ایک بار اس بلاگ کی وجہ سے ہماری تعریف ہوئی تھی۔ ہوا یوں جس دن کراچی میں حکومت سندھ کی طرف سے بلاگر ز کانفرنس تھی اُس ہی دن ہماری نوجوان وکلاء کی تنظیم(ہم آُس کے عہدے دار ہیں) کے زیراہتمام ایک لیکچر پروگرام تھا جو کہ سابق وزیر قانون محترمہ شاہدہ جمیل نے دیا، اس لیکچر کا اختتامی کا وقت ہم نے وہ رکھوایا جو بلاگرز میٹ اپ کے آغاز کا وقت تھا ، لیکچر کے اختتام پر بات چیت کا رُخ اُس وقت ہونے والے حکومت اور صوفی محمد کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی طرف ہو گیا ، میڈم اُس کے حق میں نہیں تھیں اور سلسلے میں انہوں نے جہاں چند قانونی حوالے دیئے وہاں ہی اپنی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے چند نیٹ سے کاپی کی ہوئی تحریروں کا بھی ذکر کیا ، پروجیکٹر پر تحریروں کے ربط دیکھ و پہچان کر ہم نے سوال کیا کہ آپ بلاگ پڑھتی ہیں؟ انہوں نے مثبت جواب دیا تو ہم نے پوچھا کہ پاکستانی تو کہا چند ایک۔ جس پر ہم نے انہوں بتایا کہ آج بلاگر کانفرنس ہے کراچی میں جس میں ہم بھی شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے ہم نے انہیں اپنے بلاگ کا ایڈریس دیا۔
چونکہ ہم اُن سے اختلاف رکھتے تھے اُس امن معاہدہ پر لہذا ہم نے اُس پر یہ پوسٹ تحریر کی جسے انہوں نے پڑھ لیا تھا۔ اُن کا اگلا لیکچر ہم نے اپنے سینئر کے آفس میں رکھا جہاں پر انہوں نے پہلے دوران لیکچر اور بعد میں جاتے جاتے انہوں نےہمارے سینئر سے ہمارےاور بلاگ کے بارے میں چند سنائشی کلمات کہے اس لیول کی ملکی شخصیت کی طرف سے یوں تعریف میرے لئے ایک اعزاز ہے۔
یوں چند دیگر باتوں کے علاوہ ایک یہ بات بھی میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں بلاگر ہوں اور خاص کر اردو بلاگر اور میں اس پر وہ لکھتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں جبکہ اس سے برخلاف بعض اوقات عام زندگی میں کسی نا کسی شکل میں منافقت سے کام لینا پڑتا ہے مگر بلاگنگ سے اب منافقت سے جان چھڑانے میں کافی آسانی ہو گئی ہے دوئم لکھنے سے پہلے پڑھنے اور کسی خبر کی تصدیق و تردید کی جستجو سے بات کا ایک درست رُخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے جس سے اپنے سے بڑوں کی محفل میں بیٹھ کر جب حوالہ سے بات کرتے ہیں تو جواب میں اُن بزرگوں کی طرف سے ملنے والی عزت ایک الگ سرمایہ ہے۔
آخر میں یہ چند اردو بلاگر جو بلاگرز ایواڈ میں شامل ہیں کے لنک ذیل میں ہیں انہیں اپنی اپنی پسند کے مطابق ووٹ ڈال دیں۔
ابن ضیاء
ابو شامل
ادبستان
حال دل
صلہ عمر
فرحان دانش (یار اسے تو دے ہی دینا اس نے بہت ووٹ مانگا ہے)
محمد وارث
کامی
یاسر عمران مرزا
اور ہاں میرا بلاگ بھی
جن دوستوں کے نام درج نہیں ہیں وہ تبصرہ میں آگاہ کر دیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے نام اس مقابلے میں نہیں ڈالے اُن کے پاس وہ اپنا اندراج کروا لیں ایک بار پہلے بھی گزارش کی تھی وجہ سادہ ہے کہ مقابلہ نہ بھی جیتیں مگر انہیں نئے بلاگ ریڈر مل سکتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں کچھ نئے ملیں ہیں نیز یہ کہ تمام دوست اپنا بلاگ بہترین اردو بلاگر کے ذمرے میں لے آئیں تو اچھا اور ایک ای میل پر وہ اچھا رسپانس دیں گے تجربہ ہے مجھے ۔
اچھا کیا آپ کا بلاگ آپ کی پہچان بنا یوں؟ یوں تو ہم میں سے کئی ایک دوسرے کو بلاگنگ کی وجہ سے جانتے ہیں ورنہ کیا ہم یوں آشنا ہوتے کیا؟ ابوشامل آپ اپنا قصہ تو تبصرہ میں لکھے گے ناں۔۔۔۔
اور ہاں یار بلاگ لکھنا آسان ہے مگر کالم لکھنا مشکل ایک شریف آدمی نے کہا ہے لکھنے کو کہ ہفتے میں ایک کالم لکھو مگر یقن جانیں ہفتہ تو ایک طرف پچھلے دس دنوں میں کچھ لکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔ ہم بلاگر ہی ٹھیک ہیں۔۔۔
وہ میرا محلے دار و دوست ہے اور ایک اتوارکو وہ میرے گھر کے دروازے پر موجود تھا، پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک ویب ڈیزائنر ہے اور xpiderz کے نام سے اُس نے اپنا کام شروع کررکھا ہے، جس وقت وہ میرے گھر آیا وہ ایک بہترین وقت تھا مجھے اپنے گھر میں پکڑنے کا یعنی قریب ۱۲ بجے دوپہر ورنہ میں ایک بجے کے بعد عام طور پر اپنے آفس چلا جاتا ہو چھٹی کے دن کہ کیسوں کی ڈرافٹنگ کا کام اس دن ہی بہتر طور پرممکن ہوتا ہے ۔
اُس نے مجھ سے ملنے و سلام دعا کے بعد جو پہلی بات پوچھی وہ یہ تھی کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اٹلی میں ہوتا ہے؟ میں نے کندھے اچکا کر صاف انکار کر دیا۔ تو اُس نے کہانی سنانا شروع کی؛
” بھائی میرے ایک دوست ہیں اسلام آباد میں انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اُن کے دوست کا دوست ایک ویب سائیٹ بنوانا چاہتا ہے لہذا میں نے انہیں اپنا رابطہ نمبر دیا یوں ہوتے ہوتے جس نے ویب سائیٹ بنوانی تھی اُن سے رابطہ ہوا چیٹ کے دوران جب ویب سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا تو نہوں نے کہا کہ میں اردو یونیکوڈ میں ویب سائیٹ چاہو گا میں نے اُس لمحے آپ کے بلاگ کے حوالہ دیا اور کہا کہ ایک ہمارے دوست کا اردو بلاگ ہے یونیکوڈ میں تو انہوں نے ربط مانگا لہذا میں نے آپ کے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔
میں نے کہا ”تو اُسے کیا کہنا ہے؟ یہ کہ یہ بلاگ کا ٹمپلیٹ آپ نے بنایا ہے؟ کہہ دوں گا۔“
”نہیں نہیں میں یہ تو نہیں کہہ رہا، نہ میں نے اُن سے کوئی ایسا جھوٹ نہیں کہا ہے، میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں وہ آپ کو آپ کے بلاگ کے حوالے سے جانتے تھے۔“
ہمارا رد عمل حیرانگی والا تھا۔
اُس نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ” وہ اٹلی میں امیگریشن کا کام کرتے ہیں کہہ رہے تھے وہ آپ کے بلاگ کو پڑھ لیتے ہیں۔“
تو ہمیں فورا یاد آیا جناب راجہ افتخار کا نام اور ہم نےجب ان کا نام بتایا تو اُس نے تصدیق کی کہ یہ ہی ہیں ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو بلاگ کی وجہ سے کسی محلے والے تک ہماری پہچان پہنچی۔
اس سے قبل بھی ایک بار اس بلاگ کی وجہ سے ہماری تعریف ہوئی تھی۔ ہوا یوں جس دن کراچی میں حکومت سندھ کی طرف سے بلاگر ز کانفرنس تھی اُس ہی دن ہماری نوجوان وکلاء کی تنظیم(ہم آُس کے عہدے دار ہیں) کے زیراہتمام ایک لیکچر پروگرام تھا جو کہ سابق وزیر قانون محترمہ شاہدہ جمیل نے دیا، اس لیکچر کا اختتامی کا وقت ہم نے وہ رکھوایا جو بلاگرز میٹ اپ کے آغاز کا وقت تھا ، لیکچر کے اختتام پر بات چیت کا رُخ اُس وقت ہونے والے حکومت اور صوفی محمد کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی طرف ہو گیا ، میڈم اُس کے حق میں نہیں تھیں اور سلسلے میں انہوں نے جہاں چند قانونی حوالے دیئے وہاں ہی اپنی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے چند نیٹ سے کاپی کی ہوئی تحریروں کا بھی ذکر کیا ، پروجیکٹر پر تحریروں کے ربط دیکھ و پہچان کر ہم نے سوال کیا کہ آپ بلاگ پڑھتی ہیں؟ انہوں نے مثبت جواب دیا تو ہم نے پوچھا کہ پاکستانی تو کہا چند ایک۔ جس پر ہم نے انہوں بتایا کہ آج بلاگر کانفرنس ہے کراچی میں جس میں ہم بھی شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے ہم نے انہیں اپنے بلاگ کا ایڈریس دیا۔
چونکہ ہم اُن سے اختلاف رکھتے تھے اُس امن معاہدہ پر لہذا ہم نے اُس پر یہ پوسٹ تحریر کی جسے انہوں نے پڑھ لیا تھا۔ اُن کا اگلا لیکچر ہم نے اپنے سینئر کے آفس میں رکھا جہاں پر انہوں نے پہلے دوران لیکچر اور بعد میں جاتے جاتے انہوں نےہمارے سینئر سے ہمارےاور بلاگ کے بارے میں چند سنائشی کلمات کہے اس لیول کی ملکی شخصیت کی طرف سے یوں تعریف میرے لئے ایک اعزاز ہے۔
یوں چند دیگر باتوں کے علاوہ ایک یہ بات بھی میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں بلاگر ہوں اور خاص کر اردو بلاگر اور میں اس پر وہ لکھتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں جبکہ اس سے برخلاف بعض اوقات عام زندگی میں کسی نا کسی شکل میں منافقت سے کام لینا پڑتا ہے مگر بلاگنگ سے اب منافقت سے جان چھڑانے میں کافی آسانی ہو گئی ہے دوئم لکھنے سے پہلے پڑھنے اور کسی خبر کی تصدیق و تردید کی جستجو سے بات کا ایک درست رُخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے جس سے اپنے سے بڑوں کی محفل میں بیٹھ کر جب حوالہ سے بات کرتے ہیں تو جواب میں اُن بزرگوں کی طرف سے ملنے والی عزت ایک الگ سرمایہ ہے۔
آخر میں یہ چند اردو بلاگر جو بلاگرز ایواڈ میں شامل ہیں کے لنک ذیل میں ہیں انہیں اپنی اپنی پسند کے مطابق ووٹ ڈال دیں۔
ابن ضیاء
ابو شامل
ادبستان
حال دل
صلہ عمر
فرحان دانش (یار اسے تو دے ہی دینا اس نے بہت ووٹ مانگا ہے)
محمد وارث
کامی
یاسر عمران مرزا
اور ہاں میرا بلاگ بھی
جن دوستوں کے نام درج نہیں ہیں وہ تبصرہ میں آگاہ کر دیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے نام اس مقابلے میں نہیں ڈالے اُن کے پاس وہ اپنا اندراج کروا لیں ایک بار پہلے بھی گزارش کی تھی وجہ سادہ ہے کہ مقابلہ نہ بھی جیتیں مگر انہیں نئے بلاگ ریڈر مل سکتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں کچھ نئے ملیں ہیں نیز یہ کہ تمام دوست اپنا بلاگ بہترین اردو بلاگر کے ذمرے میں لے آئیں تو اچھا اور ایک ای میل پر وہ اچھا رسپانس دیں گے تجربہ ہے مجھے ۔
اچھا کیا آپ کا بلاگ آپ کی پہچان بنا یوں؟ یوں تو ہم میں سے کئی ایک دوسرے کو بلاگنگ کی وجہ سے جانتے ہیں ورنہ کیا ہم یوں آشنا ہوتے کیا؟ ابوشامل آپ اپنا قصہ تو تبصرہ میں لکھے گے ناں۔۔۔۔
اور ہاں یار بلاگ لکھنا آسان ہے مگر کالم لکھنا مشکل ایک شریف آدمی نے کہا ہے لکھنے کو کہ ہفتے میں ایک کالم لکھو مگر یقن جانیں ہفتہ تو ایک طرف پچھلے دس دنوں میں کچھ لکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔ ہم بلاگر ہی ٹھیک ہیں۔۔۔
جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟
ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات ہے جب سے زرداری صاحب کے پاس پارٹی کی قیادت آئی ہے تب سے اب ہماری فیملی میں صرف ایک بڑے تایا ابوہی پیپلزپارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے والد اکثر والدہ کی موجودگی میں اُنہیں چیڑانے کے لئے ممکن ہے ایک قصہ بھٹو کے حوالے سے سنایا کرتے تھے کہ جناب ایک مرتبہ بھٹو صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تقریر شروع کی ”میری ماوں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگو" ابھی تک اتنا ہی کہا تھا کہ ہاتھ مائیک سے ٹکرا گیا جو کہ شاٹ تھا لہذاکرنٹ لگا اور بھٹو صاحب کی زبان سے نکل گیا "تمہاری تو۔۔۔۔۔۔سنسر۔۔۔"
یہ ممکن ہے بلکہ ذیادہ امکان یہ ہے کہ گھڑا ہو لطیفہ ہو مگر ذیل میں ریکارڈ شدہ ہے۔
آخر یہ ہی ہونا تھا بھائی جمہوریت کے ساتھ
مکمل تحریر پڑھیں ←
ہمارے والد اکثر والدہ کی موجودگی میں اُنہیں چیڑانے کے لئے ممکن ہے ایک قصہ بھٹو کے حوالے سے سنایا کرتے تھے کہ جناب ایک مرتبہ بھٹو صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تقریر شروع کی ”میری ماوں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگو" ابھی تک اتنا ہی کہا تھا کہ ہاتھ مائیک سے ٹکرا گیا جو کہ شاٹ تھا لہذاکرنٹ لگا اور بھٹو صاحب کی زبان سے نکل گیا "تمہاری تو۔۔۔۔۔۔سنسر۔۔۔"
یہ ممکن ہے بلکہ ذیادہ امکان یہ ہے کہ گھڑا ہو لطیفہ ہو مگر ذیل میں ریکارڈ شدہ ہے۔
آخر یہ ہی ہونا تھا بھائی جمہوریت کے ساتھ