قائد کی تصویر اور جمہوریت کے خلاف سازش

قائد کی تصویر اور جمہوریت کے خلاف سازش

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں تو گزشتہ ماہ کے آغاز میں یقین آپ نے شہر کی گلیوں و سڑکوں پر ایسے بینر دیکھے ہوں گے جن پر درج تھا "خود بھی جیو اور جینے دو، خدارا ملک میں بی بی کی قربانی کی بناء پر آنے والی جمہوریت کے خلاف سازشیں بند کر دو" منجانب پیپلز پارٹی فلاں فلاں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا مطلب کیا تھا؟ اگر نہیں تو آپ بھی میرے بھائی /بہن ہیں۔ اس بینر کو دیکھ کر یہ مھسوس ہوتا تھا جیسے منت سماجت ہو رہی ہو، ویسے تو ترلوں میں بڑی جان ہوتی ہے، سنا ہے دو طرح کے لوگ کرتے ہیں اول جو کمزور ہو دوئم جو جھوٹے ہوں، حکومت وقت کمزور ہو تی ہے کیا؟

یار لوگوں کا دعوی ہے کہ پاکستان اب قائد کا پاکستان نہیں رہا، البتہ وہ خود کنفیوز ہیں کہ آیا اب یہ پیپلزستان ہے یا جیالستان؟ یہ الجھن بھی ہے کہ یہ بھٹوستان ہے یا درحقیقت زردارستان؟ چند ایک احباب اپنے کافی وزنی دلائل سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ یہ اب امریکستان بن چکا ہے، کم از کم حکمرانوں کے لئے۔

موجودہ حکومت ایک جمہوری حکومت ہے، جس نے ایک "آمر" کی چھٹی کر وائی، کہ "آ" "مر"۔

اس جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ اب یار لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ایوان صدر سے محمد علی جناح جنہیں ایک قوم ہوا کرتی تحی پاکستانی وہ قائد اعظم بھی مانتی تھی کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ سازشیوں نے ثبوت کے طور پر چند ایک مثالیں بھی دی خاص کر کے ذیل کو تصویر کو پیش کرتے ہیں

June 25 – A group photograph of President Asif Ali Zardari with T-20 World Cup winning Pakistani Cricket Team at Aiwan-e-Sadr.

اب کوئی ثبوت دے کہ یہ اصلی ہے، خواں یہ سچ ہی کیوں نہ ہو کہ 26 جون کو سرکاری طور پر جاری کی گئی تھی، یہ اس کے اصلی ہونے کی کوئی وجہ تو نہیں ناں؟ اس سازش میں دراصل انگریزی اخبار "دی نیوز" کا ہاتھ ہے وہاں سے جیو و جنگ نے اسے اُٹھایا۔ بقول جیو کے

قانون کیا ہے بس روایت ہے، بقول فرخ نسیم کے

ممکن ہے کہ آپ کو ایسی پریس ریلیز ملتی" یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، اس میں "_____" کا ہاتھ ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم کسی کو ایسی سازش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گے، اب ایسے سازشی عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گے۔ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا، قوم جانتی ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عالمی جیمپین بننا بھی دراصل بی بی کی سالگرہ کے دن کے مرہون منت ہے، قوم ان سازشوں کا شکار نہیں ہو گی"۔ مگر سادہ سی تردید ہوئی ہے وہ بھی صرف وزیراعظم ہاوس کی، ایوان صدر کی نہیں۔

ایوان صدر کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی قائد کا پاکستان نہیں رہا تو قائد کی تصویر کیوں؟ بھٹو نے اپنی ایک ساتھی سے کہا تھا دیکھ پورے کراچی کی جو زمین اچھی لگے بے شک اُس کا سودا کر لینا مگر یہ جو "بابے" کو زمین کا ٹکڑا دیا ہے اس پر اپنی نظر بند نہیں ڈلنا ورنہ قوم تجھے نہیں چھوڑے گی اور بھٹو کا داماد جانتا ہے اب قوم کچھ نہیں کہتی لہذا قائد کی تصویر کو "ٹاٹا"۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
گوگل ٹرانسٹریشن

گوگل ٹرانسٹریشن

گوگل ٹرانسٹریشن ایک نہایت عمدہ فیچر ہے مجھے ابھی عالمی بلاگ کی ایک پوسٹ سے یہ علم ہوا کہ یہ اردو زبان کے لئے بھی ہے۔ یعنی آپ رومن اردو میں تحریر کریں اور یہ اُسے عربی رسم خط میں بدل کر یونیکورڈ اردو میں بدل دے گا؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاگر کے لئے کب آئے گا؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

وعدہ کی پاسداری

جی جناب، ملک میں عوامی حکومت ہے۔ عوام کا کیال رکحنے والی، وعدوں کا پاسدار، بھولتی نہیں ہے، اس کے نمائندے پارٹی کا وعدوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کو شش کرتی ہیں خواہ کسی بھی پوزیشن پر پہنچ جائیں تازہ مثال اپنے حاجی مظفر علی شجرہ صاحب کی ہے۔ جناب نے فرمایا ہے کہ "ہم نے جیل اصلاحات کی ہیں۔ پیپلزپارٹی روٹی‘ کپڑا اور مکان دینے کے وعدے پر قائم ہے جسے ان چیزوں کی ضرورت ہے وہ جیل آ جائے۔"
اور کچھ؟؟؟ ہون آرام اے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

خود کش بمبار لڑکے سے

سُرخ سیبوں جیسے گالوں والے خوبصورت لڑکے

تمھارا نام کیا ہے؟

کیا کہا عبدلقیوم ؟

ارے میرے منے کا بھی تو یہی نام ہے

وہ جو صبح اسی رستے سے اسکول گیا ہے

جس پہ تم جیکٹ پہنے جا رہے ہو

تمہیں کہیں ملا تو نہیں

شکر ہے اس وقت تک تو وہ اسکول پہنچ گیا ہو گا

اُس کے ابو اسی سڑک کی

ایک پولیس چوکی پہ پہرہ دے رہے ہیں

عبدلقیوم اُن سے روز گلے مل کے جاتا ہے

تم نے انہیں دیکھاتو نہیں؟

خدارا انہیں اپنا نام نہ بتا دینا

کہیں وہ تمہیں بھی گلے سے نہ لگا لیں

 

شاعر: نیلم بشیر _________________  بشکریہ: جہان رومی

مکمل تحریر پڑھیں ←

پاگل کون ہے؟؟؟

یار لوگوں کا کہنا ہے یہ دنیا اب کمرشلائزہو گئی ہے۔۔۔ معلوم نہیں کتنی ہو گئی ہے اور کتنی نہیں مگر یہ فیکٹ ہے کہ میڈیا میں کمرشل کی بہت اہمیت ہے، آخر سب کو پیٹ لگا ہے۔ ہم میں مختلف کمپنیوں کی آپس میں کمرشل کی شکل میں ہوتی چپقلش ہوتی دیکھی ہے۔ اب تازہ چپقلش پاکستان کی موبائیل سروس فراہم کرنی والی کمپنیاں یو فون اور زونگ کے درمیان ہے اول اول زونگ نے یہ اشتہار لانچ کیا۔

جواب یوفون کی جانب سے پاگل کے فتوی کے ساتھ یوں آیا۔۔

جوابی حملہ آج صبح یوں آیا ہے۔۔

آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

عرب بچوں کے قتل کی دھمکی خبر کیوں نہیں؟

امریکا کے یہودی جنگجو دانشور ڈینیل پائپس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ وقت گیا جب فتح وشکست کے فیصلے میدان جنگ میں ہواکرتے تھے‘ اب جنگوں کے فیصلے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز اور ادارتی صفحوں پر ہوتے ہیں۔ یہ صرف پائپس کی سوچ نہیں بلکہ ہر یہودی اس کا ادراک رکھتا ہے کہ دنیا پر تسلط کا خواب معاشی غلبے اور میڈیا پر قبضے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دنیا پر غلبہ کے لیے درکار ان دونوں چیزوں پر آج یہودیوں کاکنٹرول ہے۔ دنیا کا 98 فیصد میڈیا براہ راست یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ باقی پر بھی مختلف طریقوں سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی میڈیا خصوصاً باثر ابلاغی گروپوں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کے زیرکنٹرول ہیں۔ یہ غیرذمہ دارانہ بیان ہوسکتا ہے کیوں کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔

اب اگر پاکستانی میڈیالاعلمی میں یہودی مقاصد کو پورا کرتا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کو یہودیوںکے زیر کنٹرول قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ بڑے ابلاغی گروپوں کے پالیسی ساز عہدوں پر ایسے افراد فائز ہونے میں کامیاب ہوگئے ہوں جو یا تو معاشی منفعت کی خاطر یا پھرآزاد خیالی کے شوق میں ایساکرتے ہوں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کے کئی ٹی وی چینلز کے پالیسی سازاور نیوز کے شعبے میں کلیدی عہدوں پر وہ لوگ فائز ہیں جو بہت فخریہ انداز میں دین سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں گو کہ ان کے نام مسلمانوں کے سے ہیں۔ یہ بہترین پروفیشنل ہونے کے سبب ان جگہوں تک پہنچ کر نہ صرف نیوز اور ویوز یعنی خبر اور تجزیہ کے ذریعے اپنی ساری توانائیاں اسلام اور اسلام کے نام لیواوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں صرف کرتے ہیں بلکہ اس سے نچلی سطحوں پر بھرتی کا اختیار رکھنے کے سبب ایسے ہر فرد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو وضع قطع یا سوچ سے ذرا سا بھی اسلامی لگتا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ مالکان کو اس کا ادراک نہیں ہے‘ ورنہ غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے بے شک اپنے اداروں میں بھرتی کے غیر جانبدارانہ معیار کو یقینی بناتے۔ جب صورت حال یوں ہوتو ایسے میں پاکستانی ٹی وی چینلز سے پورا دن نام نہاد طالبان کی طرف سے عورت پر تشدد کی جعلی ویڈیو دکھانے کی شرمناک حرکت پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔

گزشتہ دنوں کسی بندہ خدا نے برطانیہ اور امریکا کے اخبارات میں خبروں کے تجزیہ پر مشتمل ایک ای میل بھیجی جس میں دکھایا گیا تھا کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی اپنی بیوی بچوں کو مار دے تو لکھا جاتا ہے کہ ”ایک آدمی نے بیوی‘ بچوں کا مار ڈالا“ لیکن جب مسلمان ایسا کرتا ہے تو سرخی جمتی ہے کہ”ایک مسلمان باپ نے بیوی بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا“ جبکہ بعض اخبارا ت میں مسلمان کے ساتھ دہشت گرد کا لفظ بھی لکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ وجہ وہی ہے۔ اس لیے جعلی ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو وحشی ‘ درندے اور ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے میڈیا نے جب ایک جنونی ربی کے بیان کو جگہ نہیں دی تو مجھے ذراسی بھی حیرت نہیں ہوئی۔ مانیٹرنگ کا اعلیٰ ترین نظام رکھنے والے اردو اور انگریزی زبان کے بڑے اخبارات اور معروف ٹی وی چینلز نے خبرنشر تو نہیں کی تاہم مجھے یقین ہے کہ ان اداروں میں بننے والی مسِنگ کی لسٹ میں بھی یہ خبر شامل نہیں ہوگی۔ ایک ربی کی صورت میں وحشی‘ درندہ اور دہشت گرد کا کہنا ہے کہ ”جنگ جیتنے کے لیے یہودیوں کو عرب مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو قتل کردینا چاہیے“ عمر البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والی‘ امریکا کے گھر کی لونڈی اقوام متحدہ ایسے بیانات کا نوٹس نہ لے تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن کوئی مسلمانوں کی نسلی کشی کا اعلان کرے اور مسلمان مذمت کے دو لفظ ادا نہ کریں تو اسے شرمناک اور افسوس ناک قرار دینا غلط نہ ہوگا۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز ‘ کے مطابق موومنٹ میگزین کے ایک سوال کے جواب میں شبد( فرقے کی) ربی ’فرائیڈ مین‘ نے کہا ہے کہ” اخلاقی جنگ لڑنے کا واحد طریقہ یہودی طریقہ ہے۔ان (عربوں)کے مقدس مقامات تباہ کرو۔ (ان کی) آدمی ‘عورتیں اور بچے ماردو“ ممکن ہے بعض لوگ کہیں ” یہ تو ایک آدمی کی سوچ ہے‘ اسے یہودیوں کی نمائندہ سوچ نہیں کہا جاسکتا‘ اس لیے ہم نے اسے اپنی خبروں میں جگہ نہ دی ‘ہم صرف مولوی عمر اور مسلم خان کو اپنی خبروں میں جگہ دیتے ہیں جو اسکول تباہ کررہے ہیں۔ہم ان کے Beepers لیتے ہیں۔ہیڈلائز میں رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی کہی بات خبر ہوتی ہے۔ ابلاغ عامہ میں پڑھا تھا کہ ’کتا کاٹے تو خبر نہیں ‘انسان کتے کو کاٹے تو خبر ہے‘ عملی صحافت میں آکر سب کچھ مختلف پایا۔ جو لوگ تعداد میں چند تھے ان کو اہم بنادیاگیا اور جو نمائندہ تھے‘ انتخابات سے عوامی نمائندگی ثابت کرچکے تھے ‘ ان کے لیے جگہ نہیں۔ معصوم بچوں ‘ عورتوں کے قتل کی ترغیب دینے کی خبر کے لیے بھی جگہ نہیں کیوں کہ اس سے یہود وہنود کی دوستی سے انکاری اسلام پسندوں کو فائدہ پہنچے گا ۔یا پھر یہودو ہنود کی وکالت کرنے والے دہریوں کو نقصان پہنچے گا‘ اس لیے یہ خبر نہیں۔“ دلیل کیا ہوگی؟ ایک غیر اہم آدمی کی پاگل پن کی بات۔ توآپ کو بتاتے چلیں کہ فرائیڈ مین کون ہیں؟ فرائیڈ مین 1772ءمیں شروع کی گئی سب سے بڑی یہودی تحریک Chabad کے سب سے موثر ربی ہیں۔ عام آدمی نہیں۔ ایک ٹی وی شو کے میزبان اور بسٹ سیلر ‘ایک کتاب کے مصنف ہیں‘ جس کو چار دفعہ شائع کیاجاچکا ہے اور ہر دفعہ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ان کے دیے گئے لیکچرز کی ڈیڑھ لاکھ سی ڈیز خریدی جاچکی ہیں۔فرائیڈ جس تحریک سے وابستہ ہیں اس کی چار ہزار چھ سو برانچز ہیں۔کیا یہ غیر موثر ہی؟ نہیں جناب ! یہ وہ تحریک ہے جس کے منشور پر امریکااور اسرائیل کی حکومتیں عمل درآمدکرہی ہیں۔ اتنے موثر آدمی کی مسلمانوں کو دھمکی کی خبر نہ بنے تو اس سے اپنے پاکستانی ٹی وی چینلز کو غیرپاکستانی چینلز قراردینے والوں کو تقویت ملے گی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان خصوصاً بڑے ابلاغی گروپ کے مالک اس بات پر غور کریں کہ کہیں ان کے پالیسی سازعہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہونے میں کام یاب تو نہیں ہوئے ہیںجو ان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو پاکستان ‘ اسلام اور پاکستانیوں کا نمائندہ بنانے کے بجائے اپنی مخصوص سوچ کی ترویج کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ اخبار اور ٹی وی چینلز ان کا کاروبار ہے‘ معاشی مفاد اپنی جگہ اہم اور یہ ان کا حق ہے لیکن میڈیا کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک اور مذہب کی ترجمانی کرے۔یقین جانیے یہ لبرل انتہا پسند مٹھی بھر ہیں۔ ناظرین کی اکثریت اسلام پسند اور محب وطن ہے۔ ملک وقوم کی ترجمانی چینلز کی پسندیدگی کا سبب بنے گی اور معاشی فائدہ کا بھی۔

تحریر: ابو سعود _________________________بشکریہ: جسارت

مکمل تحریر پڑھیں ←
احتیاط لازم ہے ورنہ

احتیاط لازم ہے ورنہ

باپ کے جیل جاتے ہی یوں تو بی بی سیاست میں لیڈر کے طور پر داخل ہو گئی تھیں، مگرباپ کی موت اور دوبارہ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی سیاست کا سنجیدگی سے آغاز کیا تو انہیں پنکی سے محترمہ بینظیر بھٹو بننا پڑا۔ نہ صرف لباس میں بلکہ اطوار کو بھی تبدیل کرنا پڑا خواہ عوام کو دیکھانے کے لئے ہی سہی جس میں سے ایک عادت جو اپنانی پڑی وہ خاص ہاتھ ملانےسے اجتناب تھا۔ ویسے یہ مختلف بات ہے کہ جیالے و پیپلزپارٹی کے لیڈر اُن کے مشرقی ہونی کی گواہی قسمیں کھا کھا کر مختلف فورم پر دیتے آئیں ہیں اور جبکہ کئی احباب یہ دعوی کرتے ہیں کہ بی بی گھر میں اکثر مغربی لباس زیب تنگ کرتی تھیں، اُن کی ایک ایسے ہی لباس میں موجود تصویر کو اصلی نہ ماننے پر بھی جیالوں کی اکثریت میدان میں موجود پائی جاتی ہے، بی بی ایک عالمی سطح کی سیاست دان بنی تو دہشت گردی کا شکار ہو گئی، یہ الگ سوال کہ کہ اُس مارا کس نے بیت اللہ نے یا ڈک چینی کے اسکواڈ نے؟ ہمارے ہاں جو مر جاتا ہے اُس کی صرف اچھائی کرنے کا رواج ہے لہذا بی بی ایک عظیم و نیک عورت تھی۔

بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ عملی اعتبار سے آصف زرداری کےہاتھ میں آ گئی ہے، اور اُن کےشریک بنے اُن کے بیٹے بلاول۔۔ بلاول نا سمجھ تھا تب ہی جناب کی اپنی ہم جنس پرست دوست کی ساتھ چند تصاویر نیٹ پر پائی گئی، مگر یار دوست زرداری کو سمجھ دار بتاتے ہیں۔ مگر پہلے انہوں نے سارہ پالین سے لپٹ جانے کی فرمائش کر ڈالی تھی، اب جناب سے کسی اور کے لپٹنے کی تصویرمنظر عام پر آئی ہے، جناب کی مسکراہٹ قابل غور ہے۔

Asif_Ali_Zardari_and_Daphne

بقول شخصے خلاف کرنے کے لئےکچھ اور بتانے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ یہ اسرائیلی صحافی ہے نام ہے Daphne Barak اور کزن ہیں سابق اسرائیلی وزیراعظم Ehud Barak کی۔ جناب احتیاط لازم ہے تصویر پر اعتراض نہیں انداز پر ہے، ورنہ پھر الزام بھی تو لگ سکتا ہے مردوں کی دنیا ہے۔۔۔۔۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

خوابِ محبت کی ایک متروک تعبیر

محبت کب کتابوں میں لکھی کوئی حکایت ہے؟
محبت کب فراقِ یار کی کوئی شکایت ہے؟


محبت ایک آیت ہے جو نازل ہوتی رہتی ہے
محبت ایک سرشاری ہے، حاصل ہوتی رہتی ہے


محبت تو فقط خود کو سپردِ دار کرنا ہے
انالحق کہ کے اپنے عشق کا اقرار کرنا ہے


محبت پر کوئی نگران کب مامور ہوتا ہے؟
محبت میں کوئی کب پاس اور کب دور ہوتا ہے؟


میں تنہائی میں تیرے نام کے ساغر لنڈھاتا ہوں
محبت کے نشے میں ڈوب کر میں لڑکھڑاتا ہوں


مرا دل ، عشق کے شعلے میں مدغم ہونے لگتا ہے
محبت کے سمندر میں تلاطم ہونے لگتا ہے


مجھے لگتا ہے جیسے ابرِ اُلفت چھانے والا ہے
میں جس کا منتظر رہتا ہوں ، شاید آنے والا ہے


محبت میری فطرت ہے، محبت میرا جیون ہے
محبت میرے ہاتھوں کی امانت، تیرا دامن ہے


شاعر: مسعود منور

مکمل تحریر پڑھیں ←
بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تفریح؟ کھیل و تفریح کا بنیادی فرق کیا ہے؟ اور بندر کی ذات تفریح کا کتنا سبب بنتی ہے؟ آیا کرکٹ سے ذیادہ یا کم؟ جی میں بندر کی بات کر رہا ہوں؟ آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں؟ اور یہ کہ بندر و کرکٹ میں کیا تعلق ہے؟

شاید اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ رائے آپ قائم کر سکیں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←