بلاگنگ کی بناء پر۔۔۔۔۔

نوٹ ؛ یہ پوسٹ بقول م م مغل صاحب کے انجمن باہمی خود ستائشی کے تحت لکھی گئی ہے۔۔۔

وہ میرا محلے دار و دوست ہے اور ایک اتوارکو وہ میرے گھر کے دروازے پر موجود تھا، پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک ویب ڈیزائنر ہے اور xpiderz کے نام سے اُس نے اپنا کام شروع کررکھا ہے، جس وقت وہ میرے گھر آیا وہ ایک بہترین وقت تھا مجھے اپنے گھر میں پکڑنے کا یعنی قریب ۱۲ بجے دوپہر ورنہ میں ایک بجے کے بعد عام طور پر اپنے آفس چلا جاتا ہو چھٹی کے دن  کہ کیسوں کی ڈرافٹنگ کا کام اس دن ہی بہتر طور پرممکن ہوتا ہے ۔
اُس نے مجھ سے ملنے  و سلام دعا کے بعد جو پہلی بات پوچھی وہ یہ تھی کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اٹلی میں ہوتا ہے؟ میں نے کندھے اچکا کر صاف انکار کر دیا۔ تو اُس نے کہانی سنانا شروع کی؛
” بھائی میرے ایک دوست ہیں اسلام آباد میں انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اُن کے دوست کا دوست ایک ویب سائیٹ بنوانا چاہتا ہے لہذا میں نے انہیں اپنا رابطہ نمبر دیا یوں ہوتے ہوتے جس نے ویب سائیٹ بنوانی تھی اُن سے رابطہ ہوا چیٹ کے دوران جب ویب سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا تو نہوں نے کہا کہ میں اردو یونیکوڈ میں ویب سائیٹ چاہو گا میں نے اُس لمحے آپ کے بلاگ کے حوالہ دیا اور کہا کہ ایک ہمارے دوست کا اردو بلاگ ہے یونیکوڈ میں تو انہوں نے ربط مانگا لہذا میں نے آپ کے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔
میں نے کہا ”تو اُسے کیا کہنا ہے؟ یہ کہ یہ بلاگ کا ٹمپلیٹ آپ نے بنایا ہے؟ کہہ دوں گا۔“
”نہیں نہیں میں یہ تو نہیں کہہ رہا، نہ میں نے اُن سے کوئی ایسا جھوٹ نہیں کہا ہے، میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں وہ آپ کو آپ کے بلاگ کے حوالے سے جانتے تھے۔“
ہمارا رد عمل حیرانگی والا تھا۔
اُس نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ” وہ اٹلی میں امیگریشن کا کام کرتے ہیں کہہ رہے تھے وہ آپ کے بلاگ کو پڑھ لیتے ہیں۔“
تو ہمیں فورا یاد آیا جناب راجہ افتخار کا نام اور ہم نےجب ان کا نام بتایا تو اُس نے تصدیق کی کہ یہ ہی ہیں ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو بلاگ کی وجہ سے کسی محلے والے تک ہماری پہچان پہنچی۔
اس سے قبل بھی ایک بار اس بلاگ کی وجہ سے ہماری تعریف ہوئی تھی۔ ہوا یوں جس دن کراچی میں حکومت سندھ کی طرف سے بلاگر ز کانفرنس تھی اُس ہی دن ہماری نوجوان وکلاء کی تنظیم(ہم آُس کے عہدے دار ہیں) کے زیراہتمام ایک لیکچر پروگرام تھا جو کہ سابق وزیر قانون  محترمہ شاہدہ جمیل نے دیا، اس لیکچر کا اختتامی کا وقت ہم نے وہ رکھوایا جو بلاگرز میٹ اپ کے آغاز کا وقت تھا ، لیکچر کے اختتام پر بات چیت کا رُخ اُس وقت ہونے والے حکومت اور صوفی محمد کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی طرف ہو گیا ، میڈم اُس کے حق میں نہیں تھیں اور سلسلے میں انہوں نے جہاں چند قانونی حوالے دیئے وہاں ہی اپنی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے چند نیٹ سے کاپی کی ہوئی تحریروں کا بھی  ذکر کیا ، پروجیکٹر پر  تحریروں کے ربط دیکھ  و پہچان کر ہم نے سوال کیا کہ آپ بلاگ پڑھتی ہیں؟ انہوں نے مثبت جواب دیا تو ہم نے پوچھا  کہ پاکستانی تو کہا چند ایک۔ جس پر ہم نے انہوں بتایا کہ آج بلاگر کانفرنس ہے کراچی میں جس میں ہم بھی شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے ہم نے انہیں اپنے بلاگ کا ایڈریس دیا۔
چونکہ ہم اُن سے اختلاف رکھتے تھے اُس امن معاہدہ پر لہذا ہم نے اُس پر یہ پوسٹ تحریر کی جسے انہوں نے پڑھ لیا تھا۔ اُن کا اگلا لیکچر ہم نے اپنے سینئر کے آفس میں رکھا جہاں  پر انہوں نے پہلے دوران لیکچر  اور بعد میں جاتے جاتے انہوں نےہمارے سینئر سے  ہمارےاور بلاگ کے بارے میں چند سنائشی کلمات کہے اس لیول کی ملکی شخصیت کی طرف سے یوں تعریف میرے لئے ایک اعزاز ہے۔
یوں چند دیگر باتوں کے علاوہ ایک یہ بات بھی میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں بلاگر ہوں اور خاص کر اردو بلاگر اور میں اس پر وہ لکھتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں جبکہ اس سے برخلاف بعض اوقات عام زندگی میں کسی نا کسی شکل میں منافقت سے کام لینا پڑتا ہے مگر بلاگنگ سے اب منافقت سے جان چھڑانے میں کافی آسانی ہو گئی ہے دوئم لکھنے سے پہلے پڑھنے اور کسی خبر کی تصدیق و تردید کی جستجو سے بات کا ایک درست رُخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے جس سے اپنے سے بڑوں کی محفل میں بیٹھ کر جب حوالہ سے بات کرتے ہیں تو جواب میں اُن بزرگوں کی طرف سے ملنے والی عزت ایک الگ سرمایہ ہے۔
آخر میں یہ چند اردو بلاگر جو بلاگرز ایواڈ میں شامل ہیں کے لنک ذیل میں ہیں انہیں اپنی اپنی پسند کے مطابق ووٹ ڈال دیں۔
ابن ضیاء
ابو شامل
ادبستان
حال دل
صلہ عمر
فرحان دانش (یار اسے تو دے ہی دینا اس نے بہت ووٹ مانگا ہے)
محمد وارث
کامی
یاسر عمران مرزا
اور ہاں میرا بلاگ بھی
جن دوستوں کے نام درج نہیں ہیں وہ تبصرہ میں آگاہ کر دیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے نام اس مقابلے میں نہیں ڈالے اُن کے پاس وہ اپنا اندراج کروا لیں ایک بار پہلے بھی گزارش کی تھی وجہ سادہ ہے کہ مقابلہ نہ بھی جیتیں مگر انہیں نئے بلاگ ریڈر مل سکتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں کچھ نئے ملیں ہیں نیز یہ کہ تمام دوست اپنا بلاگ بہترین اردو بلاگر کے ذمرے میں لے آئیں تو اچھا اور ایک ای میل پر وہ اچھا رسپانس دیں گے تجربہ ہے مجھے ۔
اچھا کیا آپ کا بلاگ آپ کی پہچان بنا یوں؟ یوں تو ہم میں سے کئی ایک دوسرے کو بلاگنگ کی وجہ سے جانتے ہیں ورنہ کیا ہم یوں آشنا ہوتے کیا؟ ابوشامل آپ اپنا قصہ تو تبصرہ میں لکھے گے ناں۔۔۔۔
اور ہاں یار بلاگ لکھنا آسان ہے مگر کالم لکھنا مشکل ایک شریف آدمی نے کہا ہے لکھنے کو کہ ہفتے میں ایک کالم لکھو مگر یقن جانیں ہفتہ تو ایک طرف پچھلے دس دنوں میں کچھ لکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔ ہم بلاگر ہی ٹھیک ہیں۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟

ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات ہے جب سے زرداری صاحب کے پاس پارٹی کی قیادت آئی ہے تب سے اب ہماری فیملی میں صرف ایک بڑے تایا ابوہی پیپلزپارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے والد اکثر والدہ کی موجودگی میں اُنہیں چیڑانے کے لئے ممکن ہے ایک قصہ بھٹو کے حوالے سے سنایا کرتے تھے کہ جناب ایک مرتبہ بھٹو صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تقریر شروع کی ”میری ماوں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگو" ابھی تک اتنا ہی کہا تھا کہ ہاتھ مائیک سے ٹکرا گیا جو کہ شاٹ تھا لہذاکرنٹ لگا اور بھٹو صاحب کی زبان سے نکل گیا "تمہاری تو۔۔۔۔۔۔سنسر۔۔۔"
یہ ممکن ہے بلکہ ذیادہ امکان یہ ہے کہ گھڑا ہو لطیفہ ہو مگر ذیل میں ریکارڈ شدہ ہے۔







آخر یہ ہی ہونا تھا بھائی جمہوریت کے ساتھ
مکمل تحریر پڑھیں ←

میڈیا، بلاگرز اور اردو

پاکستان میں خواہ پریس میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا اس پر اردو کی اجارہ داری ہے، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو الیکٹرونک میڈیا پر انگریزی کے شوقین ایسے اینکر ضرور ہونگے جو ولایتی اردو اور دیسی انگریزی بولتے ہیں۔ حد تو یہ کہ جسے ہم نمبر ایک انگریزی چینل مانتے تھے معلوم ہوا ہے اب اُس پر بھی چھ گھنٹے اردو کی حکومت ہوگی، چینل کو بچانے کے لئے یہ اقدام اُٹھایا جا رہا ہے۔
ایک طرف یہ معاملہ دوسری طرف حیرت انگریز معاملہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر نہ نہ کرتے بھی پاکستانی بلاگرز میں انگریزی بلاگرز کی تعداد اردو بلاگرز سے چار پانچ گنا یا شاید اس بھی ذیادہ ہے، وجہ کیا ہے؟
یوں تو عملی زندگی میں بھی یار لوگوں کی رائے میں انگریزی بولنا ایک اضافی خوبی کے بجائے قابلیت و ذہانت مانا جاتا ہے مگرافسوس جی افسوس جو دراصل حیرت کے بعد کی سطح ہے تب ذیادہ ہوتا ہے جب اردو بلاگرز میں سے کوئی یہ تاثردے کہ اردو زبان نہ صرف اظہار کےمعاملے میں انگریزی سے پیچھے ہے بلکہ اس زبان تک خود کو محدود رکھنے والے دراصل سوچ و میعار میں پست ہیں۔
پچھلی اردو بلاگرز ملاقات جس میں کُل گیارہ افراد نے شرکت کی جن میں ایک خاتون سمیت آٹھ اردو بلاگرز اور ایک ممکنہ اردو بلاگر جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا بھی شامل تھے، اس اب تک کے سب سے بڑے اردو بلاگرز کے اجتماع میں بھی اردو بلاگرز و میڈیا کا انگریزی میڈیا و بلاگرز سے تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تھی اس کی تفصیل کی ذمہ داری میں اُن ہی احباب کے لئے رہنے دیتا ہوں جنہوں نے اردو بلاگرز ملاقات کی روداد لکھنے کی ذمہ داری لی تھی۔
میرا سوال وہ ہی ہے،جس کے جواب کا میں طالب ہوں گا،جو میں نے اُس ملاقات میں بھی رکھا تھا کہ کیا وجہ ہے اردو پرنٹ و الیکڑونک میڈیا اردو بلاگنگ کو اہمیت نہیں دیتا جبکہ اس کے مقابلہ میں دونوں پاکستانی انگریزی چینل سمیت نہ صرف لوکل انگریزی پرنٹ میڈیا بلکہ کئی صورتوں میں غیر ملکی نیٹ و الیکٹرونک میڈیا پاکستانی انگریزی بلاگرز کا حوالہ دیتا ہے؟
ڈوئم یہ کہ اردو عوام و الناس کی زبان ہے نیٹ پر یار لوگ رومن اردو میں بات چیت کرتے ہیں مگر پھر کیاوجہ ہے کہ اردو بلاگرز کی تعداد اتنی کم ہے؟
- - - - -
اردو بلاگرز کی ملاقات میں کچھ خاص موضوعات پر تحریروں کی وعدہ ہوئے تھے کون کون اللہ کا بندہ پورے کرے گا؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟"
"کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے"
"ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے"
"یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں"
"بلکل"
" میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں کیسے سخت دل ہیں اُن کے اپنے بچے نہیں ہوتے"
"بھائی کہتے تو تم ٹھیک ہوں بس دعا کرو رب ہمارے بچوں کو انسان دشمنوں سے بچائے"
"آمین"
"اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری غیرتوں کو جگائے کہ ہم اپنے بچوں کی جانوں و خوشیوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر سکے"
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ ہہم نے کون سی قیمت وصول کی ہے؟"
"ہم نے کئی طرح سے اور کئی شکلوں میں قیمت وصول کی ہے"
" مثًلا"
" مثال کے طور پر افغان وار میں جہاد کے نام پر کئی سیاسی مولویوں نے اُس وقت کی نسل سے مجاہدین کی کھیپ کے نام پر فی نوجوان قیمت وصول کی"
" وہ ایک اسلامی فریضہ تھا، نوجوان اُس وقت خود جہاد کے لئے جاتے تھے"
" جاتے ہوں گے مگر سب نہیں، تم خود مطالعہ کر کے دیکھ لو"
"یہ ایک اختلافی مثال ہے کوئی اور مثال دو"
”چلو ٹھیک ہے، ہم نے سیاسی جماعتوں خواہ وہ لسانی ہوں یا مذہبی یا کسی اور شکل کی، اُن کے اسٹودنٹ ونگ بنائے جنہیں اسلحہ و تشدد سے لیس کیایوں اپنے تعلیمی اداروں کو سیاسی تربیت کی جگہ کے بجائے غنڈوں و بد معاشوں کی آماہ گاہ بنایا، جو آج ایک ناسور بن چکے ہے"
”یار یہ کیا مثالیں ہے معاشرتی کمزوریاں و خامیاں ان کی وجوہات ہے، کبھی بھی سرکاری سطح پر ایسا کچھ ہم نے نہیں کیا"
”حکومتوں کی خاموشی، کو میں تو سرکاری سرپرستی ہی کہوں گا"
”یار کوئی تُک کی مثال دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنی یہ بکواس بند کرو"
”چلو حالیہ مثالیں دیکھ لو یہ ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے مارے جاتے ہیں اُس پر حکومت کی خاموشی کہ انکل سام کے آگے شکایت نہ کی جائے کہیں کیری لوگر بل جیسی مونگ پھلی ملی بند نہ ہو جائے یہ بھی تو غیرتوں کا سو جانا ہے"
”وہ حادثاتً ہوتا ہے وہ بھی اُن طالموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو ہمارے بچوں کا برین واش کر کے خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں"
”اچھا وہ حادثاتً ہوتا ہے تو یہ جو ہم قیمت وصول کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں سرکاری سطح پر یہ کیا ہے؟"
”کون کی قیمت وصول کی ہم نے اپنے ان پھولوں کی؟"
”ابھی تازہ تازہ قیمت وصول کی ہے آپ نے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ادائیگی کا محترم وزیر داخلہ صاحب نے، ممکن ہے کل ستائشی سرٹیفکیٹ بھی دے دیں کہ بچوں کو اونٹ ریس میں بہتر طور پراستعمال کیا ہے، پھر اعتراض پر بلیک واٹر کی طرح اس کے وجود سے انکاری بھی ہو جائے"
”تم لوگ بلاوجہ الزام لگاتے رہتے ہو تمہارے پاس بیٹھا وقت کی بربادی ہے، میں چلا"

خبر
لنک اول
لنک دوئم
مکمل تحریر پڑھیں ←
کمال ہو گیا

کمال ہو گیا

"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا"

یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطور قومی ہیرو کے شائع کی گئی۔ اب وزیر وزارت بہبود خواتین و بچوں کرشنا تیرتھ صاحبہ پر وضاحتیں دے رہی ہیں۔ اشتہار ذیل میں ہے۔






ممکن ہے کہ یہ تحریک طالبان ہندوستان یا لشکر طیبہ کی سازش ہوں، اس سلسلے میں پاکستانی آئی ایس آئی نے اُن کی تربیت کی ہو، وہ رات کے اندھیرے میں کسی اُڑن طشتری میں بیٹھ کر ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں پہنچ کر انہوں نے لاہور و کراچی میں بیٹھے اپنے "کمانڈر" کے حکم کے تحت یہ سب کیا ہو، آپ کیا کہتے ہوں؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

ایک منٹ کے عالم

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی ایک ہی اولاد تھی، بادشاہ اُسے زندگی کے دیگر میدانوں میں کامیاب دیکھنا تو چاہتا تو تھا ہی مگر ساتھ ہی اُس کی دلی خواہش تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ ایک بڑا عالم بن جائے لہذا اپس نے اپنے وزیر خاص کو سلطنت کے بڑے بڑے عالم بلانے کے لئے کہا۔
ایک مخصوص دن جب تمام عالم ایک جگہ جمع تھے تو اپنے لاڈلے کے اُستاد کے چناو کے لئے بادشاہ نے اُن سے ملاقات کی پہلے عالم سے پوچھا اگر میرا بیٹا اپ کی شاگردگی میں آ جائے تو آپ اُسے کتنے عرصہ میں عالم بنا دو گے اُس نے جواب دیا کل آٹھ سے دس سال کا عرصہ لگے گا مگر شرط شہزادہ کی اپنی دلچسپی پر بھی ہے، اس کے بعد یکے بعد دیگر دوسرے عالموں سے بھی اس بابت استفسار کیا کسی نے سات، کسی نے نو، کسی نے آٹھ سال کا ٹائم پیریڈ دیا، اتنے میں ایک نے اسے چونکا دیا جب اُس نے کل عرصہ ایک منٹ کا بتایا، بادشاہ حیران ہوا اور اُس نے ایک منٹ کے لئے اپنے بیٹے کو اُن عالم کی شاگردگی میں دے دیا۔ عالم شہزادہ کو ایک طرف لے گیا اور اُسے کچھ بتا کر واپس لے آیا۔ اب جو اُس کا امتحان لیا گیا تو اُس نے پہلے ہی سوال پر اعتراض کردیا کہ یہ سوال ہی غلط ہےاور پوچھے گئے ہر سوال میں وہ اختلافی نقطہ نکال لیتے۔
معاملہ یہ سامنے ایا کہ اُستاد صاحب نے انہیں یہ ہی بات سیکھائی تھی کہ بیٹا کوئی کچھ بھی پوچھے اُس کی بات سے اختلاف کر لینا آپ کو لوگ عالم مانے گے۔ ایک دن اس ایک نقطہ سے وہ یوں مار کھا گیا کہ ایک بار کسی نے اُس سے کہا کہ "بادشاہ سلامت آپ کے والد محترم ہیں" تو ایک منٹ کے عالم جناب شہزادہ نے فورا کہا "حضرت میری ناقص رائے کے مطابق اس میں بھی اختلاف ہے"۔
ہمیں یہ لطیفہ ہمارے ایک دوست نے ہمارے ایک جملہ "اختلاف زندگی ہے اسے نفرت نہ بناو" کے جواب میں سنایا تھا۔
عملی زندگی میں ایسے ایک منٹ کے عالموں کی کافی بہتات ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

بوٹیاں نوچنے والے!

بعض معاملات پر جان بوجھ کر چُپ رہا جاتا ہے مگر ایک کنکر بولنے پر مجبور کر دیتا ہے، جن معاملات میں بولنا چاہئے ہم اکثر اس خوف سے کہ سامنے والے کا اختلاف مجھ سے نفرت میں نہ بدل جائے خاموشی اختیار کر لیتا ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی بعض صورتوں میں خاموشی منافقت کے ذمرے میں آتی ہے، لیکن یہ عمل کئی اعتبار سے بہتر ہے۔
اگر کہنے کو بات نہ ہو تو خاموشی بہتر ہے بجائے اس کے کہ تنگ کرنے کو بات کی جائے، کئی مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بات و خیالات میں بہت پختہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ کوئی دلیل و مثال بھی ہمیں اُس سے متزلزل نہیں کر سکتی یہاں تک کہ کئی حقیقتیں بھی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر وجہ فساد وہ تب بنتی ہے جب ہم دوسروں کو قائل کرنے بجائے اُن پر اپنی بات تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویئے سے جس قدر ممکن ہو اجتناب کرنا چاہئے اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئےکہ ممکن ہے جسے ہم افسانہ سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت ہو۔ بے موقعہ و بے ربط بات اس کے سوا اور کیا تاثر دے گی کہ ہم اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کے خواہش مند ہیں ،مان جاؤ یا ڈر جاؤ، انتہا پرستی کیا یہ ہی نہیں؟
انتہا پسندی کا یہ رویہ ہم میں سے ہر کسی میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
بزرگ کہتے ہیں بعض مرتبہ کانوں کا سنا اور آنکھوں کا دیکھا بھی دھوکہ ہو تا ہے۔ مگر رویے یہ بتاتے ہیں کہ یار لوگ پسند کا سنا جھوٹ تو سچ مان لیتے ہیں مگر پرکھے ہوئے سچ کو بھی ناپسندیدگی کی بنا پر رد کر دیتے ہیں۔
اللہ کے بندوں سیاست میں جو کہا جاتا ہے جو کیا نہیں جاتا، جو کیا جاتا ہے بتایا نہیں جاتا، جو مانگنا ہوتا ہے اُسے لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ بوٹیاں نوچنے والے اکثر چھوٹ لگنے کا رونا روتے ہیں، آگ لگانے والے پانی لاؤ کا شور مچاتے ہیں، گولیاں مارنے والے ارے مار دیا کا واویلا مچاتے ہیں، تب اُن کے چاہنے والے انہیں صدیوں میں پیدا ہونے والا مسیح بتاتے ہیں ۔
یہ باتیں کسی کے لئے لکھی ہیں!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ایک بار پھر کراچی اردو بلاگر میٹ اپ

کراچی کےاردو بلاگرز کی خواہش اور پُرزور مانگ کی بناء پر کراچی میں ایک بار پھر اردو بلاگرز کی ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لہذا کراچی کی کے اردو بلاگر سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شرکت کر کے ثواب کمائے۔ ممکنہ تاریخ 17 جنوری آنے والی اتوار اور جگہ ملیر میرا آفس ہے (جہاں پہلے ہوئی تھی)، دور رہنے والے افراد ٹیکسی والوں سے پہلے ہی بات کر لے تا کہ آخری وقت میں انکار و بہانہ نہ کرنا پڑے! دیگر خواہش مند احباب اپنے گھر سے مقام ملاقات تک آنی والی ممکنہ عوامی بس سروس کا نام دریافت کر لیں،۔ اردو محفل و انٹرنیٹ پر اردو کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے دوست بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ ذیل میں تبصرہ میں "لبیک" لکھ دے ، عین نوازش ہو گی۔
اگر دوستوں کو دشواری ہو تو دن، جگہ و وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
میزبان : منظرنامہ و چوراہا (عمار ٹھیک ہے)
ملاقات کا ایجنڈا کیا ہونا چاہئے اس پر بھی بات تبصروں میں کر لی جائے، کوشش ہو گی دوسرے شہروں میں موجود دوستوں سے بھی دوروان ملاقات بذریعہ فیس بک و ٹویٹر رابطہ ہو سکے (ابو شامل متوجہ ہوں)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←