یہ مردود کیوں؟؟؟ ہیرو!!!

ٹائم میگزین نے پچھلے دنوں گزرے ساٹھ سالوں کے ایشیائی ہیروز کی فہرست جاری کی !!! ٹھیک ہے مختلف میں چند پاکستانی نام جیسے “قائداعظم“ اور “نصرت فتح علی خان“ شامل ہیں!!! چند دیگر اہم شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو واقعی اہم ہے !!! اور غیر متنازعہ بھی مگر میرے جیسے ناسمجھ ، انتہا پسند، قدامت پسند اور بنیاد پرست آدمی کو “سلمان رشدی“ جیسے مردود کو اس فہرست میں دیکھ کر بہت افسوس ہوا اور غصہ بھی آیا!!! آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

حدودآرڈنینس کا مقدمہ

یہ ایک عدالت کا منظر ہے۔ حدود آرڈنینس عدالت کے کٹہرے میں موجود ہے۔ مطالبہ ہے کہ اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے۔ مدعی کی وکیل کچھ خواتین این جی اوز ہیں اور چند ریٹائیرڈ جج صاحبان بھی ان کی قانونی مشاورت کے لئے موجود ہیں۔ حدود آرڈنینس کی صفائی پیش کرنے کے لئے کچھ مذہبی جماعتوں کی خواتین وکلاء موجود ہیں۔ ان کی مشاورت کے لئے کچھ علماء اکرام موجود بھی ہیں۔ چشم تصور میں سارا منظر نگاہوں کے سامنے موجود ہے۔
جج صاحبان کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے پر تمام لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وکیل استغاثہ اپنے مقدمے کے حق میں دلائل کے لئے اُٹھتی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ قانون مارشل لاء کے دور میں نافذ ہوا ہے۔ اس کے اجرا سے قبل کسی قسم کا مباحثہ نہیں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جناب والا جب ملک میں پارلیمنٹ موجود نہ تھی۔ کسی اسمبلی یا سینٹ نے اس قانون پر غور نہیں کیا۔ وکیل صفائی نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر چودہ ماہ تک غوروخوص ہوا تھا اور بیرون ملک سے بھی ماہرین کو بلوایا گیا۔ اگر فوجی حکومت کے دور میں کسی قانون کا نفاذ اس کی منسوخی کی وجہ ہے تو ملک میں نصف عرصہ باوردی اداروں نے حکومت کی ہے۔ اس طرح تو 1958 کے بعد سے آدھے قوانین منسوخ کرنے پڑ جائیں گے جس میں ایوبی آمریت میں نافذ ہونے والا مسلم فیلمی لاء آرڈنینس بھی شامل ہے۔ اگر حکمرانوں کی غیر قانونی حکومت کسی قانون کی منسوخی کی وجہ بن رہی ہے تو انگریزوں سے بڑھ کر کس کی حکومت غیر قانونی ہو گی۔ سات سمندر پار سے حکومت کرنے والے گوروں کے تعزرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کو یہ عدالت کس گنتی میں شمار کرے گی؟
وکیل استغاثہ اپنے نئے دلائل پیش کریں۔ ایک جج صاحب نے حکم دیا۔ جناب والا! زنا آرڈنینس کے تحت عموما زنابالجبر کے مقدمات زنابالرضا میں بدل جاتے ہیں۔ آپ کیا کہتی ہیں۔ جج صاحب نے صفائی کی وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ جناب والا! جب کوئی مقدمہ پولیس کے روبرو پیش ہوتا ہے تو صورتحال واضح نہیں ہوتی کہ معامل جبر کا ہے یا رضامندی کا۔ حدودآردنینس میں زنا کو دفعہ 10 میں شامل کرکے اس لئے دو ذیلی دفعات میں علیحدہ علیحدہ پیش کیا گیا ہے۔ جب پسند کی شادی کرنے والا جوڑا گرفتار ہوجاتا ہے یا لڑکی کے ماں باپ لڑکے کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرواتے ہیں تو وہ اس صورت حال کو زبردستی کی شادی شکل میں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار سترہ اٹھارہ سالہ بالغ لڑکی کو 13/14 سال کی نابالغ بچی بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ جب پو لیس لڑکے اور لڑکی کا بیان لیتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دونون کا یہ عمل رضامندی کے ساتھ ہوا تھا۔ جناب والا! ایسے مقدمات قانونی رسالوں میں جابجا ملتے ہیں کے لڑکی نے لڑکے کے ساتھ ریل میں سفر کیا ہوٹل میں قوت گزارا، فیلمی دیکھیں اور تصویریں بھی کھنچوائیں لہذا حدود آردنینس اس بات کا تعین عدالت پر چھوڑتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ معاملہ زبردستی ہوا تھا یا رضامندی کے ساتھ۔
یہ خوتین کے ساتھ سراسر ذیادتی اور الزام تراشی ہے یہاں استغاثہ کی وکیل کا احتجاج بھی تھا اور صفائی کی وضاحت بھی۔ می لارڈ! میری فاضل دوست کا یہ مقدمہ اس بنیاد پر ہے کہ مرد ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور عورت ہمیشہ مظلوم، مرد ہمیشہ برا ہوتا ہے اور عورت ہمیشہ اچھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد بھی اچھا یا برا ہو بھی ہوسکتا ہے اور عورت بھی اچھی یا بری ہو سکتی ہے۔ وکیل صفائی تشریف رکھیں۔ استغاثہ مقدمے کو آگے بڑھائے۔ جناب والا!اگر کسی مرد کو ذیادتی کرتے ہوئے کچھ عورتیں دیکھیں تو مرد کو حد کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ وکیل صفائی بتانا پسند کریں گی کہ کیا ایسے مرد کو رہا کر دیا جائے جیسے لڑکیوں کے ہاسٹل میں ذیادتی کرتے صرف عوتوں نے دیکھا ہو؟ عدالت نے سوال اٹھایا۔ اس نقطے پر دو دلائل پیش کروں گی۔ پہلا یہ کہ حد لاگو نہ ہونے کی صورت میں تعزیر کا قانون موجود ہے۔ کسی ظالم مرد کو بری کرنے سے پہلے کسی بھی جج کو دس مرتبہ سوچنا پڑے گا۔ دوسری دلیل یہ کہ یہ بات صرف کہنے کی حد تک ہے۔ اگر چند عورتیں بھی جمع ہو جائیں تو ذیادتی کرنا تو بڑی بات ہے آوازیں کسنے والے مرد کے لئے ہڈیاں اور بال بچانا ممکن نہیں ہوتا یسا مرد نہ عورتوں کے ہاتھوں سے بچ سکتا ہے اور نہ کسی اسلامی عدالت کی سزا سے۔
وکیل استغاثہ نے حدود آرڈنینس کی دفعہ 8 کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کو حد کی سزا اس وقت سنائی جا سکتی ہے جب اسے چار عاقل، بالغ اور صاحب کردار مسلمانوں نے ذیادتی کرتے ہوئے دیکھا ہو۔ جو کبھی ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس اہم معاملہ پر آپ کیاکہتی ہیں۔ جج صاحب نے وکیل صفائی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ جناب والا! میری فاضل دوست دو باتوں کو ایک بار پھر نظر انداز کر رہی ہیں۔ ایک طرف تعزیر کو بالکل بھلا دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف واقعاتی شہادت اور جج کے کردار کو بھی نظرانداز کر دیتی ہیں۔ حدود آردنینس صرف قانون کی کتاب کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک عدالت بھی موجود ہوتی ہے جو حالات۔ واقعات اور شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔
زنا بالجبر کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں لہذا اسے زنا شمار نہیں کرنا چاہئے۔ یہ وکیل استغاثہ کی دلیل ہے یہ بالکل غلط ہے جناب والا! احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، تفاسیر صحابہ اور فقہ کے قوانین میں واضح طور پر زنابالجبر کے احکامات موجود ہیں اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عورت کے ساتھ ذیادتی کی گئی سزا مرد کو ملتی ہے عورت کو نہیں۔ وکیل استغاثہ نے نقطہ اٹھایا کہ مظلومہ عورت کی گواہی تسلیم نہیں کی جاتی۔ وکیل صفائی نے کہا جناب والا! مظلومہ عدالت کے روبرو مدعی بن کر آتی ہے وہ مرد پر الزام عائد کر رہی ہوتی ہے لہذا صرف اس کی گواہی کی بنیاد پر مرد کو اس وقت تک سزا نہیں دی جاسکتی جب تک حالات، واقعات اور دوسرے گواہ عورت کے حق میں بیان نہ دیں ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی فاحشہ عورت کسی شرف مرد پر الزام لگا کر اس کی زندگی تباہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
طلاق یافتہ عورت اگر دوسری شادی کرلے تو سابقہ شوہر اغواہ کا کیس بنا دیتا ہے۔ وہ کیسے؟ جج نے پوچھا۔ اگر عورت طلاق کا تصدیق نامہ یونین کونسل کے چیئرمین سے حاصل نہ کرے۔ کیا جواب ہے آپ کے پاس۔ جج صاحب نے وکیل صفائی سے پوچھا۔ جناب والا! یہ شرط تو مسلم لاء آرڈنینس لاگو کرتا ہے۔ اس خامی کو حدود آرڈنینس کے کھاتے میں ڈالنا ذیادتی ہے۔ مزید یہ کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے ایسی ذیادتی کو تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔
وکیل استغاثہ نے کہا جناب والا! میں آپ کی توجہ جسٹس ناصر اسلم زاہد کی رپورٹ کی طرف دلاؤں گی جو انہوں نے 1997ء میں ویمن کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جاری کی تھی وہ کہتے ہیں کہ حدود آرڈنینس کے نفاذ کے بعد کیسوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ جو خواتین جیلوں میں مختلف جرائم میں قید ہیں ان کی تعداد 40 فیصد ہے۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق 85 فیصد عورتیں حدودآردنینس کے سبب قید ہیں۔ وکیل صفائی نے تردید کرتے ہوئے کہا میرے پاس فیڈریل شریعت کورٹ کی تین سالہ رپورٹ ہے جو وکیل استغاثہ کے دعوٰی کی تردید کرتی ہے۔ انہوں نے جج صاحب کی طرف رپورٹ کی فوٹو کاپی بڑھاتے ہوئے کہا کہ قیدی عورتوں کی 14فیصد تعداد حدود کے مقدمات میں گرفتار ہے جبکہ 86فیصد عورتیں دیگر جرائم کے سبب قید ہیں۔ جناب والا! کہ ایسے مقدمات میں سزا پانے والے مرد 300 ہیں جبکہ عورتیں 50 ہیں۔ یہ ایک اور چھ کا تناسب ہے۔ جج صاحب نے کہا عدالت آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد فریقین کا تفصیلی موقف سنے گی۔
جج صاحبان عدالت میں آئے۔ حدود آرڈنینس کے مقدمات کی فائل ان کی جانب بڑھائی گئی۔ تفصیلی اور حتمی دلائل کے لئے استغاثہ اور صفائی کی خواتین وکلاء حاضر تھیں۔ استغاثے کی جانب سے خوتون وکیل نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھائے ہوئے کہا۔ جناب والا! صدیوں سے محروم و مظلوم خواتین کو رعایت دینے کے بجائے ان پر حدودآردنینس کی شکل میں ایک اور طلم کیا گیا ہے۔ مردوں کے معاشرے میں عورت کو امتیازی قانون کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ وہ 10 فروری 1979 کا المناک دن تھا جب اس قانون کو نا فذ کیا گیا- اس قانون کے تحت عورت کو سنگسار کرنے کی سزائیں بھی سنائی گئیں اور کوڑے مارنے کا احکامات بھی دیئے گئے۔ نابینا عورت صفیہ بی بی کے ساتھ بھی نچلی عدالت نے کوئی رعایت نہ کی۔ ملزمان کو شہادت نہ ہونے کے سبب رہا کردیا گیا اور آنکھوں کی نعمت سے محروم عورت رسوائی کی اندھی قبر میں دفن کردی گئی۔ اگر یہ اچھا قانون ہوتا اور معاشرے میں بہتری آتی تو مقدمات اور سزاؤں کی تعداد میں کمی ہونی چاہئے تھی۔ جناب والا! اس قانون کے نفاذ کے بعد زنا کے مقدمات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ معاشرہ ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مختلف حکومتوں کے نصف درجن کے لگ بھگ کمیشن اس کی منسوخی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ کوئی قانون دان کسی اچھے قانون کی منسوخی کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اگر ہر طرف سے دھواں اٹھ رہا ہے تو ضرور آگ لگی ہوئی ہے۔
جناب والا! جاگیردارانہ معاشرے مین یہ قانون ظالم کو ایک اور ہتھار فراہم کرتا ہے۔ میں ایک بار پھر کہوں گی کہ ایک تہائی عورتیں اس آرڈنینس کی زد میں ہیں میری فاضل دوست ابتدائی سماعت کے دوران اس میں جزوی ترمیم کی ضرارت کو تسلیم کر چکی ہیں۔ جناب والا! یہ ایسے کپڑے کی مانند ہو چکا ہے جو کہیں سے ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اسی اگر ایک جگہ سے سینے کی کوشش کی جائے تو وہ دو جگہ سے پھٹ جائے گا۔ مین اس عدالت کی توجہ ایک اہم نکتے کی جانب مبذول کروانا چاہوں گی کہ اب تک حدود آرڈنینس کا شکار ہونے والی خواتین کے مقدمات کے فیصلوں کی کیا صورت حال ہے۔ یہ سن کر حیرانی ہوتی ہے کہ نوے فیصد خواتین ایسے مقدمات میں باعزت بری ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف انہیں رہا کر دیا جاتا ہے لیکن کیا مقدمات کی رسوائی کے بعد کوئی عورت باعزت با عزت رہ سکتی ہے۔ معاشرہ اسے پہلے کی طرح قبول کر لیتا ہے؟ غیروں کو تو چھوڑیں جناب والا! اس کے اپنے ماں باپ بھائی اور بیٹے تک اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
وکیل استغاثہ اپنے دلائل کے اختتام پر تھیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل پچیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ جنس کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کی ممانعت کرتی ہے۔ حدود آردنینس آئین کے عطا کردہ بنیادی حق کی نفی کرتا ہے صنف کی بنیاد پر امتیاز برتنے والا یہ قانون اس قابل ہے کہ اسے منسوخ کردیا جائے تاکہ انے والی نسل کی بچیاں اس کے بھیانک اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
Thats all your Honour
وکیل صفائی اٹھیں اور اپنے دلائل کا آغاز کیا۔ جناب والا! حدودآردنینس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ غلط ہے۔ کسی بھی قانون میں جزوی خامیوں یا اس کے نفاذ میں تکالیف کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ قانون منسوخ کردیا جائے۔ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کا یہ مطلب نہیں کہ قانون غلط ہے۔ قتل کے مجرموں کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کے باوجود قتل ہو رہے ہیں۔
جناب والا! حدودآردنینس سے قبل زنا کوئی جرم نہ تھا۔ فحاشی کے برے اثرات کو روکنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ اگر کوئی عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا جیسے برے فعل کے مرتلب ہوتے تو اسے تعزیرات پاکستان افراد کا ذاتی معاملہ قرار دے کر چشم پوشی کرتا تھا۔ جناب والا! جرائم 1979 سے پہلے بھی ہوتے تھے لیکن گرفت میں نہ اتے تھے۔ جب قانون نافذ ہوا اور معاشرے کے برے افراد کی رنگ رلیوں پر گرفت کی گئی تو اعدادو شمار بڑھ گئے۔ یہ جرائم میں اچانک اضافہ نہیں بلکہ جرم کے مرتکب افراد کو قانون کے دائرے میں لانے اور معاشرتی تالاب سے گندی مچھلیوں کا نکال باہر کرنے کی کوشش ہے۔ کیا 200 سال قبل کینسر، ٹی بی اور ایڈز کے امراض نہ تھے؟ بیماریاں تو اس وقت بھی تھیں لیکن ان کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔ معاشرے میں فحاشی پہلے بھی تھی لیکن اسے جانچنے کا کوئی آلہ نہ تھا۔ حدودآرڈنینس الٹراساونڈ اور ایکسرے مشین ہے جس نے معاشرے کے فاسدمادوں اور برے عناصر کو اہنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اتنا شور اسی لئے ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور گل چھڑے اڑانے کی راہ میں کوئی قانون دیوار نہ بنے۔
عورتوں کی ہمدردی کے نام پر حدود آرڈنینس کا منسوخی کا مطالبہ صنف نازک پر ظلم کی ایک شکل ہے۔ اگر کوئی معاشرہ ایک شادی سدہ مرد کو چراہگاہ فراہم کردے کہ جہاں اس کا دل چاہے وہ جگالی کرتا پھرے تو بیعی کا کیا ہو گا جناب والا! جو اس مرد کے گھر کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے اور اس کے بچوں کی پرورش بھی۔ یہ قانون رنگین مزاج مردوں اور شمع محفل بننے والے عورتوں کے دماغ کو درست کر کت باوفا بیویوں کو تحفظ دینے کا قانون ہے۔ تعزیرات پاکستان صرف کسی کی بیوی سے ناجائز تعلقات کو جرم قرار دیتا ہے۔ اس کی وجہ جرم زنا کی شدت نہیں بلکہ مرد کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی ہے۔اگر عورت کسی کے بیوی نہ ہو یعنی کوئی کنواری، بیوہ یا طلاق یافتہ کسی مرد کے ساتھ زنا کی مرتکب ہوتو تعزیرات پاکستان حرکت میں نہیں آتا۔ انگریزی قانون کسی شادی شدہ مرد پر پابندی نہیں لگاتا کہ وہ کسی بھی عورت سے ناجائز تعلقات استوار کرکے اپنی بیوی کے ساتھ بیوفائی کے جرم کا مرتکب نہ ہو۔
اسلامی قانان زنا کو بدکاعی اور بدکاری کو زنا قرار دیتا ہے۔ انگریزی قانون زنابالجبر یعنیRape کو تو سنجیدگی سے لیتا ہے لیکن ایک مرد و عورت کو باہمی رضامندی سے بدکاری یعنی Adultery اس کے نزدیک گراں نہیں۔ وہ اسے فرد کا ذاتی معاملہ قراد دے کر کم تر سزا مقرر کرتا ہے۔ اس کی یہی قانون سازی اس کے معاشرے میں لاولد اور وناجائز بچوں کی بہتات کی وجہ ہے۔ کیامیری فاضل دوست اور مختلف این جی اوز مغرب کے اس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں کہ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہو جائے۔ جناب والا! گنتی کے چند اسلامی ممالک ہیں جس کا بالائی طنقہ مغرب سے کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ ایران، افغانستان اور سعودی عرب کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک کی ایلیٹ کلاس اور مغرب کے عام معاشرے میں کوئی فرق نظر نہیں۔ مغربی دنیا کروڑوں کے فنڈز اسی لئے این جی اوز کو دے رہی ہے کہ وہ ان کے ایجنڈے کو پورا کر سکیں اور اسلامی ممالک کو مغرب کت رنگ میں رنگ سکیں۔
جناب والا! آخر میں میں کچھ ایسے معاملات پر دلائل پیش کرو ں گی جنہیں تسلیم کر لیا جائے تو بڑی حد تک خوتین کی تکالیف کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ زنا کے مقدمات میں گرفتاری کا تصور نہیں لہذا ایسے مقدمات میں خواتین کی ضمانت کو مزید آسان کیا جانا چاہئے۔ عورت کے خلاف بدکاری کا الزام عائد کرنے والے کو اسی وقت قذف کا نوٹس جاری کیا جائے۔ الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں بغیر کس تاخیر کے قذف کی کاروائی شروگ کردی جائے تاکہ پاک دامن عورتوں پر جھوٹا الزام لگانے والا اپنی پیٹھ کی طاقت بھی جانچ سکے اور اپنی ہڈیوں کی مضبوطی بھی دیکھ سکے۔ جاگیردارانہ خرابیوں کا ملبہ حدودآرڈنینس پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ اسلام وٹےسٹے کی شادیوں، لڑکیوں کے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے، قران سے شادی کرنے یا کاراکاری کے سخت خلاف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حدودآرڈنینس کی جزعی خامیوں کو دور کرکے اسے خوتین کے دکھ دور کرنے کا ذریعہ بیایا جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ سادہ و گھریلوں عوتوں کے عاشق مزاج شوہروں کو بھی لگام دی جائے اور شریف شوہروں کی رنگین مزاج بیویوں کی نکیل بھی کس دی جائے تا کہ کوئی بھی مردیاعورت اپنے شریک زندگی سے بے وفائی کا مرتکب نہ ہو۔
That all your honour
جج صاحب نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں جن مکاتب فکر کی نمائندگی کرتی ہیں اگر وہ ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے یہ قوت، توانائی اور پیسہ ان خواتین کو رہا کروانے کی جانب مبذول کروائیں تو بہتر ہو جو شخصی ضمانت اور وکیل نہ ہونے کے سبب جیلوں میں سڑ رہی ہیں۔ تصوراتی عدالت نے فیصلہ آئندہ تاریخ تک محفوظ کر لیا۔

(ماخذ؛ عدلیہ تاریخ کے کٹہرے میں۔۔۔اشاعت؛2004۔۔۔۔تحریر؛ محمد براہیم عزمی ایڈوکیٹ)

نئے قانون پر صدر کے دستخط ہو چکے لہذا ممکن ہے کہ اگلے دس بارہ دنوں میں اس کا مسودہ سندھ ہائی کورٹبار کی لائبریری میں آجائے ہاتھ لگتے ہیں اس پر اپنی رائے دوں گا ویسے زنا اور زنا بالجبر والے معاملے میں مولوی سچے لگتے ہیں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

جرنل جی


پکے پَیر جما نہ لینا جرنل جی
لمے ڈیرے لا نہ رہنا جرنل جی

وِچ مدانے عیب اُچھالے جیہاں دے
بُکّل وِچ لُکا نہ لینا جرنل جی

گند مُکا کے گھر دی چابی موڑ دیو
گھرنوں جپّھاپا نہ لینا جرنل جی

بچیا کھچیا جیہڑا گھر دے چوراں توں
کِدھرے تُسیں اُڑا نہ لینا جرنل جی

دِتّیاں نیں بندوقاں اپنے دشمن لئی
ساڈے ول گُھما نی نہ لینا جرنل جی

جتّھوں تِیکر حد تہاڈی ٹھیک تُسیں
حّدوں پَیرودھیانہ لینا جرنل جی

آنہ جائیے سڑکاں اُتّے منگن لئی
ساڈا حق دبا نہ لینا جرنل جی

مارن دے لئی اپنے گھر دے سچّیاں نوں
پتّھر جھولی پا نہ لینا جرنل جی

چڑھدی بڑی خُماری سِرنوں چودھردی
کِدھرے رَب بُھلا نہ لینا جرنل جی

کالی وِچ کتابے اوہناں وانگ تُسیں
اپنا ناں لکھوا نہ لینا جرنل جی

خود غرضی دی مل سیاہی شیشے تے
ساڈے مونہہ کُھلوا نہ لینا جرنل جی

وگدے ساڈے زخماں اُتّے دُھوڑن لئی
لُون کِتے منگوا نہ لینا جرنل جی

سولی چاہڑن ویلے بھیڑے لوکاں چوں
اپنے یار بچا نہ لینا جرنل جی

یہ نظم مشرف کے دور کے ابتدائی سالوں میں چھپی تھی!!! شاعر کوئی “بابا نجمی“ ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہاں ہر چیز بکتی ہے

جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے
رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگائیں، مرمریں باہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے
بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے
یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ نگا رنگ تقریریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے
قلم کے معجزے، فکر و نظر کی شوخ تصویریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قسقے
یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے
یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے

قتیل شفائی
مکمل تحریر پڑھیں ←

رپورٹیں

ہم پاکستانیوں کا جن چند نئے الفاظ سے واسطہ پڑا ہے ان میں ایک لفظ ہے تھینک ٹینک!!!! یہ بھی وہاں ہی پائے جاتے ہیں!!!! جہاں کی فوج نہ صرف اپنے ٹینک بلکہ دیگر جنگی ساز و سامان لے کر مسلم دنیا پر چڑھ دو ڑے ہیں!!!!! ان تھینک ٹینکوں کے مالی معاونت خود امریکہ کرتا ہے اس میں کوئی شک شبہ نہیں!!! کہ ہے؟؟؟ یہ مالی مدد ذیادہ تر تعاون کی شکل میں کسی تیسرے کے ذریعے یا راستے سے کی جاتی ہے!!! کبھی براہ راست نہیں ہوتی!!!! رینڈ کارپوریشن بھی ایک ایسا ہی تھیک ٹینک ہے!! پچھلے دونوں اس کی دو ریسرچ رپورٹیں پڑھی!!! ایک “عوامی جمہوری اسلام - شراکت دار، ذرایعے اور تدابیر“ اور دوسری “نظریات کی جنگ“!!!!!

پہلی رپورٹ جسے شیرل بینرڈ نے نے مرتب کیا، اسے مرتب کرنے میں نیشنل سیکورٹی ریسرچ ڈویژن نے تعاون کیا!!! “دی سمتھ رچرڈ فانڈیشن“ نے اسے اسپانسر کیا!!! اور اس کی تیاری کے سلسلے میں مرتب کنندہ نے دیگر آٹھ افراد کا شکریہ ادا کیا ہے!!! تین ابواب میں مشتمل ہے یہ!!!! ریسرچ رپورٹ ابتدائیہ ، رپورٹ کا ایک مختصر خلاصہ، استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو ان کے مطابق نئے ہیں کے معنٰی!!! اور پھر رپورٹ ہے!!!!

رپورٹ کے پہلے باب میں ان معاملات کو دیکھا گیا یا اکٹھا کیا گیا ہے جن کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ان معاملات میں ہمارا ان سے اختلاف ہے!!! یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ ساتھ ہی ساتھ مسلم دنیا کو نظریات کی بنیاد پر چار گروہوں میں تقسیم کر کے ان کا مطالعہ کیا گیا ہے!! ایک بنیاد پرست (جس سے وہ خوف کھاتے ہیں!!! پیٹ بھر کر)، دوسرے “روایت پرست“، تیسرے “جدت پسند“ اور چوتھے “سیکولرز“!!! پھر ان گروہوں کو مزید دو دو حصوں میں رکھا ہے!!! اختلافی معاملات کی فہرست میں “جمہوریت اور انسانی حقوق“، “کثرت ازواج“، “جرائم کی سزا اور اسلامی نظام انصاف“، “اقلیتی آبادی“، “جہاد““۔ “خواتین سے متعلق عمومی قوانین( جیسے لباس، شوہر کا ان پر ہاتھ اٹھانا اور ان کی آزادی“ جیسے معاملات سے متعلق ان مسلمان گروہوں (ان کی تقسیم کے مطابق) کے خیالات ان خاص وجوہات یا دلائل (اسلامی نقطہ نظر سے) کی روشنی میں جو یہ گروہوں رکھتے ہیں درج کئے ہیں۔

دوسرے باب میں انہوں نے مسلمانوں کے ان گروہوں (اپنے طور پر جنہیں انہوں نے نظریاتی اور فکری طور پرتقسیم کیا ہے) کا مطالعہ کیا!!! اس میں “سیکولرز“ کو انہوں نے اپنا فطری ساتھی قرار دیا ہے، ان کی رائے ہے کہ ان کی ایک ہی کمزوری ہے کہ یہ لوگ مالی طور پر کمزور ہیں لہذا ان کی مدد کی جائے!!! اس کے علاوہ یہ ہی لوگ بنیاد پرستی (شائد اس سے مراد راسخ العقیدہ لوگ ہے) کے خاتمہ میں مدد ملے گی لہذا ان کے افکار کو فروغ کرنے میں ان کی مدد و تعاون کی جائے ہر سطح پر!!! جہاں تک بنیاد پرستوں کا تعلق ہے تو وہ ان کے نزدیک جدید جمہوریت کے دشمن ہیں!!! یہ لوگ مغربی اقدار اور مقاصد اور خاص کر امریکہ کے لئے خطرناک ہیں (یقین جانیں یہ ہی لکھا ہے)، لہذا یہ ہمارے اور ہم ان کے دشمن ( یہ بھی کہا ہے)!!! ساتھ ہی انہیں افسوس ہے کہ یہ لوگ تمام تر (جدید) وسائل کو استعمال کرتے ہیں!!! جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ ، کتب ، بلکہ ان کے اپنے اشاعتی ادارے ہیں!!! (جدید ذرائعہ کا استعمال اور پھر بھی بنیاد پرست؟؟) اپنے پیغام کو آسانی سے پھیلالیتے ہیں!!!! روایت پسندوں کو وہ بنیاد پرستوں کے قریبی سمجھتے ہیں اور جدت پسندوں کو ان کے جنہیں وہ اپنا فطری ساتھی سمجھتے ہیں اس رپورٹ یا ریسرچ کے مطابق!!!! لیکن پھر بھی ان کو الگ الگ ہی سمجھتے ہیں!!! بہرحال ان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا ہے!!! کہ کون کس طرح ان کے قریب اور کتنا؟؟ اور کون دور!!!

تیسرے باب میں وہ حکمت عملی واضح کی جس کی مدد سے وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں!!! کہ ان گروہوں میں کس کی مدد کرنی ہے کب اور کس طرح!!! اور کتنی!!! احادیث کی جنگ، حجاب پر نقطہ نظر!!! دیگر اگر قوت ہو تو یہ رپورٹ پڑھے کچھ سمجھ ناں تو سمجھ آتی ہے کیا یہ بھی بتانا!!! “نظریات کی جنگ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے !!! اس میں ان باتوں پر غور کیا گیا ہے کہ القاعدہ سے نظریات کی جنگ کیسے جیتی جائے!!! نوجوان کو اس سے کیسے متنفر کیا جائے!! وہ کیا باتیں ہے جن کی وجہ سے ایک کم عمر ان سے دور ہوسکتا ہے!!! مجھے کچھ یوں لگا اسے پڑھ کر کہ مسلم نوجوان میں سے جہاد (کچھ لوگ اسے دہشت گردی کہہ لیں) کا جذبہ ختم کرنے کے لئے ان کے خیال میں صوفی ازم، جنسی بھوک، بےراروی اور زندگی سے محبت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں!!!

پہلی رپورٹ قرین 90 صحفات اور دوسری بیس صحفات پر مشتعمل ہے!!! اگر وقت و قوت ہو تو ضرور پڑھے!!! اور رائے بھی دیں کہ آپ کیا کہتے ہیں

مکمل تحریر پڑھیں ←

غزل

قدم انسان کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے

چکے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے

نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی

ہجوم کش مکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح

وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے

ہوائیں زور کتنا ہی لگا یا آندھیاں بن کر

مگر جو گِھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے

شکاہت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انسان کی

مصیبت میں خیال عہدِ رفتہ آ ہی جاتا ہے

شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کو

مگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے

سمجھتی ہیں مآلِ گل مگر کیا زور فطرت ہے

سحر ہوتے ہی کلیوں پر تبسم آ ہی جاتا ہے

جوش ,,,,,,,,,

مکمل تحریر پڑھیں ←

اچانک موت!!!!

میرے ایک کلاس فیلو(میٹرک کے) یا دوست جو کینڈا میں شفٹ ہو گئے ہیں!!! انہوں نے ایک لنک بھیجا!!! اس میں موجود ویڈیو یہاں پوسٹ کر رہا ہو!!! اگر ویڈیو نہ چلے تو لنک پر جا کر دیکھ لیں!!! کیا رائے ہے؟؟؟ ویسے دیکھ کر پہلے لمحے تو جسم ایک لمحے کے لئے سن ہو گیا!!! باقی اللہ بہتر جانتا ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

کیا ایسا ہے؟؟؟؟

آج جاوید چوہدری کا کالم پڑھا یہ کل کے ایکسپرس میں میں آیا تھا مگر مجھے آج پڑھنے کا وقت ملا (نیٹ سے) دو باتیں بہت عجیب معلوم ہوئیں !!! جاننا یہ ہے کہ کیا یہ درست ہیں؟؟؟؟ ایک یہ کہ پیجابی میں شکریہ اور معافی کے لئے یا ہم معنی الفاظ نہیں ہیں!!! دوسرا انگریزی میں بھی غیرت کے لئے کوئی لفظ نہیں کیا یہ درست ہے؟؟؟؟ ویسے انگریزی میں میرے علم کے مطابق غیرت کے لئے “honour“ ہے باقی آپ کا کیا کہنا ہے؟؟؟
,,,,,,,,,
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ کیا!!!!!

آج خاور کے بلاگ پر “شیخ لوگ“ کے عنوان سے پوسٹ لکھی تھی!!! جس میں اُس نے اردو کے وکی پیڈیا کا لنک دیا !!! شیخوں پر کوئی مضمون نہ ملا!!! یہ معاملہ میں نے اُس کے سامنے رکھا تو بھائی نے وہ لنک دے دیا!!! مگر اس دوران( یعنی مضمون کی تلاش اور لنک کی فراہمی ) میں خیال آیا کہ کیوں ناں جاٹ کے متعلق دیکھا جائے!!! تو بجلی کا ایک جٹکا لگا!!! تعارف کچھ یوں تھا!!! ۔
جاٹ کے لغوى معنى ہیں گنوار یا غیر تہذیب یافتہ !جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریبا 50 گوتوں کا ذکر کیا ہے!! گجر اور آرایں لوگوں کو جاٹ خود میں شامل نہیں کرتے! یہ لوگ انتھائی تعصب کرنے والے مغرور ہوتے ہیں!! تعلیم ان کا کچھ بھى نہیں بگاڑ سکتى! ہنر مند لوگوں سے حقارت کا سلوک کرتے ہیں اور ان کو کمى اور کمینہ کہہ کر پکارتے ہیں خود سے طاقتور کے سامنے انتہائی فرمانبردار اور کمزور پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں کى طرح سالہا سال دشمنیاں پالتے رہتے ہیں! قاتل اور اشتہ دارى رشتہ دار باعث فخر ہوتا ہے پاکستان میں ان کى اکثریت ہونے کى وجہ سےبہت سے ہنر مند لوگ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گیے ہیں بے ہنر جاٹوں کے زیر انتظام ملک پاکستان کے کاروبارى حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اب جاٹوں کے لڑکے یورپ میں موچى نائی اور راج مزدور لوگوں کى کام کے لیے منتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“۔
کافی تعصب سے بھرپور تحریر ہے!!! کمال ہے بھائی!!! لازمً کسی ایسے اللہ کے بندے نے لکھی جو جاٹوں کو اچھا نہیں سمجھتا!!! بلکہ شائد نفرت کرتا ہے!!! چلو ٹھیک ہے کرتا رہے !!! جاٹ یا جٹ (چونکہ میری گوت گھمن ہے) ہونے اور کراچی میں “انجمن بہبود جٹاں“ کا ایک ایکٹو ممبر کی وجہ سے یہ تحریر اور بھی بُری لگی!!! باقی ذاتوں کے بارے میں ان ہی اصولوں کی روشنی میں لکھا گیا تو خوب کام ہوا!!!! تیار ہو گیا انسائکلوپیڈیا!!! غیر جانبداری ضروری ہے!!! ذاتی آراء کو الگ رکھنا مشکل ہے مگر بڑے کام کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے!!!
یوں تو جاٹ قوم کے متعلق کتابوں کی صورت میں اور خود نیٹ پر( سرچ انجن یا کسی بھی انسائکلوپیڈیا میں jatt یا jat لکھ کر تلاش کر نے پر ) کافی سارا مواد موجود ہے!!! مگر یہاں میرا مقصد یہ نہیں کہ میں وضاحتیں پیش کرو!!! بس اتنا کہ مطالعہ بھی تعصب سے پاک ہی ہو تو اچھا ہے!!!! ۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اِدھر اُدھر کی

پچھلے دنوں جب حجاب سے متعلق جیک اسڑا( جن کے حلقے کی قریب تیس فیصد آبادی مسلم ووٹر پر مبنی ہے) کے ٹیلیگراف والے مضامین (ایک 5 اکتوبر اور دوسرا 12 اکتوبر) کی وجہ سے مغرب میں ایک بحث کا آغاز ہوا کسی نے اس سے اپنی محبت کی وجہ بتائی اور کسی نے جیک اسڑاس کو ایسا لکھنے سی منع کیا تو میرا بھی ارادہ بنا اس موضوع پر لکھنے کا!!!! یوں تو روتھ کِیلے کا بیان اس سے پہلے آیا جسے میڈیا میں وہ جگہ نہیں ملی شائد اس وجہ سے کہ اس سے اہل مسلم کے دل آذاری کے بجائے مثبت پہلو تھا!!! سنا ہے اس وجہ سے مغرب میں مسلم خواتین کی زندگی کسی حد تک مشکل کا شکار ہوئی!!! بعد میں معلوم ہوا کہ عالیہ انصاری بھی حجاب کی وجہ سے ماری گئی اور پھر آسٹریلیا کے مفتی کی شامت آگئی!!! جناب نے بے حجاب عورت کو کھلے گوشت سے تشبہ دی تھی!!! یارو نے اسے ایک مسلم زانی کے حق میں بیان قرار دیا!!!!
بات اپنے مضمون کی کر رہا تھا تو اس مضمون کے لئے دو لطیفے سوچ رکھے تھے (جو کہیں سنے تھے) اب نہیں لکھ رہا اس پر!!!! جو کچھ یوں تھے!!!!
ایک خاتون ایک سو منزلہ عمارت سے گر جاتی ہے جب وہ 80 ویں منزل پر پہنچی تو ایک امریکن مرد نے اسے گرتے میں تھام لیا۔۔۔۔ ابھی وہ لٹکی ہوئی ہی تھی کہ وہ شکر گزار ہوئی کہ آپ نے میری جان بچائی!!! ا،ریکن نے کہا وہ تو ٹھیک ہے کہ مگر آج رات کہاں گزانے کا ارادہ ہے؟؟؟؟ عورت فورًا بھڑک اٹھی امریکن نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا وہ گرتی ہوئی جب 60ویں منزل پر پہنچی تو ایک اور سیکولر مرد نے اسے ہاتھ دے کر پکڑ لیا !!!!۔۔۔ وہ شکر گزار ہوئی تو اِس مرد نے بھی وہ ہی آفر کر دی!!! اس نے انکار کیا تو اس نے بھی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا !!! نیچے گرتے ہوئے اس عورت کو خیال آیا کہ اگر میں ان مردوں میں سی کسی ایک کی بھی بات مان لیتی تو میری جان بچ جاتی اور ایک رات ہی کی تو بات تھی!!! کیا فرق پڑتا!!!۔۔۔ اس ہی دوران 30 ویں منزل پر ایک مرد نے اس کا ہاتھ تھام لیا!!! اور اسے اوپر کھینچ لیا اس عورت نے فورًا اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کیا ارادہ ہے؟؟؟ آج رات کیا ہو رہا ہے!!! اس مرد نے فورًا اسے دوبارہ نیچےدھکا دے دیا اور کہنے لگا “لاحول ولاقوۃ“۔
دوسرا لطیفہ کچھ یوں تھا!!!
ایک ہوٹل میں تین عورتیں بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں، ایک جاپانی، دوسری مغربی، تیسری مشرقی۔ اتنے میں خبر ہوتی ہے کہ ہوٹل میں چند بدمعاش گھس آئے ہیں اور وہ خوبصورت عورتوں کو بری نیت سے اٹھا کر لے جارہے ہیں!!!
جاپانی عورت کہتی ہے “اگر مجھے ان میں سے کسی مرد نے پکڑنے کی کوشش کی تو میں لڑوں گی یا وہ زندہ نہیں رہے گا یا میں“
مشرقی عورت یوں گویا ہوئی “اگر مجھے کسی مرد نے ہاتھ بھی لگایا تو میں اپنی جان لے لو گی“
مغربی عورت کا جواب تھا “مجھے سمجھ نہیں آتی اس میں حرج ہی کیا ہے ذرا تفریح ہی رہے گی“
ان کو اس وجہ سے کوڈ کرنا تھا کہ جب ایسی بحثوں کے نتیجے میں اوپر والے لطیفے لطیفے نہ رہے یعنی مسلم مرد اور عورت بھی مکمل طور پر مغربی سوچ اپنا لیں تو یہ افسوس اور دکھ کی بات ہو گی!!! مثبت باتوں کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں!!!
کل کورٹ میں ایک نہایت دلچسپ بات سنے کو ملی ہوا یوں کہ جج صاحب اپنے چیمبر میں گئے ہوئے تھے لہذا تمام وکیل بیٹھے گفتگو کرنے لگ پڑے ایک سینیر خواجہ نوید کو کہنے لگے یار تم نے ہم وکیلوں کی روزی خراب کرنی ہے کہ ایک عورت جس کا میں نے ایک فیملی کیس لڑا تھا اس سی دس ہزار فیس کی مد میں اور دس ہزار کورٹ فیس کی مد میں مانگے تھے!! یوں تو اب اس کا کیس ختم ہو چکا ہے اور میں اپنی فیس بھی لے چکا ہو!!! مگر اس کا فون آیا کہ جناب آپ نے مجھ سے کورٹ فیس کی مد میں دس ہزار لیئے تھے جبکہ کورٹ فیس تو پندرہ روپے ہے!!!!! میں نے پوچھا یہ تم سے کس نے کہا ہے ؟ بتانے لگی کہ ابھی ٹی وی میں “خواجہ کی عدالت“ میں بتایا ہے!!!خواجہ صاحب نے ہنستے ہوئے پوچھا تم نے کیا کہا؟پہلے وکیل کہنے لگے میں نے کہہ دیا “ بی بی کیا مشرف کو پتہ ہے کہ بازار میں آٹے دال کا کیا باؤ ہے؟ کہنے لگی نہیں!! تو میں نے کہہ دیا بی بی یہ بھی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ان کو کیا پتا کہ چھوٹی عدالتوں میں کیا فیس ہے!!!! خواجہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے خوب! ٹھیک ہے اب اس عورت کا فون آئے تو مجھ سے بات کروا دینا میں کہہ دوں گا کہ “اگر فیس واپس لو گی تو طلاق بھی واپس ہو جائے گی!!! اور کورٹ میں اپنے خادند کو پیش کرنا پڑے کا اگر پہلا نہیں ملا تو کوئی اور تلاش کر کے لانا پڑے گا“مجھے ان کے اس جواب پر بہت ہنسی آئی قیب قریب قہقہ لگانے کے قریب!!!کہ دوسرا مرد شوہر کے طور پر تلاش کر کے لانا پڑے گا!!!
جاتے جاتے ایک لطیفہ اور سن لیں جو خواجہ نوید (یہ لطیفے بہت سناتے ہیں محفل میں) نے فارمیلٹی پوری کرنے کے حوالے سے سنایا!!!! اوپر کے دو لطیفوں کی طرح یہ بھی کچھ آزاد خیال ہے لہذااچھا نہ لگے تو معذرت!!!
ایک لڑکا ایک لڑکی دھوکے سے کو ایک ویرانے میں لے جاتا ہے!! لڑکی اسے کہتی ہے کہ اگر تم نے مجھے چھونے کی بھی کوشش کی تو میں شور مچا دوں گی!!! لڑکا کہتا ہے مگر یہاں تو دور دور تک کوئی بھی نہیں!! جواب میں وہ کہتی ہے “تو کیا ہوا فارمیلٹی تو پوری کرنی ہے
مکمل تحریر پڑھیں ←